ہاں میں جاسوس تھا: کشمیر سنگھ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی جیل سے پینتیس برس بعد رہائی پا کر انڈیا پہنچنے والے کشمیر سنگھ نےاب اعتراف کیا ہے کہ وہ جاسوس تھے۔ وہ اس سے پہلے خفیہ اداروں کے لیے کام کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔ کشمیر سنگھ نے انڈیا کی حکومت پر تنقید کی کہ اس نے ان کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ کشمیر سنگھ نے کہا کہ وہ جیل میں گزری زندگی کے بارے میں یہ کہہ کر کچھ بتانے سے انکار کیا کہ اس سے پاکستانی جیلوں میں انڈیا کے قیدیوں کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں۔ کشمیر سنگھ کو انیس سو تہتر میں پاکستان میں جاسوسی کرنے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ انہوں راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انڈیا کی خبر رساں ایجنسی نے کشمیر سنگھ سے بیان منسوب کیا کہ ’مجھے جاسوس کی حیثیت سے جو ذمہ داری سونپی گئی تھی میں نے نبھائی‘۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ان کی گرفتاری کے بعد کسی بھی حکومت نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا اور ان کے خاندان کو ایک پائی تک نہیں ملی۔ کشمیر سنگھ قید کی زندگی کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کر رہے تھے تاہم انہوں نے اتنا بتایا کہ انہوں نے سترہ برس زنجیروں میں گزارے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر سنگھ کو غیر مشروط طور پر رہا کیا گیا اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سے انڈیا اور پاکستان میں مزید قیدیوں کی رہائی کے لیے راہ ہموار ہو گی۔ |
اسی بارے میں پینتیس برس بعد کشمیر آزاد03 March, 2008 | پاکستان بھارتی قیدی: پینتیس برس بعد رہائی29 February, 2008 | پاکستان ایک سو چونتیس انڈین قیدی رہا13 August, 2007 | پاکستان بھارتی قید سے 70 پاکستانی قیدی رہا14 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||