BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 March, 2008, 21:53 GMT 02:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہاں میں جاسوس تھا: کشمیر سنگھ
کشمیر سنگھ
کشمیر سنگھ کی رہائی صدر مشرف کی طرف سے معافی کے بعد ممکن ہوئی
پاکستانی جیل سے پینتیس برس بعد رہائی پا کر انڈیا پہنچنے والے کشمیر سنگھ نےاب اعتراف کیا ہے کہ وہ جاسوس تھے۔ وہ اس سے پہلے خفیہ اداروں کے لیے کام کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔ کشمیر سنگھ نے انڈیا کی حکومت پر تنقید کی کہ اس نے ان کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کیا۔

کشمیر سنگھ نے کہا کہ وہ جیل میں گزری زندگی کے بارے میں یہ کہہ کر کچھ بتانے سے انکار کیا کہ اس سے پاکستانی جیلوں میں انڈیا کے قیدیوں کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں۔

کشمیر سنگھ کو انیس سو تہتر میں پاکستان میں جاسوسی کرنے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ انہوں راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

انڈیا کی خبر رساں ایجنسی نے کشمیر سنگھ سے بیان منسوب کیا کہ ’مجھے جاسوس کی حیثیت سے جو ذمہ داری سونپی گئی تھی میں نے نبھائی‘۔

انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ان کی گرفتاری کے بعد کسی بھی حکومت نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا اور ان کے خاندان کو ایک پائی تک نہیں ملی۔

کشمیر سنگھ قید کی زندگی کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کر رہے تھے تاہم انہوں نے اتنا بتایا کہ انہوں نے سترہ برس زنجیروں میں گزارے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر سنگھ کو غیر مشروط طور پر رہا کیا گیا اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سے انڈیا اور پاکستان میں مزید قیدیوں کی رہائی کے لیے راہ ہموار ہو گی۔

 کشمیر سنگھکشمیرسنگھ کی آزادی
پینتیس برس بعد کشمیر سنگھ کی رہائی
سالنامہپیشرفت کا سال
پاک بھارت تعلقات میں مثبت پیشرفت کا سال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد