BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 March, 2008, 12:13 GMT 17:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جنگی میدان سے آگے جاکر کام کیا‘

بلبیر سنگھ
بلبیر سنگھ کو آج بھی حکومت سے مدد کی درکار ہے۔
35 برس بعد کشمیر سنگھ کی رہائی ہوئی، اور انکی رہائی کو میڈیا میں زبردست کوریج دی گئی ہیں اور اطلاعات ہیں کہ ریاستی حکومت نے انہیں ایک گھر اور دیگر اعزازت سے بھی نوازہ ہے۔ لیکن کشمیر سنگھ کے علاوہ ایسے بھی قیدی ہیں جو پاکستان کی جیلوں میں سزا کاٹ رہے ہیں یا کاٹ چکے ہیں۔ حکومت انکے لیے کیا کرتی ہے؟

ایسے ہی ایک جاسوس بلبیر سنگھ ہیں جو جون 1973 میں کشمیر سنگھ کے ساتھ ہی راولپنڈی میں گرفتار ہوئے تھے وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے جنگ کے میدان سے آگے جاکر حکومت کے لیے کام کیا لیکن حکومت نے نہ تو ان کی رہائی کی کوشش کی اور نہ ہی اس کے بعد کوئی معاوضہ دیا گیا ہے۔

بلبیر سنگھ کی عمر تقریبا 60 برس ہے۔ 1986 میں وہ واپس ہندوستان آئے۔ انکا کہنا ہے کہ وہ اور کشمیر سنگھ ساتھ گرفتار ہوئے تھے ’ جس آدمی نے پاکستان میں انہیں گرفتار کرایا اس نے جاسوسی کا الزام ثابت کر دیا۔‘

بلبیر سنگھ پاکستان میں اپنی سزا کے بارے میں بتاتے ہیں ’میں حکومت کی طرف سے جاسوسی کر رہا تھا۔ شروع میں کشمیر سنگھ اور میں ایک ہی جیل میں تھے۔ ٹارچر بھی ایک ساتھ ہی کیا گیا۔ اس کے بعد ہمیں لاہور بھیج دیا گیا۔ وہاں مجھے دس برس کی سزا ہوئی اور کشمیر سنگھ کو سزائے موت ۔ سزا کے بعد بھی ہم دونوں دس گیارہ مہینے ایک ساتھ رہے۔ لاہور کے بعد میانوالی بھیج دیے گئے۔ وہاں ڈیڑھ دو برس گزارنے کے بعد ہمارا چلان نکل گیا۔ ہمیں بھاولپور بھیج دیا گیا۔ بھاولپور میں کشمیر سنگھ اور میں کچھ دن ساتھ رہے ۔‘

کشمیر سنگھ
کشمیر سنگھ کی رہائی صدر مشرف کی طرف سے معافی کے بعد ممکن ہوئی

بلبیر سنگھ مزید بتاتے ہیں کہ بھاولپور میں کچھ وقت گزارنے کے بعد انکی سزا کی مدت پوری ہوگئی تھی۔ لیکن ان کی رہائی کا عمل آسان نہیں تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’ دس سال کی سزا کاٹنے کے بعد میں نے انسانی حقوق کے کارکنان سے رابط قائم کیا۔ اس کے بعد ایک دن جیل میں ایک انسپکٹر جنرل آیا اس کے سامنے ہم نے واپس وطن بھیجنے کی بات رکھی۔ آئی جی نے ہمیں بتایا کہ ’ تمہاری حکومت تمہیں واپس نہیں لینا چاہتی ہے ‘۔

بلبیر سنگھ مزید بتاتے ہیں کہ انکے ساتھ ایک جموں کا شہری بھی پاکستان میں سزا کاٹ چکا تھا اس نے انسپکٹر جنرل سے کہا کہ ’ ہمیں کراچی بھیج دو اور وہاں سے سمندر میں دھکہ دے دینا تاکہ ہم وطن واپس جا سکیں‘۔

تمام کوششوں کے بعد ایک رات بلبیر سنگھ اور تقریباً 40 قیدیوں کو پاکستانی اہلکاروں نے رات کے اندھیر ے میں سرحد کے راستے وطن واپس بھیج دیا۔ بلبیر سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ رہا ہونے والوں میں بیشتر ماہی گیر تھے۔

پاکستان کی مختلف جیلوں میں برتاؤ کے بارے میں بلبیر سنگھ بتاتے ہیں کہ جب جب پاکستان اور ہندوستان کے رشتے بہتر ہوتے تھے قیدیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جاتا تھا لیکن جیسے ہی کوئی بری خبر آتی تھی ویسے ہی قیدیوں کے ساتھ جیل اہلکاروں کا رویہ بھی بدل جاتا تھا۔ ’اگر ہم کہتے کہ دال خراب ہے تو وہ اس میں اور پانی ڈال دیتے تھے اور وہ ہی ہمیں کھانی پڑتی تھی۔‘

وطن واپسی کے بعد بلبیر سنگھ نے حکومت سے معاوضے کے لیے تمام کوششیں کیں لیکن کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ سرکاری اہلکار کہتے ہیں کہ ’ تمہاری رہائی کے وقت جو اہلکار تھے وہی تمہیں معاوضہ دلا سکتے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیے کہ ان اہلکاروں کو میں کہاں ڈھونڈوں؟‘

لیکن بلبیر سنگھ کا کہتے ہیں کہ ’ ہمارے ساتھ جو بھی برتاؤ ہوا وہ چھوڑو لیکن کشمیر سنگھ کی رہائی کے بعد پاکستان کی جیلوں میں قید ہندوستانی اور ہندوستانی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ جو کہ ایک خوشی کی بات ہے۔ ‘

 کشمیر سنگھکشمیرسنگھ کی آزادی
پینتیس برس بعد کشمیر سنگھ کی رہائی
سالنامہپیشرفت کا سال
پاک بھارت تعلقات میں مثبت پیشرفت کا سال
مذاکراتتوقعات اور حقائق
مذاکرات کے ایک اور دور کا پیر سے آغاز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد