BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 December, 2008, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی حملے اور جہادیوں کے اصل مقاصد

ممبئی حملے
ممبئی کے حملوں کو مغرب میں لندن کے سات جولائی کے حملوں سے زیادہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے
نومبر کے آخری ہفتے میں ممبئی میں ڈرامائی دہشتگرد حملے کی بازگشت جاپان سے لے کر امریکہ تک سنی گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بازگشت مزید اونچی ہوتی جا رہی ہے۔ گیارہ ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے بعد یہ کسی کی بھی ملک پر شاید سب سے بڑا دہشت گرد حملہ ہے۔

ممبئی کے حملوں کو مغرب میں لندن کے سات جولائی کے حملوں سے زیادہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ کچھ مشاہدین کا خیال ہے کہ پاکستان کو دہشت گرد تنظیموں کی مدد روکنا ہی پڑے گی۔

کیا پاکستان ایسا کرے گا؟ یا کیا پاکستان ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں گیارہ ستمبر کے بعد کے واقعات پر ایک نظر ڈالنا پڑے گی۔

گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی برادری کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ پاکستان کا اپنا فیصلہ نہیں تھا۔ یہ پاکستان کی مجبوری تھی۔ ایک طرف امریکہ نے پاکستان کو ’پتھر کے زمانے میں دھکیلنے‘ کی دھمکی دی ہوئی تھی اور دوسری طرف پاکستان کو یہ خطرہ بھی کہ امریکہ بھارت سے مدد حاصل کر سکتا تھا۔

پاکستان نے بنیادی طور پر انہیں دو وجوہات کی وجہ سے گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔

 گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی برادری کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ پاکستان کا اپنا فیصلہ نہیں تھا۔ یہ پاکستان کی مجبوری تھی۔
مبصرین کے مطابق اس کے ساتھ ہی اس وقت کی فوجی حکومت نے فیصلہ کیا کہ امریکہ کی ضرورت سے زیادہ مدد نہیں کی جائے گی۔ کہا گیا کہ فوجی حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ افغان طالبان اور کشمیر میں لڑنے والے پاکستانی اور کشمیریوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی اور وقت آنے پر ان کو دوبارہ جہاد میں شامل کر لیا جائے گا۔ القاعدہ کا معاملہ ذرا مختلف تھا۔ پاکستانی فوج کی سٹریٹیجک سوچ میں القاعدہ جیسی بین الاقوامی تنظیم کے لیے خاص جگہ نہیں تھی اور اس کے اور اس کے خلاف کارروائی ہو سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے القاعدہ کے سینکڑوں دہشت گردوں کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر دیا مگر طالبان کو امریکی حملے سے پہلے ہی کابل چھوڑنے کے لیے مشورہ دیا اور ان کے قائدین کو سرحد کے قبائلی علاقے اور بلوچستان میں پناہ دی۔

پاکستان کی اس پالیسی کو سب سے پہلے دھچکا اس وقت لگا جب دسمبر 2001 میں دہلی میں بھارت کی پارلیمان پر حملہ ہوا اور اس کا الزام پاکستان میں سرگرم جہادی تنظیم لشکرِ طیبہ پر عائد ہوا۔ یہ حملہ اس وقت تک سب سے بڑا ڈرامائی حملہ تھا۔ نتیجاً بھارت نے پاکستان سے تقریباً تمام تعلقات ختم کر لیے اور اپنی فوج کو جنگ کی تیاری کا حکم دے دیا۔ پاکستان اور بھارت میں جنگ صرف چند گھنٹے کا فرق تھا۔ ان حالات میں پاکستان کی فوجی حکومت نے بھارت کے ساتھ جنگ سے بچنے کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی اپنائی۔ بارہ جنوری 2002 کو جنرل پرویز مشرف نے ایک ایسی تقریر کی جس نے مغربی دنیا کے دل جیت لیے۔ جنرل مشرف نے اپنی تقریر میں چند دہشت گرد تنظیموں بشمول مرکِز دعوت الارشاد اور اس کی عسکری شاخ لشکرِ طیبہ پر پابندی لگا دی۔ غصے اور جذبات سے بھری اس تقریر میں جنرل مشرف نے اسلامی دہشت گردوں اور اسلام پسندوں پر جی بھر کے تنقید کی۔

 بارہ جنوری 2002 کو جنرل پرویز مشرف نے ایک ایسی تقریر کی جس نے مغربی دنیا کے دل جیت لیے۔ جنرل مشرف نے اپنی تقریر میں چند دہشت گرد تنظیموں بشمول مرکِز دعوت الارشاد اور اس کی عسکری شاخ لشکرِ طیبہ پر پابندی لگا دی۔
جنرل مشرف کی اس تقریر کے بعد مغرب خاص طور پر امریکہ نے بھارت پر پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے خاص طور پر دباؤ ڈالا۔

جنرل مشرف نے اپنی اس کامیابی کے بعد ایسی کئی تقریریں کیں۔ وہ مغرب میں اسلام پسندی کے خلاف ایک ہیرو کے طور پر ابھرے۔ یہ اس تقریر کی بدولت تھا کہ مغرب خاص طور پر امریکہ نے کئی سال پاکستان میں زمینی حقیقت پر نظر نہیں ڈالی اور اپنی توجہ عراق کی طرف کر لی۔

مگر حقیقت اس کے برخلاف تھی۔ پاکستان کی فوجی حکومت نے 2002 کی پہلی سہ ماہی کے دوران تقریباً دو ہزار دہشت گردوں کو گرفتار کیا اور بہت سے شدت پسندوں کے دفاتر بند کر دیئے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ جن دہشت گرد نتظیموں پر پابندی لگائی گئی تھی ان کو مختلف ناموں کے ساتھ کام کرنے سے نہیں روکا گیا۔ مرکز دعوۃ الارشاد نے جماعۃ الدعوۃ کے نام سے اپنا کام اور مشن جاری رکھا۔ چند مہینوں کے بعد جب بھارت نے سرحد سے اپنی فوجیں ہٹانا شروع کیں، تو پاکستان کی حکومت نے بھی بغیر کسی اعلان کے عسکریت پسندوں کو رہا کرنا شروع کر دیا۔

آئندہ چند برسوں میں جہادی تنظیموں نے ایک نئی اور مختلف حکمت عملی ترتیب دی۔ اس نئی حکمت عملی کے تحت مجاہدین نے نہ صرف بھارتی کشمیر میں اپنی جہادی کارروائیاں جاری رکھیں بلکہ ان جہادی کارروائیوں کو بھارت کے اندر بھی پھیلا دیا۔

دنیا پاک بھارت تعلقات کو کشمیر میں عسکریت پسندی کے اتار چڑھاؤ سے دیکھ رہی تھی اور لشکر طیبہ بھارت کے بڑے شہروں میں اپنا جہادی ڈھانچہ قائم کر رہی تھی۔

اسی دوران وہ کبھی کبھی بھارت کے بڑے شہروں میں جہادی کارروائیاں کرکے دین کی نبض بھی چیک کر لیتی تھی۔ سن 2004 کے بعد طالبان بھی آہستہ آہستہ متحرک ہونا شروع ہو گئے۔ طالبان کی کارروائیوں نے امریکہ کو مجبور کیا کہ وہ اپنی پاکستان پالیسی پر نظر ثانی کرے۔

 جن دہشت گرد نتظیموں پر پابندی لگائی گئی تھی ان کو مختلف ناموں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت بھی دے دی گئی۔مرکز دعوۃ الارشاد نے جماعۃ الدعوۃ کے نام سے اپنا کام اور مشن جاری رکھا۔ چند مہینوں کے بعد جب بھارت نے سرحد سے اپنی فوجیں ہٹانا شروع کیں، تو پاکستان کی حکومت نے بھی بغیر کسی اعلان کے دہشت گردوں کو رہا کرنا شروع کر دیا۔
سن 2006 کےدوران امریکہ نے جنرل مشرف کو مجبور کیا کہ وہ سن دو ہزار آٹھ میں ہونے والے قومی انتخابات کے بعد پی پی پی کو حکومت میں شامل کرے۔

یہاں سے جنرل مشرف کے زوال کی کہانی شروع ہوگئی۔ جنرل مشرف کو زندگی میں پہلی مربتہ ایک سیاست دان کے ساتھ ڈیل کرنا پڑی۔ فوج میں جنرل مشرف اپنی تمام ساکھ کھو چکے تھے۔ اور فوج انہیں بینظیر بھٹو اور دوسرے سیاست دانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ سپورٹ نہیں کر رہی تھی۔

امریکہ اور فوج کے اندر کے دباؤ نے جنرل مشرف کو وردی اتارنے پر مجبور کر دیا اور انہوں نے فوج کی کمان جنرل اشفاق کیانی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔

جنرل اشفاق کیانی نے پاکستان فوج کی کمان ایک ایسے وقت سنبھالی ہے جب پاک فوج میں اسلام پسندوں کا اثرو رسوخ بہت بڑھ گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی فوج کی اکثریت امریکہ کے ساتھ اتحاد کے خلاف ہو چکی تھی۔یہی وجہ ہے کہ جنرل کیانی کے کمان سنبھالنے کے کچھ ہی عرصے بعد پاکستان میں جہادی تنظیموں نے دوبارہ کھل کا کام شروع کر دیا۔

دوسری طرف انتخابات کے فوراً بعد پاکستان پیلز پارٹی کے رہنماء آصف زرداری نے کھل کر بھارت کے ساتھ دوستی اور امن کی باتیں کرنا شروع کر دیں۔ انہوں نے پہلی دفعہ کشمیر میں لڑنے والے ’مجاہدین‘ کو دہشتگرد کہا۔ زرداری کے بیانات نے جہادیوں اور ان کے حامیوں میں کھلبلی مچا دی۔ 1999 میں جب اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے بھارت کے ساتھ امن اور دوستی کی بات شروع کی تو اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے کارگل میں کارروائی کر کے اس کو ناکام بنا دیا۔ ممبئی میں کے حملوں نے موجودہ حکومت کی امن کے لیے تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ اور یہی اس کا سب سے بڑا مقصد تھا۔

(عارف جمال آجکل نیویارک یونیورسٹی کے سینٹر آن انٹرنیشنل کوآپریشن میں فیلوشپ کر رہے ہیں اور ان کی کتاب ’شیڈو وار: دی انٹولڈ سٹوری آف وار ان کشمیر‘ جلد ہی شائع ہونے والی ہے)

کچھ ہوا حاصل ۔ ۔ ۔
کیا دعوۃ پر پابندی بھارت کے لیے کافی ہو گی؟
اپنے فیصلے خود
لیکن ایسا کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا
تاج ہوٹل(فائل فوٹو)’فضائی خلاف ورزی‘
صورتحال کی سنجیدگی کی ایک اور مثال
انڈین میڈیا ذمہ دار
’جنگ کے نعرے، قیادت نہیں انڈین میڈیا ذمہ دار‘
جماعت الدعوۃ پولیس نہیں آئی
مرکز طیبہ،’ کئی دنوں سے پولیس نہیں آئی‘
الدعوۃ سکول کا مظاہرہپابندیوں کے بعد
الدعوۃ سکول کے بچوں کا مظاہرہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد