آصف فاروقی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
| | ممبئی پر گزشتہ ہفتے ہونے والے شدت پسندانہ حملے کے دوران تاریخی تاج محل ہوٹل کو بھی نشانہ بنایا گیا |
پاکستان نے بھارت کو ممبئی حملوں کی تحقیقات کے لئے مشترکہ ٹیم تشکیل دینے کی پیشکش کی ہے۔ یہ پیشکش پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے منگل کے روز سرکاری ٹیلی وژن پر پاک بھارت تعلقات کے بارے میں ایک پالیسی بیان میں کی۔ مسٹر قریشی کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں پر انہوں نے بھارت کے سفارتی احتجاج کے جواب میں اپنے مکمل تعاون کی پیشکش کی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان نے پہلے بھی کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ ممبئی حملوں کی تحقیقات میں تعاون کے لئے تیار ہے۔ ’میں نے بھارت کو مشترکہ کمیشن کی پیشکش کی ہے کہ ہم ملکر اس بات کی تہہ تک پہنچنے کے لئے تیار ہیں۔ اور ایسی ٹیم کی تشکیل کے لئے تیار ہیں جو آپ کی اس تفتیش میں مدد کرے۔‘ تاہم وزیر خارجہ نے اس ٹیم کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی۔  | | | ہندوستان کے نائب وزیر داخلہ شکیل احمد کے مطابق سبھی حملہ آور پاکستانی تھے۔ |
اپنے پالیسی بیان میں وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں پاکستان کی فوج اور حکومت متحد ہیں اور اپنے ملک اور نظریے کے دفاع کے لئے پوری طرح تیار بھی۔ اس سے پہلے پاکستان میں موجود غیر ملکی سفیروں کو علاقائی صورتحال کے بارے میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے تفصیلی بریفنگ دی۔ دفتر خارجہ کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ بریفنگ کا مقصد دونوں ملکوں کے میڈیا کی جانب سے خطے کے حالات کے بارے میں غلط تاثر کو زائل کرنا بھی ہے۔ بریفنگ میں بھارت کے علاوہ تقریباً سبھی ملکوں کی نمائندگی موجود تھی جنہیں اس بریفنگ میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ دوسری جانب بھارت کی جانب سے مطلوب افراد کی فہرست پاکستان کے حوالے کر دی گئی ہے جنکے بارے میں بھارتی حکومت کا دعوٰی ہے کہ یہ لوگ انڈیا میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں اور پاکستان میں مقیم ہیں۔ اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فہرست سوموار کے روز نئ دہلی میں بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستانی سفیر شاہد ملک کے حوالے کی۔ یہ فہرست آج پاکستانی دفتر خارجہ میں وصول کر لی گئی ہے۔ |