اسلام آباد: سفارتی مصروفیات تیز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سیکرٹری خارجہ نے بھارتی ہائی کمشنر سمیت دیگر ممالک کے سفیروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے جمعہ کے روز پاکستان میں متعین بھارت کے ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کیا اور ان سے ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بات چیت کی گئی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ سکیرٹری خارجہ سلمان بشیر اور بھارتی ہائی کمشنر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’موجودہ صورتحال اور دونوں ممالک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا کم ہونا بہت ضرروی ہے۔‘ انہوں نے ایک سوالے کے جواب میں کہا کہ ملاقات میں سکیرٹری خارجہ نے صرف بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے حوالے سے بات کی ہے اس کے علاوہ ممبئی میں ہونے والے واقعات سے متعلق شواہد فراہم کرنے سمیت کسی اور معاملے پر بات چیت نہیں کی گئی ہے۔ واضع رہے کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں فوج کے کچھ یونٹوں کی چھٹیاں منسوخ کی دی ہیں جبکہ چند روز پہلے بھارت کی طرف سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد پاکستان کی فضائیہ پہلے سے ہی ہائی الرٹ پر ہے۔ دوسری جانب بھارت نے بھی پاکستان کی سرحدوں کی نگرانی شروع کی دی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے بتایا کہ سیکرٹری داخلہ نے جمعہ کے روز سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران ( چین ، برطانیہ ، امریکہ ، روس ، فرانس)کے سفیروں سے ملاقات کی ہے اور انہیں بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ہے۔ سیکرٹری داخلہ نے سعودی عرب، ترکی اور ایران کے سفیروں سے بھی ملاقات کی ہے۔ محمد صادق نے کہا کہ ہمیں ضرورت محسوس ہوئی تھی جس کی وجہ سے ہم نے ان تمام ممالک ے سفیروں کو بریفنگ دینے کے لیے دفتر خارجہ طلب کیا تھا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ بھارت کے دورے پر ہیں۔ پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چین اور ایران کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔ سوموار کے روز بھارت کے وزیر خارجہ نے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ بین الاقوامی برادری پاکستان پر دباؤ ڈالے کہ وہ دہشت گردوں کے ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ | اسی بارے میں ’افغان سرحد سے محدود واپسی شروع‘26 December, 2008 | پاکستان قبائلی علاقے،فضائی آپریشن محدود25 December, 2008 | پاکستان الفیصل، بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات26 December, 2008 | انڈیا ’بھرپور جواب کی صلاحیت ہے‘25 December, 2008 | پاکستان ’پاکستان کوسبق ضروری مگر جنگ نہیں‘26 December, 2008 | انڈیا پاکستان سرحد کی نگرانی: بھارت26 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||