BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 December, 2008, 14:05 GMT 19:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی علاقے،فضائی آپریشن محدود

فضائیہ کے طیاروں نے سرحدی علاقوں کی نگرانی تیز کر دی ہے۔
پاکستانی فوجی ذرائع کے مطابق ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر پاکستانی فضائیہ کا قبائلی علاقوں میں کئی ماہ سے جاری آپریشن محدود کر دیا گیا ہے۔

پاکستانی حکمتکاروں کا کہنا ہے کہ بارہ دسمبر کو’ہندوستانی فضائیہ کے ایک لڑاکا طیارے کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد پاکستان کی مسلح افواج کی فارمیشنز میں بعض غیر اعلانیہ تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کے بارے میں امریکی فوجی حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔‘

ان ذرائع کے مطابق پاکستان کی فضائیہ نے گزشتہ چند ماہ میں قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن میں جس قوت کے ساتھ حصہ لیا ہے اتنی فضائی قوت کسی جنگ میں بھی استعمال نہیں کی گئی لیکن اب اس آپریشن کو محدود کر دیا گیا ہے۔

اسی بنیاد پر خیبر ایجنسی میں آئندہ چند روز میں متوقع فوجی آپریشن کو بھی مؤخر کر کے اسکی اطلاع بھی پاکستان کے دورے پر آئے امریکی چیف آف سٹاف ایڈمیرل مائک مولین کو دے دی گئی تھی جنہوں نے امریکہ پہنچنے کے بعد ایک بیان میں واضح طور پر کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے اثرات شمالی پاکستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

ایک حملہ آور ممبئی پولیس کی حراست میں ہے

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس خیبر ایجنسی میں اس متوقع آپریشن پر تبصرہ کرنے کے لئے دستیاب نہیں ہو سکے تاہم قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں سے باخبر ایک اور فوجی افسر نے تصدیق کی کہ خیبر ایجنسی میں پاک فوج کی نقل و حمل جاری ہے۔

تاہم انہوں نے اس نقل و حمل کو معمول کی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ زیر کارروائی علاقوں میں فوجی دستوں کی تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر ایجنیسی کے علاقے درہ آدم خیل میں فوج کی عملداری بڑھنے کے بعد وہاں فوج کی بڑی تعداد کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

صدر پاکستان آصف علی زرداری کے قریب سمجھے جانے والے ایک رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ اس تمام صورتحال کے دوران پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے درمیان بہت قریبی اور بعض موقعوں پر نجی نوعیت کی گفتگو بھی ہوئی جس میں سیاسی اور سفارتی سطح پر اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی مشاورت کی گئی۔

کہا جاتا ہے کہ پاک فوج کے اثرورسوخ کو بعض سیاسی اور سفارتی نتائج کے حصول کے لئے استعمال بھی کیا گیا۔

اس پس منظر میں پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت مطمئن ہے کہ ’بھارت کے جارحانہ طرز عمل کا سیاسی، سفارتی اور عسکری محاذوں پر دانشمندی سے مقابلہ کیا گیا ہے اور ان تینوں محاذوں پرملکی پوزیشن گزشتہ چند روز میں بہت بہتر ہوئی ہے۔‘

پاکستانی حکمتکار یہ سمجھتے ہیں کہ ممبئی حملوں نے خطے میں جس کشیدگی کو جنم دیا ہے وہ شاید کئی برسوں تک ختم نہ ہو سکے لیکن ان کی حکمت عملی نے بھارت کو فوجی، سفارتی اور سیاسی سطح پر اس مقام پر زیادہ دن قائم نہیں رہنے دیا جو اس نے ’ممبئی حملوں کے بعد بین الاقوامی برادری کی ہمدردی، پرجوش سیاسی بیانات اور پاکستان کے اندر محدود فضائی حملوں یا سرجیکل سٹرائیکس کی منصوبہ بندی کر کے حاصل کر لیا تھا۔‘

پاکستانی قیادت اپنی سب سے بڑی کامیابی ان کے ’اس مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کئے جانے کو قرار دے رہے ہیں کہ ان ممبئی حملوں میں پاکستانی ریاست یا اسکا کوئی ادارہ ملوث نہیں ہے۔‘

ممبئی پر حملوں میں تقریباً دو سو افراد ہلاک ہوئے

ذرائع کے مطابق ’جس واضح انداز میں پاکستانی فوجی قیادت نے امریکی فوجی قیادت کو بتایا کہ پاکستان میں محدود فضائی حملے خطے میں ایک مکمل جنگ کا باعث بنیں گے، اس نے پاکستان کی اطلاعات کے مطابق بھارت کو پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیکس کے منصوبے پر از سر نو غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔‘

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے، باخبر عسکری ذرائع کے مطابق، پیر کی شب گئے ایڈمرل مولن کو بتایا تھا کہ پاکستان کے پاس ایسی مصدقہ اطلاعات موجود ہیں کہ بھارتی فضائیہ پاکستان کے اندر بعض مقامات پر حملوں کی تیاریاں مکمل کر چکی ہے۔

بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایڈمرل مولن کو اس بھارتی ایس۔یو تیس جہاز کی تصاویر بھی دکھائی گئیں جو تمام اسلحے سے لیس پاکستان کے صوبے پنجاب کے مرکز میں واقع فوجی چھاؤنی کھاریاں کے اوپر سے پرواز کر رہا تھا۔

عسکری ذرائع کے مطابق جس جہاز نے بارہ دسمبر کے روز لاہور سیکٹر میں پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اسے پہلے سے منتظر پاکستانی لڑاکا طیاروں نے اپنی ’فائرنگ رینج’ میں لے لیا تھا لیکن مار گرانے سے پہلے دی جانے والی تنبیہ پر اس طیارے نے واپسی کا راستہ اختیار کر لیا تھا۔ اس بھارتی طیارے کو مگ انتیس جہازوں کی ایک ٹکڑی کی پشت پناہی یا بیک اپ سپورٹ بھی حاصل تھی جو بھارتی فضائی حدود سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد