BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 December, 2008, 10:44 GMT 15:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افغان سرحد سے محدود واپسی‘

فوجی حکام کے مطابق مشاہدے میں آنے والی فوجی نقل و حرکت معمول کی ہے
پاکستانی فوج کے ایک سینئر اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر افغانستان کی سرحد پر تعینات پاکستانی فوجیوں کے محدود انخلاء کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

فوجی حکام کے مطابق کچھ یونٹس کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

فوج کے سینئر اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاک افغان سرحد پر تعینات صرف ان فوجیوں کو واپس بلایا جا رہا ہےجو قبائلی علاقوں میں جاری فوجی کاروائیوں میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان کے نامہ نگار نے جنوبی وزیرستان سے فوجیوں سے بھرے چالیس ٹرک علاقے سے باہر جاتے دیکھے ہیں۔ایک سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پاکستان کےقبائلی علاقوں جنوبی اور شمالی وزیرستان، باجوڑ، درہ آدم خیل، ڈیرہ اسماعیل خان سے پاکستانی فوج کے جوان مشرقی سرحد کی طرف روانہ ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا بھی کہنا ہے کہ انہوں نے بعض قبائلی علاقوں سےگاڑیوں میں سوار درجنوں فوجیوں کو نکلتے ہوئے دیکھا ہے۔ادھر ملک کے مختلف شہروں پر پاکستان فضائیہ کے طیاروں کی پروازیں جاری رہیں جو حکام کے مطابق معمول کی تھیں۔

سینئر فوجی اہلکار کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود کشیدہ صورتحال کے تناظر میں فوجیوں کی چھٹیاں محدود کردی گئی ہیں۔انہوں نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ نہیں بلکہ محدود کردی گئی ہیں جس کا مطلب ہے کہ انہیں صرف ضروری نوعیت کی چھٹیاں ہی مل سکتی ہیں۔

اس سے قبل ایک اعلٰی فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ تناؤ کے پیشِ نظر فوج میں انفنٹری یونٹس کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

فوجی ذرائع کی جانب سے فوجی نقل و حمل کی تصدیق کے باوجود وزیراعظم کے مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے نوڈیرو میں صحافیوں سے مختصر بات چیت میں قبائلی علاقوں سے فوج واپس بلانے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ’فاٹا میں فوج پوری ہے جو کہ کارروائی میں مصروف ہے۔ سرحدوں پر ہماری ایک لاکھ سے زائد فوج موجود ہے اور واپسی کی کوئی حرکت نہیں ہے۔’

وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے صحافیوں سے گفتگو میں واضح کیا ہے کہ اگر پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ ’کسی کو اپنے دل میں یا ذہن میں شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہم وطن کا دفاع نہیں کر سکتے لیکن جنگ کسی کے حق میں نہیں نہ پاکستان اور نہ بھارت کے‘۔

جنگ کسی کے حق میں نہیں نہ پاکستان اور نہ بھارت کے:شیری رحمان

یاد رہے کہ بھارتی حکام الزام عائد کرتے ہیں کہ گزشتہ ماہ ممبئی میں ہوئے حملوں میں پاکستانی شدت پسند ملوث تھے۔ پاکستان اس کی تردید کرتے ہوئے بھارت سے شواہد فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ادھر طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مغربی سرحد سے فوج کے نکل جانے کے بعد وہ اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ پاکستان کو امریکی دباؤ سے بچانے کے لیے وہ افغانستان میں تعینات امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف لڑنے کے لیے سرحد پار نہیں جائیں گے۔

انہوں نے یہ دعوٰی بھی کیا کہ طالبان اور حکومت کے درمیان پس پردہ مذاکرات جاری ہیں تاکہ بھارت اور پاکستان کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر ایک دوسرے پر حملوں میں کمی لائی جا سکے۔انہوں نے دعوٰی کیا کہ یہ مذاکرات بعض قبائلی مشران کے توسط سے ہو رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران باجوڑ اور درہ آدم خیل میں دوطرفہ حملوں میں کچھ حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے باجوڑ میں لڑاکا طیاروں نے حملے نہیں کیے ہیں۔

اس سلسلے میں پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے بارے میں کسی قسم کا کوئی علم نہیں ہے۔

اگر پاکستان ۔ ۔ ۔
جنگ نہیں ہو گی لیکن امن بھی نہیں ہو گا!
انڈین چینل بند
مظفر آباد میں انڈین چینلوں پر پابندی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد