جنگ نہیں، لیکن امن بھی نہیں ہوگا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی جانب سے کبھی جنگ نہ کرنے اور کبھی تمام راستے کھلے رکھنے جیسے ملے جلے اعلانات نے حکومت پاکستانی اور عوام کو گومگو صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اگرچہ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی میں جنگ کا امکان کم دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم مبصرین کے خیال میں ان بیانات کا محض اس وقت مقصد پاکستان پر زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ شدت پسندوں کے خلاف معنی خیز کارروائی کرسکے۔ ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت ایک مرتبہ پھر دسمبر دو ہزار ایک والی کشیدگی کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔ دو ایسے ممالک کے درمیان جو ماضی میں تین جنگیں لڑ چکے ہوں ایک مرتبہ پھر کشیدگی دونوں ممالک کے عوام اور دنیا کے لیے باعث تشویش ضرور ہے۔ قانونی ماہر، دانشور اور ماضی میں بھارت کے ساتھ ٹریک ٹو ڈپلومیسی میں شریک ایس ایم ظفر سے ماضی کی جنگوں سے پہلے کے حالات اور آج کی صورتحال کی مماثلت جاننا چاہی تو ان کا کہنا تھا کہ مطابقت کچھ اس حد تک دکھائی دیتی ہے کہ بھارت کے عزائم اس وقت بھی وہی تھے جو آج ہیں۔ ’اس وقت اکہتر میں پاکستان میں ایک غیرجمہوری حکومت تھی اب اللہ کا شکر ہے جمہوری ہے۔ اس لیے اب سول اور فوجی حکومت کا ایک ہو جانا، اکٹھا ہو جانے کی گنجائش بہت زیادہ موجود ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ تعاون موجود ہے‘۔ پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کے سابق سربراہ بریگیڈئر ریٹائرڈ اے آر صدیقی کا کہنا ہے کہ آج کا پاکستان اکہتر والا ملک نہیں ہے۔ ’دونوں صورتیں یکساں ہونے کے باوجود یکساں نہیں ہیں۔ اس لیے اکہتر سے موازنہ کوئی زیادہ مناسب نہیں ہے۔ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ حالات خراب ہیں اور خراب تر ہوتے جا رہے ہیں‘۔ دونوں کو جنگ کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم بھارت کے دورے سے چند روز پہلے لوٹنے والے اے آر صدیقی کے نزدیک قابل تشویش بات بھارتی شہریوں کے رویے میں تبدیلی ہے۔ ’جہاں تک پاکستان سے بےزاری کا تعلق ہے بھارتی عوام میں اس میں اضافہ ہوا ہے۔ میں نے جہاں بھی کہا کہ میں پاکستانی ہوں تو اس نے پہلے ٹیڑھی نظر سے دیکھا اور بعد میں ایک آدھ فقرہ بھی کس دیا۔ یہ صورتحال پہلے نہیں تھی‘۔
تاہم تجزیہ نگاروں کو اصل تشویش بھارتی بیانات میں تبدیلی سے بھی ہے۔ اے آر صدیقی کا کہنا ہے کہ پہلے بھارتی وزیر خارجہ جنگ کے سوا دیگر تمام آپشنز کی بات کرتے تھے لیکن اب تمام راستے کھلے ہیں کہہ رہے ہیں۔ تاہم ایس ایم ظفر سمجھتے ہیں کہ اگر بھارت کی جانب سے محدود کارروائی کی کوشش ہوئی تو شاید جوہری ہتھیاروں کی وجہ سے یہ اس کے لیے ممکن نہ رہے۔ اے آر صدیقی کے خیال میں آئندہ برس متوقع عام انتخابات میں ووٹروں کے خوف سے اگر امریکہ بھارت کو پاکستان میں محدود کارروائی کی اجازت دیتا ہے تو پھر جنگ کی صورت میں انتخابات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اے آر صدیقی کا کہنا ہے کہ امریکی پالیسی تو کہیں بھی کامیاب نہیں رہی کیا عراق کیا افغانستان میں۔ ’اربوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی اسے جوتا کھانا پڑا۔ تو امریکہ کی بات تو نہ کریں۔ جہاں تک بات ہے بھارت کی تو اگر کسی بھی صورت چاہے غلطی سے بھی جنگ شروع ہوتی ہے تو انتحابات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انتخابات میں ہار جیت تو ممکن ہی نہیں رہتی‘۔ ماہرین کے خیال میں بھارت کی جانب سے محدود حملے کا بھی پاکستان بھرپور جواب دے گا۔ مغربی سرحد کے برعکس جہاں امریکی جاسوس طیارے روزانہ سرحدی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں مبصرین کے خیال میں مشرقی سرحد کی صورتحال مختلف ہے۔ اے آر صدیقی کہتے ہیں کہ امریکہ سے مقابلہ تو ممکن نہیں لیکن ان کے خیال میں پاکستان کا جواب خاطر خواہ ہوگا اور وہ اپنے تمام وسائل استعمال کرے گا جس کا نتیجہ نہ تو بھارت کے لیے اچھا ہو گا اور نہ پاکستان کے لیے۔
اکثر پاکستانیوں کی رائے یقیناً یہی ہے کہ جنگ کسی کے حق میں نہیں ہوگی لہذا وہ توقع کر رہے ہیں کہ میڈیا کے ذریعے فی الحال دونوں ممالک میں جاری جنگ کبھی بھی اصل صورت اختیار نہیں کر پائے گی۔ تاہم بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں اگر بھارت اور امریکہ کی خواہش کے مطابق پاکستان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتا تو اس سے نہ تو جنگ ہوگی اور نہ ہی امن ہوگا اگر کچھ ہوگا تو کشیدگی اور تلخیاں۔ |
اسی بارے میں اسلام آباد کارروائی کرے: مکھرجی 21 December, 2008 | انڈیا پاکستان وعد پورا نہیں کر رہا:مکھرجی20 December, 2008 | انڈیا زرداری کو کال نہیں کی: مکھرجی07 December, 2008 | انڈیا حملہ آور پاکستان سے آئے: مکھرجی03 December, 2008 | انڈیا پرنب مکھرجی امریکہ کے دورے پر23 March, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||