’بھرپور جواب کی صلاحیت ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ملتان میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت پاکستان میں مخصوص مقامات پر حملے سے باز رہے ورنہ پاکستان شدید جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اب تک پاکستان کو سنہ دو ہزار ایک جیسی بھارتی فوج کی زمینی تقل و حرکت کی اطلاع نہیں ہے ۔ لیکن پاکستان، بھارت کی زمینی اور فضائی فوجی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس میں آنے والی ہر تبدیلی کا جائزہ لے کر پاکستانی حکومت اپنی حکمتِ عملی وضع کرے گی۔ افواجِ پاکستان الرٹ پر ہیں۔ وزیرِ اعظم نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ ہندستان پر زود دیں کہ وہ کشیدگی کم کرے۔وزیراعظم گیلانی جمعرات کی شام بینظیر بھٹو کی قبر پر دعا کرنے کے بعد گڑھی خدابخش بھٹو میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف ہے وہ اپنی سرزمین کسی قسم کی دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا کیونکہ بقول ان کے ’پھر وہ ہماری ذمہ داری بن جاتی ہے‘۔ وزیراعظم کےمطابق انہوں نے اپنے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ سے فون پر بات چیت کی اور تعزیت کی تھی تو انہوں نے خفیہ معلومات کے تبادلے کی بات کی تھی ۔انہوں نے کہا ہے کہ اگر انڈیا نے ممبئی حملوں کےشواہد ان کی حکومت کےحوالے کیے تو کسی قسم کی تفیش یا کارروائی سے پہلے قوم کو اعتماد میں لیا جائیگا ۔ پیپلزپارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کی گرفتاری اور تفیش نہ کرنے کے حوالےسے ایک سوال کے جواب میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بینظیر کیس کی تفتیش اقوام متحدہ سے ہوگی ۔اگر ان کی حکومت نے خود اپنی ایجنسیوں کے ذریعے تفیش شروع کی تو متاثر فریق ہونے کے ناطے ان کی حکومت پر تعصب کے الزام کے باعث تنقید ہوگی ۔ وزیراعظم گیلانی نے بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو سمیت میر مرتضی اور شاہنواز بھٹو کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادریں چڑھائیں ۔انہوں نے مزار کے تعمیراتی کام کا بھی جائزہ لیا ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے کہ ستائیس دسمبر کے دن وہ اسلام آباد میں بینظیر کی برسی کے حوالے سے ایک قومی تقریب میں شرکت کریں گے اس وجہ سے انہوں دو دن پہلے بینظیر کی مزار پر حاضری دی ہے۔ ملتان میں صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی یہ دہراتے رہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور جنگ نہیں چاہتا۔ تاہم بھارتی میڈیا میں پاکستان پر سرجیکل سٹرائیکس یعنی مخصوص مقامات پر فضائی حملوں کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بھارت کو متنبہ کیا کہ وہ یہ غلطی کبھی نہ کرے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اشتعال نہیں چاہتا اور نہ ہی کسی دباؤ میں آئے گا۔ ان کے بقول: بھارت کی جانب سے فوجی کارروائی کو قطعی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان امن کا داعی ہے لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم ایک غیور اور باغیرت قوم کے تقاضوں کو پورا کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے انٹرپول سمیت چین کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دنیا کے تمام ذی شعور طبقے پاکستانی موقف کی حمایت اور تعریف کر رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ پاکستان تمام اہم ممالک میں اپنے خصوصی وفود بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔ ان وفود میں مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت اور نامور سفارتکاروں کی خدما ت کو بروئے کار لایا جائے گا تاکہ وہ پاک بھارت کشیدگی کے بارے میں حکومت کا نہیں بلکہ قوم کا پیغام دنیا تک پہنچا سکیں۔ | اسی بارے میں بھارت نےشواہد نہیں دیئے: انٹرپول23 December, 2008 | پاکستان جنگ نہیں، لیکن امن بھی نہیں ہوگا23 December, 2008 | پاکستان ممبئی حملے اور جہادیوں کے اصل مقاصد17 December, 2008 | پاکستان ’حکومت بھارت کے دباؤ میں نہ آئے‘23 December, 2008 | پاکستان ’بھارتی بیانات، جنگ مسلط کرنے کی کوشش‘24 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||