| | بھارتی ریاست راجستھان میں پاکستان سرحد پر بارڈر سکیورٹی فورس |
جموں اور کشمیر میں تعینات بھارتی افواج کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ کوئی غیرمعمولی نقل و حمل نہیں دیکھی گئی ہے تاہم سرحد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ جموں میں ٹائیگر ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈِنگ میجر جنرل ڈی ایل چودھری نے کہا: ’سرحد کی دوسری جانب ہمیشہ کچھ نہ کچھ نقل و حمل ہوتی ہے لیکن ابھی اس بارے میں کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔‘ خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق میجر جنرل چودھری نے کہا کہ فوج سرحد کی نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زمینی سطح پر کوئی واضح کشیدگی نہیں ہے لیکن اگر ضرورت پڑی تو ’مناسب کارروائی‘ کی جائے گی۔ دریں اثناء رائٹرز خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی حکومت نے اپنے شہریوں کو وارننگ دی ہے کہ وہ پاکستان کا سفر نہ کریں۔ نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ بھارتی شہریوں کا پاکستان سفر کرنا یا پاکستان میں موجود ہونا غیرمحفوظ ہوگا۔ ادھر پاکستان سے ملنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے افغان سرحد پر طالبان شدت پسندوں کے خلاف برسرپیکار اپنی افواج کو محدود سطح پر ہٹانا شروع کردیا ہے تاکہ بھارتی سرحد پر کسی ممکنہ واقعے سے نمٹا جاسکے۔ پاکستان فوج کے سینئر اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاک افغان سرحد پر تعینات صرف ان فوجیوں کو واپس بلایا جا رہا ہےجو قبائلی علاقوں میں جاری فوجی کاروائیوں میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ |