BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 December, 2008, 16:02 GMT 21:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مولانا مسعود اظہر کا ’جہادی‘ سفر

مولانا مسعود اظہر
مولانا مسعود اظہر کا شمار حرکت المجاہدین کے اہم رہنماؤں میں ہونے لگا
کالعدم جہادی تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر دس جولائی سن انیس سو اڑسٹھ کو پاکستان کے شہر بہاولپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولانا اللہ بخش دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور بہاولپور کے ایک مقامی سرکاری سکول میں ہیڈماسٹر کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ مذہبی رحجانات رکھتے تھے اور شاید اسی لیے انہوں نے اپنے ایک دوست مفتی سعید کے کہنے پر مسعود اظہر کو کراچی میں بنوری مسجد سے ملحق جامعہ العلوم اسلامیہ میں داخل کرا دیا۔ یہاں پاکستان کے علاوہ عرب، سوڈانی اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے طلباء بھی زیر تعلیم تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس زمانے میں جامعہ العلوم اسلامیہ کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد عسکری تنظیم حرکت المجاہدین کے زیر اثر تھی۔

کہا جاتا ہے جامعہ اسلامیہ میں ہی مسعود اظہر کی ملاقات حرکت المجاہدین کے امیر مولانا فضل الرحمٰن خلیل سے ہوئی۔ مولانا خلیل کی دعوت پر انہوں نے حرکت المجاہدین میں شمولیت اختیار کر لی۔

بھارتی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی کو تفتیش کے دوران دیئے گئے ایک بیان میں مولانا مسعود اظہر نے بتایا ہے کہ حرکت المجاہدین میں شمولیت کے بعد انہیں عسکری ٹریننگ کے لیے افغانستان بھیج دیا گیا، تاہم کمزور جسامت کی وجہ سے وہ چالیس روزہ لازمی کورس مکمل نہ کر سکے۔

پڑھنے لکھنے کی طرف ان کے رحجان کی وجہ سے مولانا مسعود اظہر کو حرکت المجاہدین کے ترجمان ماہانہ رسالہ نکالنے کو کہا گیا۔ انہوں نے ماہانہ رسالے ’صدائے مجاہدین‘ کا پہلا شمارہ اگست انیس سو نواسی میں شائع کیا۔ جلد ہی ان کا شمار حرکت المجاہدین کے اہم رہنماؤں میں ہونے لگا۔

سن انیس سو چورانوے میں حرکت المجاہدین اور حرکت الجہاد کو ملا کر ایک نئی عسکری تنظیم حرکت الانصار کی بنیاد رکھی گئی اور دونوں تنظیموں کے عسکری کمانڈروں کو حکم دیا گیا کہ وہ مشترکہ کارروائیاں کریں۔

سی بی آئی کو دیئے گئے بیان میں مولانا مسعود اظہر نے بتایا ہے کہ ’اسی موقع پر یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مجھے بھارت کے زیر انتظام کشمیر بھیجا جائے تاکہ میں زمینی حقائق کا جائزہ لے سکوں۔ اس مقصد کے لیے میں پہلے بنگلہ دیش گیا اور وہاں سے ایک پرتگالی پاسپورٹ پر سفر کرتے ہوئے بھارت کے دارالحکومت دِلی پہنچ گیا۔‘

مولانا مسعود اظہر
سابق صدر مشرف کے حکم پر مولانا مسعود اظہر کو گھر پر نظر بند کر دیا گیا تھا
سن انیس سو چورانوے میں مولانا مسعود اظہر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انت ناگ کے مقام پر ایک ’مجلس جہاد‘ میں شرکت کر کے واپس آ رہے تھے کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

سن انیس سو پچانوے میں مولانا مسعود اظہر کا نام اس وقت عالمی افق پر ابھرا جب عسکریت پسندوں کے ایک غیر معروف گروپ الفاران نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے پہلگام ضلع میں چھ غیر ملکی سیاحوں کو اغواء کر لیا اور ان کی رہائی کے بدلے مولانا مسعود اظہر کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

اغواء کیے جانے والے سیاحوں میں سے ایک کو قتل کر لیا گیا جبکہ ایک اور سیاح فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ باقی چار سیاح ابھی تک لاپتہ ہیں اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

مولانا مسعود اظہر سن دو ہزار میں انڈین ائیر لائن کے مسافر طیارے کے اغواء کے بعد ایک سو پچپن مسافروں کی رہائی کے بدلے رہا ہوئے۔ ان کے ساتھ بھارتی قید سے رہائی پانے والے دیگر قیدیوں میں کشمیری عسکری رہنماء مشتاق زرگر اور پاکستانی نژاد برطانوی شہری عمر سعید شیخ تھے۔

بھارتی قید سے رہائی کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور یہاں انہوں نے جیش محمد کے نام سے ایک نئی جہادی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ چند ہفتوں کے اندر اندر اس نئی تنظیم کے دفاتر جنوبی پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں کھل گئے۔

جیش محمد پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کئی حملوں کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ان میں دسمبر سن دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے جس کے بعد عالمی دباؤ کے پیش نظر سابق صدر مشرف نے جیش محمد اور لشکرِ طیبہ پر پابندی عائد کر دی تھی۔ تاہم مبصرین کے مطابق جیش محمد نے پابندی کے بعد ’تحریک خدام القرآن‘ کے نام سے اپنا ’جہادی‘ مشن جاری رکھا۔

سابق صدر مشرف کے حکم پر مولانا مسعود اظہر کو گھر پر نظر بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم چودہ دسمبر سن دو ہزار دو کو لاہور ہائی کورٹ نے ان کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

مولانا مسعود اظہر کا نام ان شخصیات کی فہرست میں بھی شامل ہے جن کی حوالگی کا مطالبہ بھارتی حکومت کرتی رہتی ہے۔ اس فہرست میں شامل دیگر شخصیات میں داؤد ابراہیم اور ٹائیگر میمن جیسے نام بھی شامل ہیں۔

ممبئی کے شدت پسند حملوں کے بعد جب بھارت نے ایک پھر شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تو ابتدائی طور پر مولانا مسعود اظہر کو حراست میں لینے کا ذکر کیا گیا۔ پاکستان کے وزیر دفاع احمد مختار نے منگل کے روز ہندوستان کے ایک نجی ٹی وی چینل سی این این آئی بی این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی بم حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمٰن لکھوی کے ساتھ ساتھ مولانا مسعود اظہر کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

تاہم جمعرات کے روز دِلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر شاہد ملک نے اس بات کی تردید کی اور کہا کہ شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر نظربند نہیں ہیں اور ان کے بارے میں حکومت پاکستان کو کوئی علم نہیں ہے۔

اجمل قصاب’دل نہیں مانتا تھا‘
اجمل میرا ہی بیٹا ہے: امیر قصاب
کچھ ہوا حاصل ۔ ۔ ۔
کیا دعوۃ پر پابندی بھارت کے لیے کافی ہو گی؟
ممبئی حملےکس کے خلاف۔۔۔
ممبئی حملے اور جہادیوں کے اصل مقاصد
انڈین میڈیا ذمہ دار
’جنگ کے نعرے، قیادت نہیں انڈین میڈیا ذمہ دار‘
اپنے فیصلے خود
لیکن ایسا کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا
صدر زرداریپاکستان کا موقف
’اجمل کا پاکستانی ہونا یقینی نہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد