ممبئی: ’کارروائی میں 124گرفتار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشیر داخلہ کے مطابق ممبئی حملوں کے بعد ہونے والی کارروائی میں ایک سو چوبیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی جماعت الدعوۃ کے خلاف قرار داد کی روشنی میں اس تنظیم کے جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں حافظ محمد سعید، قانونی شعبے کے سربراہ مفتی عبدالرحمان، ’غزوہ‘ میگزین کے مدیر کرنل (ریٹائرڈ) امیر حمزہ اور لشکر طیبہ کے سابق اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جماعت الدعوۃ کے رہنما مولانا ذکی الرحمان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تنظیم کے بیس دفاتر، ستاسی سکول، سات مدارس اور دو لائبریریاں بھی بند کر دی گئی ہیں۔ اس تنظیم کے پنجاب اور کشمیر میں پانچ کیمپ بھی سیل کر دیئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ جماعت کے ماہنامے الدعوۃ، ماہنامہ ضرب طیبہ، وائس آف اسلام، ننھے مجاہد اور عربی زبان میں شائع ہونے والے رابطہ نامی میگزین پر بھی مبینہ طور پر شدت پسندی کی پرچار کے الزام میں پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر بھی اس تنظیم سے منسلک یا چھ دیگر ویب سائٹس بھی بلاک کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک ویب سائٹ اٹلی میں ایک پاکستانی کے نام پر رجسٹر تھی۔ ایک سوال کے جواب میں کہ آیا ان پابندیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے جماعت الدعوۃ کے خلاف ٹھوس ثبوت ملے ہیں تو رحمان ملک نے اس کا جواب گول کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ پاکستان اقوام متحدہ کا رکن ہونے کے نتیجے میں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ بائیس دیگر تنظیموں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں تاہم انہوں نے ان کی تفصیل فراہم نہیں کیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہ بھارت اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر تو ساٹھ برسوں سے عمل درآمد نہیں کر رہا لیکن پاکستان نے کیوں منٹوں میں کریک ڈاون شروع کر دیا تو ان کا جواب تھا: ’یہ سب کچھ ہم ہمدردی میں کر رہے ہیں۔ ہم بھارت کے دکھ میں شریک ہیں۔‘ مشیر داخلہ نے بھارت کی جانب سے قبائلی علاقوں سے مبینہ شدت پسندوں کے وہاں پہنچنے کے دعوی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے انہیں سوچ میں ڈال دیا ہے۔ ’اگر ایسے لوگ وہاں موجود ہیں تو ہمیں بتائیں تاکہ دونوں ممالک مشترکہ طور پر انہیں حالات کو مزید خراب کرنے سے روک سکیں۔‘ رحمان ملک نے اجمل قصاب کو کونسلر رسائی اور قانونی مدد کے بارے میں ایک سوال کا جواب بھی نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ممبئی حملوں کی تحقیقات کے لیے انسپکٹر جنرل کی سربراہی میں ایک اعلی اختیاراتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے تاہم یہ کمیٹی کب تک اپنی تحقیقات مکمل کرے گی تاہم اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ رحمان ملک نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اس کمیٹی کی قیادت کریں گے جس میں ڈی آئی جی بھی شامل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ نے انہیں بھارت کی جانب سے ارسال کی گئی معلومات پر مبنی نو صفحات بھیجے ہیں جن کا جائزہ ان کی وزارت لے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ممبئی حملوں سے متعلق ثبوت جمع کیے جا رہے ہیں اور یقین دلایا کہ شفاف انداز سے کی جانے والی ان تحقیقات کے نتائج عوام اور دنیا کے سامنے رکھے جائیں گے۔ تاہم رحمان ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ان تحقیقات کو منتقی انجام تک پہنچانے کے لیے بھارت کی مدد کی انتہائی ضرورت ہے۔ ’اس جرم کا کرائم سین بھارت میں ہے تاہم اس کی جڑیں پاکستان اور چند دیگر ممالک میں ہیں۔ اس لیے انتہائی ضروری ہے کہ ٹھوس ثبوت اکھٹے کیے جائیں جو عدالتوں میں قابل قبول ہوں۔ مجھے امید ہے کہ بھارت غیرمشروط تعاون کی پیشکش پر مثبت جواب دے گا۔‘ اخباری کانفرنس کا بظاہر بنیادی مقصد ممبئی حملوں کی تحقیقات میں پاکستان کی اب تک کی مجموعی کارکردگی دنیا کے سامنے رکھنا اور بھارت سے ایک مرتبہ پھر مشترکہ تحقیقات کی ضرورت واضح کرنا تھی۔ ادھر وزارت خارجہ نے ایک وضاحتی بیان میں کہ وزیر اعظم نے گزشتہ دنوں بھارتی ’ثبوت‘ مسترد کر دیئے ہیں کہا کہ معلومات اور شواہد میں واضح فرق ہوتا ہے۔ بیان میں بھارت کی جانب سے مشترکہ تحقیقات کی پیشکش پر مثبت ردعمل کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||