ممبئی کے ثبوت: پاکستان کو کیا دیاگیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی وزارت خارجہ نے پاکستان کو جو ثبوت فراہم کیے ہیں ان میں ممبئی پولیس کی حراست میں حملہ آور اجمل قصاب سے ملنے والی معلومات، حملوں کے دوران شدت پسندوں اور پاکستان میں مقیم بعض عناصر کے درمیان کی گفتگو، حملوں کے بعد شدت پسندوں کے پاس سے حاصل ہونے والا اسلحہ، جی پی ایس اور سیٹلائٹ فون کا ڈیٹا شامل ہے۔ بھارت نے تقریباً ستر صفحات پر مشتمل جو دستاویز پاکستان کو فراہم کی ہے اسے ثبوت اور شواہد کے نام سے تعبیر کیا ہے تاہم ایک سوال کے جواب میں خارجہ سکریٹری شیو شنکر مینن نے کہا ’ ہم نے مٹیریل یعنی مواد فراہم کیا تاکہ پاکستان اپنی سطح پراس مواد کی جانچ کرے۔‘ بھارتی حکومت نے برآمد کی گئی اشیاء اپنے پاس رکھی ہیں اور پاکستان کو اس کی تصویریں فراہم ہیں۔ ہندوستانی ذرائع ابلاغ نے اس مواد یا ثبوت کے تقریباً سبھی پہلوؤں کی تفصیلات شائع کی ہیں۔ اخبار’دی ہندو‘ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ڈوسیئر کی کاپی ہے جس میں ان افراد کے نام بھی شامل ہیں جو حملے کے وقت شدت پسندوں کو کمانڈو طرز کی ہدایت دے رہے تھے۔ اخبار کے مطابق ہوٹل تاج، اوبرائے اور ناری من ہاؤس کے حملہ آورں کو فون پر جن لوگوں نے پاکستان سے ہدایات دیں ان چھ افراد کے نام ’وصی، ضرار، جندل، بزرگ، میجر جنرل اور کافا ہیں لیکن اس میں اس بات کا ذکر کہیں بھی نہیں ہے کہ ان لوگوں کا تعلق آئی ایس آئی یا کسی دیگر ایجنسی سے ہے۔‘ ثبوت کے طور پر سیٹلائٹ فون پر ہوئی بات چیت کا انگریزی میں ترجمہ پیش کیا گیا ہے اور کئی اخبارات نے بعض اشیاء کی تصویریں بھی چھاپی ہیں۔ انڈین ایکسپریس نے ثبوت میں شامل بعض اشیاء جیسے ایک پستول، کپڑے دھونے کا صابن، آٹے کی بوری، موبائل فون کے سم کارڈز، جی پی ایس، شیونگ کریم اور منجن کی پیکٹ کی تصویریں شائع کی ہیں۔ اخبار کے مطابق اس ساخت کے پستول ممبئی کے کئی علاقوں سے برآمد کیےگئے تھے جس پر’ڈائمند نیڈی فرنٹیئر آرمس کمپنی پشاور‘ کی مہر لگی ہے۔ کپڑا دھونے کا صابن کوبیر نامی اس کشتی میں ملا ہے جس کا شدت پسندوں نے ممبئی کے قریب آنے کے لیے استعمال کیا تھا اور اس پر لفظ پاک درج ہے۔ اخبار کے مطابق کشتی سے برآمد کی گئی شیونگ کریم اور منجن ایک پاکستانی کمپنی کا تیار کردہ ہے اور آٹے کی بوری پر بھی کراچی کی ایک فیکٹر ی کا یہ پتہ’ قمر فوڈ پروڈکٹ پلاٹ نمبر 3 / 3 شاہ فیصل ٹاؤن کراچی‘ لکھا ہے۔ اس اخبار میں جس گرینیڈ کی تصویر شائع ہوئی ہے اس پر انگریزی میں ARGES لکھا ہے اور اخبار کے مطابق ’ یہ ہتھیار بنانے والی آسٹریا کی ایک کمپنی ہے جس نے راولپنڈی میں اسلحہ بنانے والی ایک پاکستانی کمپنی کو گرینیڈ بنانے کا لائسنس دے رکھا ہے۔‘ ’دی ہندو‘ نے بھی بعض ایسی تصویریں شائع کی ہیں لیکن اس کی تصویر دودھ کے پیکٹ کی ہے جس پر اردو میں لکھا ہے ’ نیا اور بہترین، اضافی طاقت کے ساتھ۔‘ اخبار کے مطابق دودھ کا یہ پیکٹ پاکستانی کمپنی کا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے شواہد کی اس لسٹ سے وہ اقتباسات بھی نشر کیے ہیں جن میں حملہ آوروں کی آنے اور آپریشن کی تفصیلات درج ہیں۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق اجمل قصاب نے تفتیش کے دوران کراچی سے چلنے کے متعلق جو تفصیلات بتائی ہیں وہ بھی ثبوت کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔ اخبار نے لکھا ہے’حملہ آور بائیس نومبر کو کراچی سے ایک چھوٹی کشتی میں سوار ہوکر چلے پھر تقریباً چالیس منٹ بعد وہ ایک بڑی کشتی الحسینی میں سوار ہوئے جو دراصل ذکی الرحمن لکھوی کی ہے۔‘ ان ثبوتوں میں پیسوں کے لین دین کی بھی تفصیلات شامل ہیں اور میڈیا کے مطابق بھارتی حکومت نے یہ بتایا ہے کہ پاکستان سے جو لوگ حملہ آوروں کو ہدایات دے رہے تھے وہ دراصل بھارتی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی خبروں سے مدد لے رہے تھے، جو حملے اور آپریشن کی پوری صورت حال براہ راست نشر کر رہے تھے۔ | اسی بارے میں ’سنجیدہ تحقیقات کے امکانات معدوم‘06 January, 2009 | انڈیا پاکستان کو ثبوت سونپ دیئے05 January, 2009 | انڈیا حملوں میں’حکومتی عناصر کا ہاتھ‘04 January, 2009 | انڈیا ’ممبئی، ذمہ داروں کو حوالے کریں‘03 January, 2009 | انڈیا ’ٹوٹے رشتے فنکار ہی جوڑ سکتے ہیں‘30 December, 2008 | انڈیا ’پاکستان کوسبق ضروری مگر جنگ نہیں‘26 December, 2008 | انڈیا ثبوت نا کافی ہیں: قائمہ کمیٹی26 December, 2008 | انڈیا ’انڈیا ایک مہمان نواز ملک ہے‘25 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||