’سنجیدہ تحقیقات کے امکانات معدوم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی جانب سے آج نئی دہلی میں پاکستان کی بعض سرکاری ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ وزیر مملکت برائے خارجہ امور ملک عماد نے کہا ہے کہ بھارت نے ممبئی حملوں کے ناکافی ثبوت مہیا کیے ہیں۔ ادھر صدر آصف علی زرداری کو آج پاکستان فضائیہ کے سربراہ نے فضائی تیاری کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ صدر نے کابل روانگی سے قبل وزیر اعظم سے ملاقات میں بھی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم کے آج کے بیان پر اسلام آباد میں وزرات خارجہ کی جانب سے ایک تفصیلی ردعمل جاری کیاگیا ہے جس میں پاکستان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت تعاون کی پیشکش کے جواب میں جارحانہ پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کا رویہ کشیدگی میں اضافے اور ممبئی حملوں کی سنجیدہ تحقیقات کے امکانات کو معدوم کر دے گا۔ وزارت خارجہ نے تنبیہ کی کہ اس رویہ سے جنوبی ایشیا میں صورتحال مزید خراب ہوگی۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستانی ریاست دہشتگردی کی حمایت نہیں کرتی اور وہ خود بھارت سے زیادہ متاثر ہے۔ پاکستان نےامید کا اظہار کیا ہے کہ بھارت احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرے کرے گی ورنہ ریاستی اداروں پر الزام عائد کرکے اس بابت تعاون کے راستے بند ہو جائیں گے۔ حکومت نے سیاسی اور فوجی طریقوں سے دباؤ نقصان دے ثابت ہوگا۔ اس نے بھارت سے جارحانہ فوجی رویے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ بیان میں ایک مرتبہ پھر بھارت کو مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کی گئی ہے۔ بیان کے اختتام پر واضح کیاگیا ہے کہ پاکستان بھارت کے دباؤ کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت خود بھی ممبئی حملوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ |
اسی بارے میں دنیا پاکستان پر دباؤ بڑھائے: مکرجی22 December, 2008 | انڈیا پاکستان کو لاشیں دینے کے لیے انٹرپول17 December, 2008 | انڈیا ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا ’ایک دن تو اڑتالیس پوسٹ مارٹم ہوئے‘03 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||