ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | بھارت سے سارک کنونشن کے تحت ملزمان کو حوالے کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے: پاکستان |
وزیر مملکت برائے خارجہ امور ملک عماد نے کہا ہے کہ بھارت نے ممبئی حملوں کے ناکافی ثبوت مہیا کیے ہیں۔ قومی اسمبلی کی خارجہ امور کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران انہوں نے یہ یہ بھی کہا انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالات اب بھی کشیدہ ہیں۔ وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ بھارت نے تاحال اگلے محاذوں پر تعینات اپنی فوج واپس نہیں بلائی ہے اور صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت نے جارجیت کا سوچا تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ بھارت کی جانب سے ممبئی حملوں سے متعلق ایک روز قبل فراہم کی گئی معلومات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے فراہم کردہ ثبوت ناکافی ہیں۔ کمیٹی کو سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر نے بھی بریفنگ دی اور بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھا رہا ہے جس سے ماحول خراب ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت نے ممبئی حملوں کے حوالے سے ثبوت نہیں معلومات دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے سارک کنونشن کے تحت ملزمان کو حوالے کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا پاکستان پر حملہ ایک سنگین غلطی ہوگی۔ ان نے کہا کہ ایک واقعے کی آڑ میں پاکستان پر فوجی دباؤ بڑھانا بلاجواز ہے۔ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت عوامی نیشنل پارٹی کے علیل رہنما اسفندیار ولی خان کی جگہ ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کی۔ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ملکی و علاقائی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے قومی اسمبلی کی داخلہ اور خارجہ امور کی قائمہ کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ممبئی حملے ایک سازش تھے تاکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوں اور مذاکرات کا عمل روک جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہا اور شدت پسندوں کی پالیسی ہے کہ لوگوں کو تقسیم کیا جائے۔ اس موقع پر انہوں نے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ |