تاج، اوبرائے، اتوار کو کھل جائیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حملوں کے بعد تاج ہوٹل اور اوبرائے ٹرائڈنٹ کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ ان ہوٹلوں کے کچھ حصے اتوار کو کھول دیے جائیں گے۔ تاج محل پیلس، ٹاور اور اوبرائے ٹرائڈنٹ کے کچھ حصے کھولے جائیں گے اور اس سلسلے میں انہوں نے ایڈوانس بکنگ بھی شروع کردی ہے۔ تاج ہوٹل کا جدید حصہ جس کو تاج محل ٹاور کہتے ہیں دو سو پینتیس کمروں پر مشتمل ہے۔ یہ حصہ اتوار کو بھارتی وقت کے مطابق سات بجے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ اس ہوٹل میں مجموعی طور پر پانچ سو پینسٹھ کمرے ہیں۔ تاج کے مینجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو ریمنڈ برکسن نے کہا کہ’ تاج کو حملوں کے بعد اتنے جلد دوبارہ کھولنے کا مقصد ان تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے اپنی جانیں ان حملوں میں گنوائیں۔‘ تاہم تاج کی انتظامیہ نے یہ نہیں بتایا کہ ہوٹل کا ایک سو پانچ سالہ پرانا حصہ کب کھلے گا جس کو ان حملوں میں زیادہ تقصان پہنچا تھا۔ اطلاعات کے مطابق تاج کے پرانے حصے میں گولیوں اور گرینیڈ کی وجہ سے کافی نقصان پہنچا ہے۔ یہ ابھی نہیں معلوم کہ ہوٹل کی خوبصورت آرائش اس حملے میں کس حد تک تباہ ہوئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ تاج کا پرانا حصہ کھولنے میں شائد ایک سال بھی لگ سکتا ہے۔ ٹاٹا گروپ کے چیئرمین رتن ٹاٹا نے کہا ہے کہ تاج کا ایک ایک انچ دوبارہ کھولا جائے گا اور اس کو اس کی سابقہ حالت میں لایا جائے گا۔ ٹرائڈنٹ ہوٹل کی انتظامیہ کا بھی کہنا ہے کہ ہوٹل کو اتوار کے روز عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ ’ہوٹل کو دوبارہ کھولنے کے لیے دن رات کام کیا جا رہا ہے۔‘ انتظامیہ کی طرف سے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہوٹل میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کیے جائیں گے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملے کے دوران مجموعی طور پر چار سو اکاون مہمانوں کو ہوٹل سے نکال لیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں ’ہماری حفاظت کرو یا کرسی چھوڑو‘03 December, 2008 | انڈیا ’موت کودیکھا پھراس کے منہ سے باہرنکلے‘01 December, 2008 | انڈیا تاج ہوٹل اور اس کے کبوتر29 November, 2008 | انڈیا تناؤ پر پاکستانی تشویش، جاسوسی کی ناکامی پر سوالات 30 November, 2008 | انڈیا گنبد پر نگاہیں ٹکائے خبر کے انتظار میں28 November, 2008 | انڈیا ’ان کی دیدہ دلیری حیران کن تھی‘ 28 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||