’ہماری حفاظت کرو یا کرسی چھوڑو‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں شدت پسندوں کے حملوں کا ایک ہفتہ مکمل ہونے پرگیٹ وے آف انڈیا پر بدھ کی شام ہزاروں افراد جمع ہوئے۔ حملوں میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ لوگوں نے حکومت اور سیاستدانوں کو پیغام دینے کی کوشش کی کہ ’اب بس بہت ہو گیا، اس کے آگے نہیں۔ ہماری حفاظت کرو یا کرسی چھوڑو۔‘ لوگوں نے پر جوش نعروں کے درمیان حکومت کو بدلنے کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ جو حکومت عوام کی حفاظت نہیں کر سکتی اسے اقتدار میں رہنے کا حق نہیں۔ مظاہرین نے ہلاک ہونے والے کمانڈوز اور اعلی افسران کو فی کس پانچ کروڑ روپے معاوضہ کا مطالبہ بھی کیا۔ شہر میں شام سے ہی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہونے شروع ہو گئے تھے۔ان کے ہاتھوں میں پوسٹر تھے جن پر اس طرح کے مختلف پیغامات لکھے تھے: ’یہ قوم شیروں کی ہے جسے چندگدھے کنٹرول کرتے ہیں‘۔۔۔ ’نو سیکوریٹی نو ٹیکس،‘ ’کرسی چھوڑو شرم کرو‘، اور ’دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ہے۔‘ شہر کی کئی سماجی تنظیموں کے علاوہ ہر مذہب ہر فرقے کے لوگ جوق در جوق گیٹ وے پہنچ رہے تھے۔ سابق ممبر پارلیمنٹ اور بالی وڈ اداکارہ شبانہ اعظمی کے علاوہ کئی فلمی ہستیاں بھی خراج عقیدت پیش کرنے پہنچی تھیں۔ بڑے تاجر، وکلاء، کالج طلباء کے علاوہ بڑی تعداد میں خواتین، بچے اور ضعیف افراد بھی مجمع میں موجود تھے۔ لوگوں نےگیٹ وے پر مرنے والوں کی یاد میں خراج عقیدت کے طور پر موم بتیاں جلائیں۔ نعروں میں ہر تھوڑی دیر کے بعد شدت آجاتی۔ لوگ سیاستدانوں کو چور کہہ رہے تھے۔ شبانہ اعظمی نے اس موقع پر کہا کہ ’بہت مر چکے، اب اور نہیں، وہ چاہتے ہیں کہ وہ اس طرح کے حملے کر کے ہم میں پھوٹ ڈالیں، اس لیے یہ ظاہر کرنا ضروری ہے کہ ہم سب ایک ہیں، یہ ہمارے لیے ویک۔اپ کال ہے، جس طرح آپ سب آج اکٹھا ہوئے ہیں میں ان کو سو سو سلام کرتی ہوں۔۔۔لیکن ہمیں جوش نہیں ہوش سے کام لینا چاہئے۔‘ |
اسی بارے میں ’ایک دن تو اڑتالیس پوسٹ مارٹم ہوئے‘03 December, 2008 | انڈیا ’بھارت کو حملوں کی اطلاع تھی‘02 December, 2008 | آس پاس غیر ملکی ایجنسیاں ممبئی میں02 December, 2008 | انڈیا ’وہ پاکستان سے آئے، انکے کنٹرولربھی وہیں ہیں‘03 December, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||