’بھارت کو حملوں کی اطلاع تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ذرائع ابلاغ نے نام ظاہر نہ کرنے والے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے یہ خبر جاری کی ہے کہ امریکہ نے بھارت کو ایک ماہ قبل ممبئی میں گزشتہ ہفتے ہونے والے ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا۔ دریں اثنا بی بی سی کو ایک سینئر امریکی اہلکار نے بتایا ہے کہ ممبئی کے حملوں کے پیچھے لشکرِ طیبہ کے اس گروپ کا ہاتھ ہے جس کے ٹھکانے پاکستان میں ہیں۔ پاکستان جو ان حملوں میں کسی بھی طرح ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے بھارت کو مشترکہ تحقیقات کی پیش کش کر چکا ہے۔ ان حملوں میں کم از کم ایک سو اٹھاسی افراد ہلاک بتائے گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی اطلاع کے مطابق ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکہ نے بھارت کو ممبئی پر ہونے والے حملوں کے بارے میں بتایا تھا اور یہ بھی بتایا تھا کہ حملہ سمندر کی طرف سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ اطلاعات اس وقت آئی ہیں جب بھارتی بحریہ کے سربراہ نے ان حملوں کو ملک کی سکیورٹی اور انٹیلیجنس ’نظام کی مکمل ناکامی‘ قرار دیا ہے۔ بھارتی حکام ایک سے زیادہ بار کہہ چکے ہیں کہ ان کے پاس ایسی شہادتیں ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ کرنے والے شدت پسندوں کے رابطے پاکستان سے ہیں۔ پولیس کی حراست میں موجود ایک حملہ آور اعظم امیر قصاب کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ یقیناً پاکستان سے ہے۔ انڈیا کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اس حملہ آور کا تعلق کشمیری شدت پسند لشکرِ طیبہ سے ہے لیکن اس گروپ نے ممبئی کے حملوں سے لا تعلقی کا اعلان کیا ہے۔
ایک بھارتی اہلکار نے امریکی ذرائع ابلاغ کی ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ کچھ مقامات پر حملوں کا خطرہ تھا اور ان مقامات میں تاج محل ہوٹل بھی شامل تھا۔ ممبئی کے پولیس کے چیف حسن غفور نے منگل کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ سکیورٹی حکام کو یہ انتباہ تھا کہ تاج جیسے ہوٹلوں کو کسی خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اے بی سی نیوز نے ایک بھارتی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی انتباہ ملنے کے بعد انہوں نے بھی اٹھارہ نومبر کو ایک سیٹلائٹ فون پیغام پکڑا جس سے ممبئی ہر سمندری حملے کا اشارہ ملتا تھا اطلاعات کے مطابق ممبئی انتہائی چوکسی پر تھا لیکن اے بی سی کے مطابق کچھ ہی روز قبل حملوں کا نشانہ بننے والے مقامات پر چوکسی میں کچھ نرمی کی گئی تھی۔ بھارتی حکام نے حملہ آوروں میں سے ایک کے فون سے ایک سم بھی برآمد کی ہے جس سے معلومات اور رابطوں کا ایک ذخیرہ ہاتھ لگا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ان اطلاعات سے انڈیا میں ان لوگوں کا غصہ اور بڑھی گا جو پہلے ہی اس بات پر ناراض ہیں کہ حفاظتی ادارے لوگوں کے تحفظ کی ذمہ داری پوری نہیں کر سکے۔
بھارتی وزیرِ داخلہ کے علاوہ مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ اور ان کے نائب شدید تنقید کے بعد یکے بعد دیگرے مستعفی ہو چکے ہیں۔ بھارتی بحریہ کے سربراہ سریش مہتا نے کہا ہے کہ سکیورٹی ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور ناکامی کے بعد ہمیس اپنے پورے ڈھانچے کا جائزہ لینا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||