BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 January, 2009, 14:23 GMT 19:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ڈوسیئر ثبوتوں کا دعوی ہے ثبوت نہیں‘

بھارت نے گزشتہ دنوں پاکستان کو پچپن صفوں پر مشتمل ایک ڈوسیئر دیا
ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان نے ان حملوں کے لیے پاکستان کی ممنوعہ شدت پسند تنظیم لشکرطیبہ پر الزام عائد کیا اور کہا کہ اس تنظیم کے بعض سینئر اہلکاروں نے اس بہیمانہ حملے کی منصوبہ بندی کی تھی اور وہ حملے کے دوران پاکستان سے ہدایات بھی دے رہے تھے۔

ابتدائی تفتیش کے بعد ہندوستان نے پاکستان کو 55 صفوں پر مشتمل ایک ڈوسیئر یا ثبوتوں کی تفصیلات پیش کیں۔

بھارتی سپریم کورٹ کے سرکردہ وکیل اور ماہرِ قانون پرشانت بھوشن نے ان ثبوتوں کی نوعیت، ان کی قانونی حیثیت اور ان سے متعلقہ دیگر پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔

 پاکستان صرف ڈوسیئر کی بنیاد پر کارروائی نہيں کرسکتا۔ جب تک انہيں پرائمری ثبوت نہ دکھائے جائیں، پاکستان کے لیے کارروائی کرنا مشکل ہے، اس لیے مشترکہ تفتیش کا پاکستان کا مطالبہ جائز ہے۔
ماہرِ قانون پرشانت بھوشن
پرشانب بھوشن کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے ڈوسیئر میں پاکستانی عناصر کے ملوث ہونے کے سلسلے میں جو ثبوت پیش کیے ہيں ان میں ’مٹیریل پروف‘ مثلا جی پی ایس، سیٹلائٹ فون، پستول، مبینہ طور پر پاکستان میں بنے ہوئے ساز وسامان، کھانے پینے کی چیزیں، ڈیزل کے ڈرم، کپڑے، ٹوتھ پاؤڈر اور صابن وغیرہ کی تصویریں شامل ہيں۔

اس ڈوسیئر میں سیٹلائٹ فون پر بات چیت کا اقتباس بھی شامل ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ بات چیت حملہ آوروں اور پاکستان میں واقع لشکر کے ایک سینئر رہنما کے درمیان ہورہی تھی۔

ثبوتوں میں زندہ پکڑے گیے حملہ آور اجمل قصاب کے اقبالیہ بیان کا بھی کچھ حصہ شامل ہے۔

مٹیریل ثبوت
اس سلسلے میں پرشانت بھوشن کہتے ہیں کہ جہاں تک مٹیریل ثبوتوں کی بات ہے انہيں عدالت میں ثابت کرنا پڑے گا کہ یہ ساز و سامان ممبئی حملوں کے دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد کیے گیے ہيں۔ چونکہ پستول، پاکستان کے بنے ہوئے سامان، صابن اور کپڑا وغیرہ کہیں سے بھی حاصل کیے جا سکتے ہيں اس لیے قانونی طور پر شدت پسندوں سے ان کی برآمدگی عدالت میں ثابت کرنی پڑے گی۔

سیٹ فون
’سیٹلائٹ فون ایک اہم ثبوت ہے۔ کیوں کہ یہ کسی مخصوص شخص یا کمپنی کے نام رجسٹرڈ ہوتا ہے۔ اگر تفتیشی ادارے ان پر کی گئی بات چیت کے نمبر اور ان کی تفصیلات سیٹ فون کی کمپنی سے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہيں تو یہ بات چیت کرنے والوں کی شناخت کے تعین کا ایک اہم ثبوت ہوگا۔

لیکن ڈوسیئر میں یہ نہيں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کے تفتیش کاروں نے یہ کس طرح متعین کیا کہ یہ حملہ آور جن سے بات کر رہے تھے وہ نمبر پاکستان کے ہيں اور ان پر بات کرنے والے پاکستانی تھے۔‘

قصاب کا اقبالیہ بیان
پرشانت بھوشن کے مطابق عدالت میں پولیس کو دیے گیے اجمل کے اقبالیہ بیان کی کوئی اہمیت نہيں ہوگی صرف عدالت کے سامنے دیے گیے بیان کو ہی تسلیم کیا جائے گا۔ اس مقدمے میں استغاثہ کی سب سے بڑی

قصاب کو چھوڑ کر باقی سبھی حملہ آور مارے جا چکے ہيں۔
پریشانی یہ ہو سکتی ہے کہ قصاب کو چھوڑ کر باقی سبھی حملہ آور مارے جا چکے ہيں۔

’قصاب کی ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے جو انہيں سزا دلانے کے لیے سب سے اہم ثبوت ہو سسکتی ہے۔ اور ممبئی حملے کے بعد اس حملے کی سب سے اہم کڑی ہے۔ عدالت کے سامنے دیا جانے والا بیان بھی دیگر ملزموں کے سلسلے میں بہت اہم ہوگا‘۔

مقدمہ کہاں چل سکتا ہے؟
پرشانت بھوشن کہتے ہیں کہ جہاں تک لشکر طیبہ کے ذکی الرحمن لکھوی اور دیگر پاکستانی شہریوں، جن پر بھارت نے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے، کے خلاف مقدمہ چلانے کی بات ہے تو ان پر مقدمہ صرف پاکستان میں ہی چل سکتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مجرموں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہيں ہے، اس لیے پاکستان انہيں ہندوستان کے حوالے نہيں کر سکتا۔

’پاکستان صرف ڈوسیئر کی بنیاد پر کارروائی نہيں کرسکتا۔ جب تک انہيں پرائمری ثبوت نہ دکھائے جائیں، پاکستان کے لیے کارروائی کرنا مشکل ہے، اس لیے مشترکہ تفتیش کا پاکستان کا مطالبہ جائز ہے۔ اور وہی ایک عملی طریقہ ہے۔ ڈوسیئر ثبوتوں کا دعوی ہے ثبوت نہیں ہے‘۔

بھوش کہتے ہیں کہ ممبئی ڈوسیئر پاکستان کو اس لیے دیا گیا ہے تاکہ عالمی برادری کو یہ بتایا جاسکے کہ ممبئی حملے میں پاکستان کے لوگ شامل تھے اور یہ کہ اس سلسلے میں ہندوستان کے پاس کافی ثبوت ہيں۔

ممبئی پر حملےممبئی میں ’جنگ‘
ممبئی میں دہشت کا راج: خصوصی ضمیمہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد