ممبئی والے ابھی نفسیاتی دباؤ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حملوں میں براہ راست متاثرہ افراد نے اگر اب ڈر اور خوف پر قابو پا لیا ہے تو دوسری جانب عام طور پر شہری اب زیادہ تر وقت گھر میں گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں کہ کیونکہ ایک طرح کا خوف ابھی بھی دل و دماغ پر طاری ہے۔ ممبئی حملوں کے وہ افراد جنہیں حملہ آوروں نے ہوٹل تاج اور اوبیرائے میں یرغمال بنا لیا تھا ان کے دل و دماغ بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ زبردست ذہنی دباؤ اور نفسیاتی کشیدگی کے شکار افراد کو آخرکار ماہر نفسیات اور آرٹ آف لیونگ جیسے پروگراموں نے بڑی حد تک مدد کی ہے۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر ماچس والا کہتے ہیں کہ حملے سے بچ کر نکل آنے والے افراد زبردست ذہنی تناؤ کا شکار تھے۔ ’انہوں نے سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کی۔ انہیں رات میں نیند نہیں آتی تھی۔ بعض کو یہ احساس ستاتا تھا کہ وہ اس دنیا میں تنہا رہ گئے۔ کئی لوگوں نے تو اس مقام پر جانے کے نام سے ہی خوف کا اظہار کیا جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔‘ ڈاکٹر کے مطابق ایسے افراد کا علاج کاؤنسلنگ کے ذریعہ کیا گیا اور انہیں خواب آور دوائیں دی گئیں لیکن وہ افراد جو پہلے سے ہی کسی طرح کی ذہنی الجھنوں کا شکار تھے ان کے لیے اس ماحول نے کافی پیچیدگیاں پیدا کر دی تھیں اور انہیں اب دوائیں دی جا رہی ہیں۔ نتاشا پرتاپ کے مطابق ہوٹل تاج اور اوبیرائے کے ملازمین کے لیے بھی تربیت ضروری تھی کیونکہ ان کے دماغ پر اس سانحہ نے بڑا برا اثر ڈالا تھا۔اس لیے وہاں پورے چھ دنوں کا کیمپ لگایا گیا اور انہیں مختلف ورزشیں کرائی گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ شہر کے مختلف علاقوں میں ان کا کیمپ چھ دن چلا، اس میں روزانہ تین گھنٹے انہیں مختلف قسم کی ورزش کرائی گئی۔ جس کی وجہ سے ان کے جسم میں کشیدگی کی وجہ سے پیدا ہونے والے ہارمون کی سطح کچھ کم ہوئی۔ پرتاپ کا کہنا تھا کہ بعض افراد نے اس واقعہ سے متعلق گفتگو کرنے سے بھی گھبراہٹ محسوس کی اور وہ خاموش ہوگئے تھے لیکن ان سے بات کر کے ان کے اندر کا خوف نکالا گیا۔ رنک پٹیل ایک بزنس خاتون ہیں۔ اس روز وہ اوبیرائے ہوٹل میں کھانا کھا رہی تھیں کہ اچانک پتہ چلا کہ حملہ ہو گیا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ سب کانپنے لگے تھے، کچھ رو رہے تھے۔ ان کی حالت بھی خراب تھی۔ ہوٹل کا سٹاف ان سب کو کچن میں لے گئے جہاں سے انہیں چھڑایا گیا لیکن اس کے بعد انہیں بے خوابی کی شکایت ہوئی۔ ’بے چینی گھبراہٹ انہیں ہمیشہ رہنے لگی لیکن آرٹ آف لیونگ کے تربیتی کیمپ کی وجہ سے آج انہیں لگتا ہے کہ ڈر ان کے دل دماغ سے نکل چکا ہے اور وہ اب ایک نارمل انسان ہیں۔‘ ماہر نفسیات ڈاکٹر وجے بگاڑیا کے مطابق کچھ ایسے لوگ بھی ان واقعات سے متاثر ہوئے جنہوں نے مسلسل تین دنوں تک ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر خبریں دیکھیں۔ان میں بڑے اور بچے دونوں شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس ایسے افراد آئے جو اب گھر سے نکلنا نہیں چاہتے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا دور ہے جس میں وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے لیکن پھر بھی ان افراد کی کاؤنسلنگ ضروری ہوتی ہے۔ بگاڑیا نے تشویش ظاہر کی کہ ٹی وی پر لگاتار رپورٹ نے بچوں کے ذہنوں پر بہت ہی برا ثر ڈالا ہے۔ان کے پاس ایک والدین آئے جو یہ کہہ رہے تھے کہ ان کا بچہ کہتا ہے کہ مجھے پستول چاہئے میں ان سب کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔ ڈاکٹر ماچس والا کے مطابق ممبئی پر حملے ہوئے لیکن اس مرتبہ جس انداز میں دہشت گردوں نے پورے شہر کو ایک طرح سے یرغمال بنا کر رکھا تھا اس نے لوگوں کے ذہنوں پر بڑا ہی برا اثر مرتب کیا ہے۔ورنہ اس سے قبل ٹرین دھماکوں نے زیادہ تباہی مچائی تھی لیکن لوگ چند دنوں میں ہی وہ حادثہ بھول گئے تھے۔ انکم ٹیکس افسر شالنی ماتھر اس سال نئے سال کا جشن ہمیشہ کی طرح ہوٹل میں منانے کے بجائے اب گھر میں منائیں گی۔ ان کے دوست احباب بھی باہر جانا نہیں چاہتے۔ ڈاکٹر بگاڑیا اور ماچس والا کے مطابق لوگوں میں یہ احساس ابھی کچھ وقت اور رہے گا لیکن رفتہ رفتہ زندگی معمول پر لوٹ آئے گی۔ |
اسی بارے میں پاکستان کو لاشیں دینے کے لیے انٹرپول17 December, 2008 | انڈیا ’پولیس کی غلطی سے جانیں گئیں‘21 December, 2008 | انڈیا مہمان اداس بھی، خوش بھی21 December, 2008 | انڈیا تاج اور ٹرائیڈینٹ-اوبیروئے آج کھل رہے ہیں21 December, 2008 | انڈیا ’کارروائی کریں ورنہ آپشن کھلے ہیں‘22 December, 2008 | انڈیا ’اب لوگ کم آتے ہیں‘25 December, 2008 | انڈیا ’بس اب بہت ہو گیا‘24 December, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||