’قصاب کو قانونی دفاع فراہم کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ممبئی حملوں میں زندہ بچ جانے والے واحد مبینہ حملہ آور اجمل قصاب تک سفارتی رسائی اور اسے مناسب قانونی دفاع فراہم کرنے کا انتظام کرے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے یہ مطالبہ ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے اجمل قصاب کے پاکستانی ہونے پر افسوس کا اظہار کیا تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے اس کی تصدیق کو خوش آئندہ قرار دیا۔ ان کی رائے میں اجمل قصاب کی شہریت کے انکار سے حکومت کی ساکھ متاثر ہوتی اور بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوتا جس سے بات جنگ تک بھی پہنچنے کا خدشہ تھا۔ عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ سفارتی رسائی اور قانونی دفاع ہر شخص کا بنیادی حق ہے چاہے اس کے خلاف کوئی بھی الزام ہو۔ ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا تھا کہ وہ بھارت میں حقوق انسانی کی تنظیموں سے رابطہ کرے گی تاکہ اجمل قصاب کو دفاع کا حق دیا جاسکے اور اس کے خلاف کارروائی کی شفافیت اور غیرجانبداری کو یقینی بنایا جاسکے۔ پاکستان نے ابھی تک اجمل قصاب کو سفارتی رسائی اور قانونی مدد فراہم کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ تاہم بعض غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق حکومت ایسا کرنا نہیں چاہتی۔
نامہ نگار احمد رضا کے مطابق پاکستان اور بھارت میں امن اور انسانی بھلائی کے لیے کام کرنے والی تین درجن سے زیادہ تنظیموں نے مشترکہ طور پر دہشتگردی اور جنگ کے خلاف ایک دستخطی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اسلام آباد اور دلی سمیت بھارت کے پچیس اور پاکستان کے بیس شہروں میں بیک وقت چلائی جائے گی۔ یہ دستخطی مہم جمعہ کو دلی اور کراچی میں بیک وقت شروع کی گئی۔ منتظمین کے مطابق دستخطی مہم ایک مہینہ جاری رہے گی جس کے دوران ایک درخواست کے مسودے پر شہریوں کے دستخط لیے جائیں گے اور اسکے بعد جمع ہونے والے دستخط پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کے علاوہ دونوں ملکوں کے سیاسی رہنماؤں اور میڈیا کو پیش کئے جائیں گے۔ مظہر حسین بھارت میں اس مہم کے منتظمین میں شامل ہیں۔ دلی سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ممبئی حملوں کے بعد سے دونوں ملکوں کے بیچ جو کشیدگی ہے اسے کم کرنے کے لیے ہم شروع دن سے مقامی سطح پر کام کررہے تھے لیکن اب یہ مسئلہ اتنا بڑا ہوگیا ہے کہ صرف مقامی سطح پر اسکے خلاف اظہار رائے کافی نہیں ہوگا اسی لیے ہم نے اتنے بڑے پیمانے پر مہم چلانے کا فیصلہ کیا‘۔ پاکستان میں دستخطی مہم کی شروعات کا اعلان کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا جس سے پاکستانی کمیشن برائے انسانی حقوق کے اقبال حیدر، سابق گورنر سندھ کمال اظفر اور سینئر تجزیہ کار اور امن کارکن ایم بی نقوی نے خطاب کیا۔ اس موقع پر اقبال حیدر نے کہا کہ ’ہندوستان اور پاکستان دونوں کی سول سوسائٹی کے افراد کا یہ عزم ہے کہ دونوں ملکوں کو جنگ کے شعلوں اور جارحیت سے بچایا جائے اور بڑے پیمانے پر جتنے بھی دستخط ہم جمع کرسکیں وہ ہندوستان اور پاکستان کے حکومتوں کو دیں تاکہ انہیں یہ بتا جا سکے کہ عوام دونوں ملکوں میں دوستی اور شراکت چاہتے ہیں۔‘ ایم بی نقوی کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں عوام کی رائے کو اہمیت نہیں دی جا رہی جو صرف اور صرف امن چاہتے ہیں۔ دستخطی مہم کے لیے تیار کردہ مسودہ چھ نکاتی ہے۔ جس میں زور دیا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی حکومتیں دونوں ملکوں کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف قطعی عدم برداشت کی پالیسی اختیار کریں اور مذہبی جنونی اور دہشتگرد تنظیموں کے خاتمے اور دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث افراد کو سزائیں دینے کے لئے مؤثر اقدامات کریں تاکہ خطے کو سب کے لئے محفوظ بنایا جاسکے۔ مسودے میں دونوں ملکوں کی حکومتوں سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے لئے بِلا تاخیر مشترکہ تحقیقاتی ادارہ قائم کریں اور ایک دوسرے کو جنگ کی دھمکیاں دینے کے بجائے باہمی تنازعات کے حل کے لئے فوری طور پر مؤثر اور بامقصد بات چیت اور اقدامات کا آغاز کریں۔ منتظمین کے مطابق دستخطی مہم کے لیے کراچی اور حیدرآباد دکن میں الگ الگ سیکریٹریٹ قائم کئے گئے ہیں اور ایک ویب سائیٹ بھی بنائی گئی ہے جبکہ ان لوگوں کے لئے جو آن لائن یا انٹرنیٹ کے ذریعے اس مہم کی حمایت کرنا چاہتے ہوں انٹرنیٹ پر اس درخواست کا مسودہ بھی رکھا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں دنیا پاکستان پر دباؤ بڑھائے: مکرجی22 December, 2008 | انڈیا پاکستان کو لاشیں دینے کے لیے انٹرپول17 December, 2008 | انڈیا ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا ’ایک دن تو اڑتالیس پوسٹ مارٹم ہوئے‘03 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||