ممبئی دہشت گرد حملے: کب کیا ہوا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھبیس نومبر کی شام کو جب ممبئی پر جس ڈرامائی حملے کا آغاز ہوا اس کو چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ بھارتی میڈیا نے ان میں پاکستان کے ملوث ہونے کا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ حملہ آوروں پر قابو پانے میں بھارتی حکومت کو ساٹھ گھنٹوں سے زائد لگے جس میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ستائیس نومبر ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ ممبئی کے حملوں کی سازش کرنے والوں کے ٹھکانے ملک سے باہر ہیں۔ قوم سے خطاب کرتےہوئے انہوں نے ہندوستان مخالف عسکریت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں دینے والے ’ہمسایہ‘ ممالک کو بھی متنتبہ کیا اور ملک کے عوام سے ’ امن اور ہم آہنگی‘ برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ اٹھائیس نومبر ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھر جی نے کہا کہ ممبئی پر حملے میں ملوث کچھ عناصر کا تعلق پاکستان سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ابتدائی ثبوت ملے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ اس واقعہ کا پاکستان کے کچھ عناصر سے تعلق ہے۔‘ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کی درخواست پر ڈی جی آئی آیس آئی کو ممبئی حملے کی تفتیش میں مدد دینے کے لیے بھارت بھیجنے کی حامی بھر لی۔ انتیس نومبر وفاقی کابینہ نے آئی ایس آئی کے سربراہ کو ممبئی میں دہشت گردی کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک بھارت اس واقعہ کے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کرتا اُس وقت تک تفتیشی ادارے کے کسی بھی اہلکار کو بھارت نہیں بھیجا جائے گا۔ تیس نومبر زندہ گرفتار کیے جانے والے حملہ آور اجمل قصاب کے حوالے سے خبریں منظر عام پر آئیں کہ اس کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر فرید کوٹ سے ہے۔ یکم دسمبر ہندوستان نے ممبئی حملوں پر پاکستان سے باضابطہ احتجاج کیا۔ پاکستان کے سفیر کو بھارتی دفتر خارجہ طلب کر کے پاکستان سے احتجاج کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشتگردوں کو کنٹرول نہیں کر رہا ہے۔ صدرآصف علی زرداری نے بھارتی وزیر اعظم سے کہا کہ تحقیقات کے نتائج آنےسے پہلے ہی پاکستان کو ممبئی میں ہونے والے واقعات کا ذمہ دار قرار دینا ان غیر ریاستی شرپسند عناصر کےعزائم کی تکمیل ہو گی جو علاقے میں جنگ کرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ امریکہ پاکستانی حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ شہادتیں جس سمت اشارہ کر رہی ہیں اسی سمت تحقیقات کرائی جائیں۔ دو دسمبر ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ پاکستان کو ایک فہرست دی ہے جس میں بیس مشتبہ شدت پسندوں کے نام دیئے ہیں اور پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ان افراد کو ہندوستان کے حوالے کرے۔ تین دسمبر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے سی این این کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے ایسی کوئی شہادت نہیں دیکھی کہ ہندوستانی حکام کی حراست میں موجود مبینہ دہشت گرد پاکستانی شہری ہے۔ چار دسمبر امریکی وزیرخارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا کہ انہوں نے پاکستانی قیادت کو پیغام دیا ہے کہ ممبئی حملوں کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف فوری اور شفاف کارروائی کا عملی مظاہرہ ہونا چاہیئے۔ چھ دسمبر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر کسی ملک کی طرف سے اُس پر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ نو دسمبر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہوئے کابینہ کی کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بھارت کو ممبئی کے واقعات کی مشترکہ تفتیش کی دوبارہ پیشکش کی جائے۔ دس دسمبر ہندوستان نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے جماعتہ الدعوۃ پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاہم اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سفیر نے بھارتی مطالبے کی شدت پر ’قدرے حیرت‘ کا اظہار کیا ہے۔ گیارہ دسمبر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک پاکستانی عسکری تنظیم کے چار رہنماؤں کے نام اس فہرست مں شامل کر لیے ہیں جن میں وہ لوگ یا تنظیمیں شامل ہیں جن پر القاعدہ یا طالبان کے ساتھ مبینہ تعلق کی وجہ سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ چودہ دسمبر برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ برطانوی پولیس نے ابھی تک دہشتگردی سے متعلق جتنے بھی بڑے واقعات کی تحقیق کی ہے ان میں سے تین چوتھائی واقعات کا تعلق پاکستان سے نکلتا ہے۔ سترہ دسمبر وزیر دفاع چوہدری احمد مختار نے کہا ہے کہ جماعۃ الدعوۃ کے کارکنوں کو 90 دن کے لیے نظر بند کیا گیا ہے چھبیس دسمبر وزیر مملکت برائے خارجہ امور ملک عماد نے کہا ہے کہ بھارت نے ممبئی حملوں کے ناکافی ثبوت مہیا کیے ہیں۔ یکم جنوری پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ممبئی حملوں کی تحقیقات میں بھارت کے ساتھ تعاون کا عزم دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کے متعلق پاکستان کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن اسے اب بھی بھارت کی جانب سے شواہد کا انتظار ہے۔ تین جنوری وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ممبئی حملے کے ذمہ دار افراد کو پاکستان بھارت کے حوالے کرے تاکہ ان کے خلاف بھارتی قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکے۔ پانچ جنوری ہندوستان کے وزیرخارجہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ ہندوستانی حکومت نے پاکستانی حکومت کو ممبئی حملوں سے متعلق ثبوت سونپ دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ثبوتوں میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح سے ممبئی پر 26 نومبر 2008 کو ہونے والے حملوں کا تعلق پاکستان کے بعض شدت پسند عناصر سے ہے۔ چھ جنوری پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے بھارت کی جانب سے دیئے گئے شواہد حاصل ہوگئے ہیں اور وہ ان شواہد کے مواد کا مطالعہ کررہا ہے۔ ادھر پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹھوس شواہد ملنے پر ممبئی حملوں میں ملوث ’پاکستانیوں‘ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کو جس طرح سے انجام دیاگیا ہے اس میں پاکستان کی بعض سرکاری ایجنسیوں کی مدد کے اشارے ملتے ہیں۔ تیرہ جنوری وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بھارتی حکام کی طرف سے ممبئی واقعہ کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں ثبوت نہیں۔ تیس جنوری برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمِشنر واجد شمس الحسن نے کہا ہے کہ پاکستانی تحقیقت سے لگتا ہے کہ ممبئی میں ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان یا برطانیہ میں نہیں کی گئی تھی۔ بارہ فروری حکومت پاکستان نے ممبئی حملوں کی سازش کے کچھ حصے کی پاکستان میں تیاری کا پہلی مرتبہ اعتراف کرتے ہوئے اس میں مبینہ طور پر ملوث آٹھ افراد کے خلاف آج اسلام آباد میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||