 | | | ڈیوڈ ملی بینڈ کے مطابق دہشتگردی کوئی ادارہ یا نقطۂ نظر نہیں بلکہ یہ ایک مہلک طریقہ اور منصوبہ ہے |
ڈیوڈ ملی بینڈ کے گارڈین میں چھپنے والے مضمون میں مجھے کوئی بات بھی نئی نہیں ملی۔ اپنے مضمون میں برطانوی وزیر خارجہ نے جو بات کی ہے یہ وہ دلیل ہے جو پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے امریکہ پر حملے ہونے کے ساتھ ہی دینا شروع کی۔ ان کی پالیسیوں کی ناکامی اپنی جگہ لیکن سن دو ہزار دو کے اوائل میں ہی وہ کہنے لگے تھے کہ یہ معاملہ باہر بیٹھے دشمن کو رام کرنے کا نہیں بلکہ اپنے اندر پلتی ہوئی انتہا پسندی سے لڑنے کا ہے۔ اس وقت پاکستان کا سکیورٹی تجزیہ مکمل طور پر آئی ایس آئی کے ہاتھ میں تھا جس کے حتمی خالق جنرل احسان تھے۔ کچھ عرصہ پہلے وہ فوج سے ریٹائر ہو گئے اور ابھی کچھ ماہ پہلے اسی سلسلے میں ان سے گفتگو ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دو ہزار دو سے لے کر دو ہزار چار تک اپنے مغربی حریفوں کو یہ سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ مذہبی انتہا پسند ایک ایسا ہتھیار ہیں جو مغرب نے افغانستان میں سوویت یونین سے لڑنے کے لیے ایک عرصہ اور اربوں ڈالر لگا کر تیار کیے۔ اس کاوش میں مذہبی جنگجو اور خود کش بمبار تو بنے ہی لیکن ان کے بنانے میں پورا پاکستانی معاشرہ بھی انتہا پسندی کا شکار ہوا۔ لوگوں کے ذہن پلٹے اور سیاسی تشدد نے معاشرے میں جہاد کا روپ دھار کر قبولیت حاصل کی۔ اب اگر مذہبی انتہا پسندی راتوں رات ناقابل قبول ہو گئی تو اسے ختم کرنے کے لیے صرف مذہبی جنگجؤں کی سرکوبی ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی سوچ بدلنے کی ضرورت تھی اور یہ ایک ایسا چیلنج تھا جس کے ساتھ عسکری نہیں بلکہ سیاسی طور پر ہی نمٹا جا سکتا تھا۔ اسے سابق صدر پرویز مشرف کی ناکامی کہئیے یا پاکستان کی بدقسمتی، لیکن اس وقت پاکستان کی اس دلیل کو طالبان طرز کی سوچ کو تحفظ فراہم کرنے کا ایک بہانہ سمجھ کر کلی طور پر رد کر دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ بنیادی بات سمجھنے میں کم از کم برطانیہ کو اتنی دیر کیوں لگی؟ جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے تو آپ کو یاد ہو گا کہ امریکہ پر حملوں کے بعد صدر بش کا ایک کلیدی حلیف بنتے وقت اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے یہ دلیل دی تھی کہ ایسے نازک وقت پر صدر بش کو تنہا چھوڑنے کی بجائے ان کے ساتھ رہنا زیادہ سودمند ہو گا اور ایک ایسے وقت میں جب پورے کا پورا امریکہ بری طرح سے بھنایا ہوا تھا صدر بش کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کا ان کی رائے میں شاید یہی ایک طریقہ تھا۔ لیکن وقت نے ان کی اس سوچ کو قطعی ناقص ثابت کیا۔ تاہم اس وقت تک برطانیہ اس بری طرح سے اس معاملے میں الجھ چکا تھا کے ٹونی بلئیر کے جانے باوجود بھی برطانوی سرکار کے کرتا دھرتا افراد کو اپنی اس سوچ کو عام کرنے کے لیے امریکہ میں حکومت کی تبدیلی تک کا انتظار کرنا پڑا۔ یہ بھی ایک دلچسپ امر ہے کہ ڈیوڈ ملی بینڈ کا یہ مضمون ایک ایسے وقت میں شائع ہوا جب وہ ممبئی میں تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ خیال انہیں یکایک تو نہیں آیا ہو گا۔ اس ٹائمننگ کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ایک دفعہ پھر پاکستان کے موقف کا ذکر کرنا پڑے گا جس کے مطابق اگر انتہا پسندوں کے خلاف صرف طاقت استعمال کی گئی تو ان کے بڑے بڑے گروہ تو شاید ٹوٹ جائیں لیکن ایسی صورت میں ایک بڑا خطرہ یہ ہو گیا کہ انتہا پسند چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ کر بالکل ہی بے قابو ہو جائیں گے۔ اور میرے خیال میں ممبئی پر حملہ اس حقیقت کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔ شاید اسی لیے انہوں نے اپنا مضمون چھاپنے کے لیے یہ وقت چنا۔ |