BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 December, 2008, 10:38 GMT 15:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیشتر دہشتگردی پاکستان سے: براؤن

گورڈن براؤن ، صدر آصف زرداری
اب وقت باتوں کا نہیں، دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا ہے: برطانوی وزیر اعظم
برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ برطانوی پولیس نے ابھی تک دہشتگردی سے متعلق جتنے بھی بڑے واقعات کی تحقیق کی ہے ان میں سے تین چوتھائی واقعات کا تعلق پاکستان سے نکلتا ہے۔

پاکستان میں صدر آصف زرادری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ اب وقت باتوں کا نہیں، دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ برطانیہ نے پاکستان سے دہشتگردی سے نمٹنے کا جامع پروگرام ترتیب دیا جس کے تحت پاکستانی پولیس کو دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے آلات دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اب پاکستان سے نکل کر بھارت میں بھی پہنچ چکی ہے اور ممبئی حملے میں 170 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ملاقات کے دوران صدر آصف علی زرداری نے انہیں یقین دلایا ہے کہ پاکسانی حکومت ان افراد کے خلاف کارروائی کرےگی جو ممبئی حملوں میں ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں آرہی تھیں کہ برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے بھارت کے دروے کے دوران ہندوستان کے اس الزام کی تائید کی ہے کہ ممبئی پر گزشتہ ماہ ہونے والے حملے لشکر طیبہ نےکیے تھے۔

مسٹر براؤن افغانستان کے بعد انڈیا اور پاکستان کا مختصر دورہ کیا۔ براؤن پہلے انڈیا گئے جہاں ان کی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات ہوئی ہے۔

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی براردی کو مل کر دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہوگا اور جب تک دہشتگردی کو جڑ سے نہ اکھاڑا جائے اُس وقت تک عالمی برادری دہشتگردی کا شکار ہوتی رہے گی۔

گورڈن براؤن نے کہا کہ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات میں کہا ہے کہ اگر بھارت چاہے تو برطانوی پولیس ممبئی حملوں میں گرفتار ہونے والے مشتبہ شخص سے تفتیش میں مدد دے سکتی ہے۔

تکنیکی غلطی تھی
بھارتی طیارہ
بھارتی جنگی طیاروں کی پاکستانی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ایک تکنیکی غلطی تھی۔ میڈیا اس معاملے کو زیادہ ہوا نہ دے۔
آصف زرداری

انہوں نے کہا کہ برطانوی پولیس نے تین واقعات کی تفتیش کی ہے اور ان دہشتگردی کے تینوں واقعات میں القاعدہ ملوث ہے جس کا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ہے۔

گورڈن براؤن نے کہا کہ برطانوی حکومت دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کو ایک جامع پروگرام دیا ہے جس کے تحت پاکستان کو سیکینرز اور دوسرا سامان فراہم کیا جائے گا جس سے بارود سے بھری ہوئی گاڑیوں کا پتہ چلانے کے علاوہ ایئرپورٹس پر سیکورٹی کے اقدامات مزید سخت کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بنیاد پرستی کے خاتمے اور حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کے لیے 60 لاکھ پونڈ دیئے جائیں گے۔

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ اُن نوجوانوں کے ساتھ مذاکرات بھی کیے جائیں گے جنہیں خودکش حملوں کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کو شدت پسندوں کے خلاف مزید کارروائی کرنا ہوگی اور اب یہ وقت باتوں کا نہیں بلکہ عملی کارروائی کرنے کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان سرحد پر شدت پسندی کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے اور اُن عناصر کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی جو دونوں ملکوں میں دہشتگردی کی واقعات میں ملوث ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستانی حکومت کو دہشتگردی کے خاتمے کے سلسلے میں مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خود دہشتگردی سے دوچار ہے اور اس سال پچاس سے زائد خودکش حملے ہوچکے ہیں جبکہ دو سال پہلے صرف سات خودکش حملے ہوئے تھے۔

گورڈن براؤن نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی فیملی بھی دہشتگردی کا شکار رہی ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو ممبئی حملوں کی تفتیش کے لیے مشترکہ ٹیم بنانے کی بھی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے ان واقعات کے بارے میں رپورٹ ابھی تک پاکستانی حکومت کو نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی اشیاء میں امن چاہتا ہے اور اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی ہمارا مشترکہ دشمن ہے اور اس کے خلاف مل کر لڑنا ہوگا۔

صدر زرداری نے کہا کہ انہوں نے افغان صدر حامد کرزئی سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر سیکورٹی کو مزید بہتر بنانے کی بات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ کا پاکستان کی ترقی میں ایک اہم کردار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ سنیچر کو بھارتی جنگی طیاروں کی پاکستانی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ایک تکنیکی غلطی تھی تاہم انہوں نے میڈیا سے کہا کہ وہ اس معاملے کو زیادہ ہوا نہ دیں۔

اسی بارے میں
بھارت میں ملا جلا ردِ عمل
11 December, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد