BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہالبروک کی پاکستان آمد پرتوقعات

رچرڈ ہولبروک
رچرڈ ہالبروک کی تعیناتی صدر اوبامہ کی دنیا میں پائیدار امن قائم کی کوششوں کی ابتدا ہے
امریکی صدر باراک اوبامہ کے پاکستان اور افغانستان کے خصوصی نمائندے رچرڈ سی ہالبروک کی خطے میں آمد سے قبل ہی انہیں دیئےگئے مشن میں انہیں درپیش مشکلات اور روکاوٹوں کی نشاندہی کی جانے لگی ہے۔

اس تعیناتی سے امیدیں بھی ہیں اور خدشات بھی۔ ایسے میں اہم ترین سوال یہی ہے کہ آیا وہ اس خطے کے لیے پائیدار امن حاصل کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں؟

کسی بھی تنازعے کے کامیابی سے حل میں سب سے زیادہ انحصار ثالث کی قبولیت، اہلیت، صلاحیت اور تجربے پر ہوتا ہے۔

اگرچہ ستاسٹھ سالہ رچرڈ ہالبروک جن کی زندگی کے پینتالیس برس ویتنام، بوسنیا اور دیگر کئی جنگ زدہ علاقوں میں سفارتی محاذ پر گزاری لیکن جنوبی ایشیا کا کوئی خاص تجربہ نہیں رکھتے ہیں۔ تاہم انہیں معمار ’ڈیٹن معاہدہ‘ قرار دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں بوسنیائی مسلمانوں کو سربیائی مظالم سے نجات ملی تھی۔ کیا وہ ایسا ہی کوئی ’معجزہ‘ یہاں بھی دیکھا پائیں گے کہ نہیں؟

وہ ایک ایسے وقت پاکستان آ رہے ہیں جب یہ خطہ شدت پسندی میں اضافہ دیکھ رہا ہے، ممبئی حملوں کے بعد بھارت بھی پاکستان کے سر پر سوار ہے، امریکی پالیسیوں کی مخالفت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، سرحدی علاقے القاعدہ کی پناہ گاہیں قرار دی جا رہی ہیں، پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں کمزور ہیں، بدعنوانی اور منشیات کی تجارت پر قابو پانے میں بظاہر کوئی کامیابی نہیں پائی جاسکی ہے اور مغرب کے لیے ان سب سے زیادہ تشویشناک بات پاکستانی جوہری ہتھیاروں کے شدت پسندوں کے ہاتھوں میں چلے جانے کا امکان ہے۔

رچرڈ ہالبروک کا تجربہ
رچررڈ ہالبروک، یوگوسلاویہ کے صدر ملازوچ
 ستاسٹھ سالہ رچرڈ ہالبروک کی زندگی کے پینتالیس برس ویتنام، بوسنیا اور دیگر کئی جنگ زدہ علاقوں میں سفارتی محاذ پر گزاری ۔انہیں معمار ’ڈیٹن معاہدہ‘ قرار دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں بوسنیائی مسلمانوں کو سربیائی مظالم سے نجات ملی

ایسے میں اس خطے میں یہ وقت بھی علاقائی سیاست کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔ امریکی ایلچی کی نظریں یقینا ہوں گی اس سال افغانستان میں صدارتی انتخابات پر ہوں گی۔ اس موقع پر دیکھنا یہ ہوگا کہ صدر حامد کرزئی امریکہ سے بڑھتے ہوئے اختلافات کے تناظر میں دوبارہ منتخب ہو پائیں گے یا نہیں۔

دوسری جانب بھارت میں عام انتخابات کے نتیجے میں کانگریس حکومت میں رہ پاتی ہے یا نہیں یہ بھی اہم ہوگا۔

بھارت کا ذکر اس لیے کیا کہ اگرچہ نئے امریکی صدر نے اپنی انتخابی مہم میں ایک آدھ مرتبہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کو مسئلہ کشمیر سے جوڑا تھا اور ان کا بظاہر ارادہ بھی جنوبی ایشیا نہ کہ محض پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی تعینات کرنے کا تھا۔

البتہ بھارت زور آور بھارت ہے۔ اس نے سفارتی ذرائع کے ذریعے نئی امریکی انتظامیہ پر واضح پر دیا تھا کہ کشمیر یا بھارت کے لیئے خصوصی ایلچی کی تقرری اسے ناقابل قبول ہوگی۔ بھارت کی جانب سے ہالبروک کو ’ناپسندیدہ شخصیت‘ قرار دینے کی دھمکی نے باآخر کام کر دکھایا۔ اس تمام مزاحمت کے باوجود ہالبروک اسلام آباد کے بعد کابل اور پھر اطلاعات ہیں کہ دلی بھی جائیں گے۔ تو آخر ان کا دلی میں کیا کام؟

بھارت کی ہالبروک سے پریشانی
 بھارت کی جانب سے ہالبروک کو ’ناپسندیدہ شخصیت‘ قرار دینے کی دھمکی نے کام کر دکھایا لیکن اس تمام مزاحمت کے باوجود ہالبروک اسلام آباد کے بعد کابل اور پھر دلی بھی جائیں گے۔ تو آخر ان کا دلی میں کیا کام؟

پاکستانی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی واضح کر چکے ہیں کہ شدت پسندی ایک علاقائی مسئلہ ہے یہ صرف پاکستان اور افغانستان کا درد سر نہیں ہے۔ ایسے میں ماہرین کے خیال میں بہتر یہی ہوگا کہ اس خطے میں پائیدار امن کے لیے ہالبروک جو حل تلاش کرنے کی کوشش کریں اس میں مسئلہ کشمیر پر بھی کچھ توجہ دی جانی چاہیے۔

اس سے قبل برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کشمیر پر جو گزشتہ دنوں کشمیر کے متعلق جو کہا اس کی وجہ سے ان پر بھارت میں شدید تنقید کی گئی۔ بھارت ماضی کی طرح اپنے موقف پر اڑا ہوا ہے اور اس بابت کسی لچک کا خواہاں دکھائی نہیں دیتا۔ ممبئی حملوں سے زخمی اس کی بات ابھی کوئی ٹالنا نہیں چاہ رہا تاہم شاید یہ صورتحال زیادہ دیر نہ چل پائے۔

مسائل کے حل کے لیے قدرے مختلف طریقے اختیار کرنے کی اہلیت رکھنے والے رچرڈ ہالبروک ابتدائی اشارے بھی قدرے مختلف دے رہے ہیں۔ وہ ماضی کے اعلی امریکی اہلکاروں کی طرح چھپ کر پاکستان پہنچ کر آنے کا اعلان نہیں کر رہے بلکہ اس کی تاریخ کا اعلان کافی پہلے سے کر چکے تھے۔

پھر وہ محض دو یا تین گھنٹے کے مختصر دورے کرنے والے امریکی اہلکاروں کے برعکس چار روز تک پاکستان رہیں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا یہ دورہ انتہائی تفصیلی ہے۔ وہ پوری صورتحال سے اپنے آپ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس بابت ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اعلیٰ اہلکاروں کے علاوہ غیراہم اہلکاروں سے بھی ملنے سے نہیں کتراتے۔

اس کے لیے انہیں اپنی ہی لکھی ہوئی کتاب ’ ٹو اینڈ اے وار (جنگ ختم کرنے کے لیئے)’ میں اپنی سفارتی زندگی کا اکٹھا کیا ہوا نچوڑ اس خطے میں کافی کام آئے گا۔

جنگ کا حل کیا؟
طالبان سے مذاکرات یا مسلسل کشمکش
احمد ولی کرزئی(فائل فوٹو)صدر کے بھائی پر الزام
حامد کرزئی کے بھائی پر ڈرگ سمگلنگ کا الزام
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد