دو عہدوں پردولتِ مشترکہ کو تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دولتِ مشترکہ کے سیکرٹری جنرل ڈان میکنن نے کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو رواں سال کے آخر تک صدر اور آرمی چیف کے عہدوں کو الگ کر دینا چاہیے۔ ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈان میکنن کا کہنا تھا کہ دولتِ مشترکہ کے رہنماء پاکستان میں جمہوری اصلاحات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے سال 2007 اہم ہے۔ سال انیس سو ننانوے میں جب فوج نے ایک منتخب حکومت کو برخاست کرتے ہوئے اقتدار سنبھالا تھا تو تریپن ممالک پر مشتمل دولتِ مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کر دی تھی۔ تاہم پانچ سال بعد مئی 2004 میں جنرل مشرف کے دور میں کی گئی کچھ ’جمہوری اصلاحات‘ کو تسلیم کرتے ہوئے دولتِ مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کوالالمپور میں دیئے گئے انٹرویو میں دولتِ مشترکہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کی رکنیت معطل نہیں ہے لیکن یہ ابھی ایجنڈے پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دولتِ مشترکہ کے رہنماؤں کے خیال میں جنرل مشرف نے ملک میں حالات کو معمول پر لانے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے کافی پیش رفت کی ہے۔ اس حوالے سے جان میکنن نے پارلیمان میں خواتین اور اقلیتوں کی نمائندگی میں اضافے کا خاص طور پر ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف کے سربراہ مملکت اور آرمی چیف کے عہدوں کو بیک وقت اپنے پاس رکھنے پر دولتِ مشترکہ کے رہنماؤں کو ابھی بھی تشویش ہے۔ ’ دولتِ مشترکہ کے رہنماؤں کو توقع ہے کہ اس سال کے آخر تک وہ (مشرف) ان دو عہدوں کو علیحدہ کر دینگے‘۔ جان میکنن نے اگرچہ یہ نہیں کہا کہ صدر مشرف کے دونوں عہدے اپنے پاس رکھنے کی صورت میںدولتِ مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت دوبارہ معطل کرنے پر غور کیا جائے گا لیکن ان کہنا تھا کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کامن ویلتھ میں رہنا چاہتا ہے اور اس نے اس کے لیے کوشش بھی کی ہے۔ ’ہمیں احساس ہے کہ دولتِ مشترکہ کی رکنیت کے علاوہ بھی پاکستان کے مسائل ہیں اور ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں ۔۔۔۔ لیکن دولتِ مشترکہ کے بھی کچھ تصورات ہیں، جن کو ہم چاہتے ہیں کہ رکن ممالک برقرار رکھیں‘۔ پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے صدر مشرف ایک اور مدت کے لیے اسی سال اکتوبر یا نومبر میں پارلیمان سے منتخب ہو نگے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کے عہدے سے دستبرداری کا فیصلہ صدر مشرف خود ہی کرینگے۔ |
اسی بارے میں جمہوری قوتوں کو موقع دیں: بینظیر25 April, 2007 | پاکستان ’سب سے بڑا چیلنج اندرونی خطرات‘17 April, 2007 | پاکستان مشرف کی وردی: 2007 تک مہلت11 February, 2005 | پاکستان ’وردی: پارلیمنٹ کا فیصلہ مانیں گے‘22 October, 2004 | پاکستان رکنیت کی بحالی پر ملا جلا ردعمل23 May, 2004 | پاکستان پاکستان کی رکنیت بحال22 May, 2004 | پاکستان فیصلہ درست نہیں: پاکستان09 December, 2003 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||