BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 April, 2007, 02:45 GMT 07:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو عہدوں پردولتِ مشترکہ کو تشویش
ڈان میکنن
ڈان میکنن کے مطابق پاکستان کامن ویلتھ میں رہنا چاہتا ہے
دولتِ مشترکہ کے سیکرٹری جنرل ڈان میکنن نے کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو رواں سال کے آخر تک صدر اور آرمی چیف کے عہدوں کو الگ کر دینا چاہیے۔

ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈان میکنن کا کہنا تھا کہ دولتِ مشترکہ کے رہنماء پاکستان میں جمہوری اصلاحات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے سال 2007 اہم ہے۔

سال انیس سو ننانوے میں جب فوج نے ایک منتخب حکومت کو برخاست کرتے ہوئے اقتدار سنبھالا تھا تو تریپن ممالک پر مشتمل دولتِ مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کر دی تھی۔

تاہم پانچ سال بعد مئی 2004 میں جنرل مشرف کے دور میں کی گئی کچھ ’جمہوری اصلاحات‘ کو تسلیم کرتے ہوئے دولتِ مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔

کوالالمپور میں دیئے گئے انٹرویو میں دولتِ مشترکہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کی رکنیت معطل نہیں ہے لیکن یہ ابھی ایجنڈے پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دولتِ مشترکہ کے رہنماؤں کے خیال میں جنرل مشرف نے ملک میں حالات کو معمول پر لانے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے کافی پیش رفت کی ہے۔

اس حوالے سے جان میکنن نے پارلیمان میں خواتین اور اقلیتوں کی نمائندگی میں اضافے کا خاص طور پر ذکر کیا۔

کامن ویلتھ کے تصورات
 ہمیں احساس ہے کہ کامن ویلتھ کی رکنیت کے علاوہ بھی پاکستان کے مسائل ہیں اور ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں، لیکندولتِ مشترکہ کے بھی کچھ تصورات ہیں، جن کو ہم چاہتے ہیں کہ رکن ممالک برقرار رکھیں
جان میکنن

ان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف کے سربراہ مملکت اور آرمی چیف کے عہدوں کو بیک وقت اپنے پاس رکھنے پر دولتِ مشترکہ کے رہنماؤں کو ابھی بھی تشویش ہے۔ ’ دولتِ مشترکہ کے رہنماؤں کو توقع ہے کہ اس سال کے آخر تک وہ (مشرف) ان دو عہدوں کو علیحدہ کر دینگے‘۔

جان میکنن نے اگرچہ یہ نہیں کہا کہ صدر مشرف کے دونوں عہدے اپنے پاس رکھنے کی صورت میںدولتِ مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت دوبارہ معطل کرنے پر غور کیا جائے گا لیکن ان کہنا تھا کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کامن ویلتھ میں رہنا چاہتا ہے اور اس نے اس کے لیے کوشش بھی کی ہے۔ ’ہمیں احساس ہے کہ دولتِ مشترکہ کی رکنیت کے علاوہ بھی پاکستان کے مسائل ہیں اور ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں ۔۔۔۔ لیکن دولتِ مشترکہ کے بھی کچھ تصورات ہیں، جن کو ہم چاہتے ہیں کہ رکن ممالک برقرار رکھیں‘۔

پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے صدر مشرف ایک اور مدت کے لیے اسی سال اکتوبر یا نومبر میں پارلیمان سے منتخب ہو نگے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کے عہدے سے دستبرداری کا فیصلہ صدر مشرف خود ہی کرینگے۔

انتخابی مہم
مشرف کی سیاسی سرگرمیوں پر نئی بحث
صدر مشرفتحفظِ نسواں قانون:
اعتدال پسندی کی جیت، فرسودہ خیالی کی ہار
مشرفمشرف کا انٹرویو
غیر مقبول ہوا تو اقتدار چھوڑ دوں گا: مشرف
بے نظیر’ملک کو حقیر کیا‘
بینظیر کے مطابق مشرف نےملک کو حقیر کیا ہے
صدر مشرفوعدہ تو کیا تھا۔۔۔
مسئلہ وردی سے زیادہ اہم ہے: صدر مشرف
صدر مشرفوردی یا شیروانی
صدر مشرف کی وردی پر بیانات کی بوچھاڑ
تجزیہ: صدر کی وردی اتارنا طے نہیںدسمبر کا وعدہ؟
تجزیہ: صدر کی وردی اتارنا طے نہیں
اسی بارے میں
مشرف کی وردی: 2007 تک مہلت
11 February, 2005 | پاکستان
پاکستان کی رکنیت بحال
22 May, 2004 | پاکستان
فیصلہ درست نہیں: پاکستان
09 December, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد