صدر کی وردی اتارنا طے نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویزمشرف کا آرمی چیف کے عہدے پر برقرار رہنا ایک بار پھر قومی سیاست کا بڑا موضوع بن گیا ہے اور حکومت کی طرف سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ صدر مشرف کا وردی اتارنا اس طرح طے نہیں جیسا کہ سترہویں آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت کہا گیا تھا۔ صدر مشرف نے روزنامہ جنگ اور دی نیوز کو ایک انٹرویو میں پہلی بار واضح طور پر کہا ہے کہ سترہویں آئینی ترمیم ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کرتی ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک وردی اتار دیں۔ انہوں نے کہا کہ وردی اتارنے کا فیصلہ انہیں خود کرنا ہے اور انہوں نے ابھی یہ فیصلہ ابھی نہیں کیا۔ صدر مشرف نے کہا کہ اس سلسلے میں جو بھی وعدے کیے جارہے ہیں یا سترہویں آئینی ترمیم کے تحت کسی حتمی تاریخ کی بات کی جارہی ہے یا محض ان کی اپنی سوچ ہے۔ دی نیوز کے ایڈیٹر سلیم بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر مشرف نے ان کو دیے گۓ انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے متحدہ مجلس عمل سے سترہویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے وردی اتارنے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ لاہور میں وفاقی وزیر دفاع اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ راؤ سکندر اقبال نے بھی صحافیوں سےبات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مشرف سترہویں آئینی ترمیم کے تحت آرمی چیف کی وردی اتارنے کے پابند نہیں اور یہ کہ اس سے متعلق شق میں پارلیمینٹ کی سادہ اکثریت سے ترمیم کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کا موقف ہےکہ انہیں آئندہ دو سال تک آرمی چیف کا عہدہ نہیں چھوڑنا چاہئے ورنہ ملک میں افراتفری پھیل جائے گی اور اتنی تباہی ہوگی جس کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔ دوسری طرف متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ سترہویں آئینی ترمیم کے تحت صدر مشرف وردی اتارنے کے پابند ہیں لیکن حکومت جان بوجھ کر اس میں کنفیوژن پیدا کررہی ہے اور اگر انہوں نے سال کے آخر تک وردی نہیں اتاری تو مزاحمت کی جائے گی۔ صدر جنرل مشرف کی دردی کے معاملہ پر حکومتی ارکان کے بیانات سے یوں لگتا ہے کہ حکومت اس معاملہ پر ایک سیاسی فضا تیار کررہی ہے اور ممکنہ عوامی ردعمل کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||