پاکستان کی رکنیت بحال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دولتِ مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت بحال کر دی گئی ہے۔ اس بات کا اعلان ہفتہ کو دولت مشترکہ کے لندن میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے کیا۔ پاکستان نے اپنی رکنیت کی بحالی کا خیر مقدم کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ رکنیت کی بحالی پاکستان کی اخلاقی فتح ہے ، جس کا انہیں کافی عرصے سے انتظار تھا۔ دولتِ مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت انیس سو ننانوے میں جنرل مشرف کے حکومت پر قبضے کے بعد معطل کر دی گئی تھی۔ دولتِ مشترکہ کے وزراء کے ایکشن گروپ نے ایل ایف او کو سترہویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کا حصہ بنانے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں جمہوریت کی طرف پیش قدمی، جمہوری اداروں اور انیس سو تہتر کے ترمیم شدہ آئین کی بحالی کا خیر مقدم کیا۔ تاہم انہوں نے جہموری نظام کے استحکام کے بارے میں چند امور پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ حزب اختلاف کی جماعتوں سے کیے گئے وعدے اور ستروہیں ترمیم میں طے شدہ وقت کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف اس سال دسمبر میں فوج کے سربراہ کے عہدے سے دستبردار ہو جائیں گے۔ وزارتی گروپ نے کہا کہ وہ پاکستان کی بدلتی ہوئی صورت حال پر مسلسل نظر رکھے گا۔ گروپ نے سیکرٹری جنرل سے کہا کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جمہوریت کی بحالی، اچھی حکومت کے قیام اور اس کی فعال کارکردگی کے لیے تکنیکی مہارت فراہم کرے اور اگلے اجلاس میں گروپ کو اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرے۔ دولتِ مشترکہ کی دوسری تنظیموں سے بھی اسی طرح کی امداد فراہم کرنے کی درخواست کی گئی۔ شیخ رشید نے کہا کہ یہ دولت مشترکہ کے بھی مفاد میں تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے بعد رکنیت معطل نہ رکھیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ رکنیت کی بحالی صدر جنرل پرویز مشرف کے ایک عہدہ رواں سال کے آخر تک چھوڑنے سے مشروط ہے، تو انہوں نے کہا کہ صدر ستروہیں آئینی ترمیم پر پہلے ہی عمل کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی، کے سینیئر نائب چیئرمین مخدوم امین فہیم نے چند دن قبل یورپی یونین اور دولت مشترکہ کو ایک خط لکھ کر ان پر زور دیا تھا کہ جب تک پاکستان میں مکمل جمہوریت بحال نہ ہو اس وقت تک رکنیت بحال نہ کریں۔ جب امین فہیم سے دولت مشترکہ کے فیصلے پر تبصرے کے لئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ابھی جمہوریت مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||