| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیصلہ درست نہیں: پاکستان
پاکستان نے دولتِ مشترکہ کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے جس میں اس کی دولتِ مشترکہ کی رکنیت سے معطلی کو جاری رکھا گیا ہے۔ پاکستان کی رکنیت 1999 میں جنرل مشرف کے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ کر قتدار میں آنے کے بعد معطل کی گئی تھی۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار لکھتے ہیں کہ پاکستان کہتا ہے کہ وہ دولتِ مشترکہ میں شامل ہونے کا مکمل طور پر اہل ہے اور اس کے سب معیاروں پر پورا اترتا ہے۔ لیکن دولتِ مشترکہ پر آئے ہوئے مندوبین اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دولتِ مشترکہ میں اس کی دوبارہ شمولیت کی راہ میں اس کا ہمسایہ ملک ہندوستان حائل ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ زمبابوے کی تقلید کرتے ہوئے دولتِ مشترکہ سے رکنیت مستقل طور پر ختم نہیں کریں گے۔ تاہم تنظیم کے فیصلے پر انہیں غصہ ضرور ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا ہے کہ دولتِ مشترکہ نے رکنیت کی بحالی کے لیئے جو معیار بنایا ہے وہ عصبیت پر مبنی اور بلا جواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے متعلق منفی تاثر پیدا کرنے سے دولتِ مشترکہ اپنے اصل جذبے سے محروم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کو اپنے اندر ہی زیادہ جمہوریت دِکھانی چاہیئے تھی۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ چار سال قبل کے فوجی انقلاب کے بعد اس نے جمہوریت بحال کی ہے اور انتخابات کے بعد قومی اسبملی اور سویلین کابینہ آزادانہ اپنا کام کر رہی ہیں۔ تاہم دولتِ مشترکہ کے چند رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتخابات سے قبل آئینی ترامیم کے ذریعے لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت حکومت برطرف کرنے کے صوابدیدی اختیارات اور جنرل مشرف کا بیک وقت صدر اور چیف آف دی آرمی سٹاف کے عہدوں پر فائز رہنے کا مطلب ہے کہ جمہوریت ابھی مکمل طور پر نہیں آئی۔ مسعود خان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ دولتِ مشترکہ کے اہم اراکین برطانیہ اور آسٹریلیا کی حمایت کے باوجود پاکستان کا بڑا مخالف، ہندوستان، تنظیم میں اس کی دوبارہ واپسی کو روکتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ ہندوستان کا منفی ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||