BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 February, 2009, 09:17 GMT 14:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات، باجوڑ کے مہاجرین حکومت سے مایوس

اقوام متحدہ کے کیمپ میں رہنے والے سوات اور باجوڑ کے مہاجرین

پاکستان میں موجود جمہوری حکومت کو قائم ہوئے ایک سال پورا ہونے کو ہے لیکن صوبہ سرحد کے وادی سوات اور قبائلی علاقوں میں جاری تشدد کی کارروائیوں میں کسی قسم کی کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی اور اس دوران جنگ زدہ علاقوں سے بےگھر ہونے والے لاکھوں افراد حکومت کی کارکردگی سے انتہائی نالاں نظر آتے ہیں۔

پاکستان میں اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے نتیجے میں صوبہ سرحد میں قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی پہلی بار اکثریتی جماعت ابھر کر سامنے آئی۔ اے این پی نے عوام کے مسائل کے حل کےلیے انتخابی مہم کے دوران امن کا نعرہ بلند کیا اور مبصرین کے مطابق اسی بروقت الیکشن نعرے کی وجہ سے انہیں کسی حد تک بھرپور عوامی مینڈیٹ بھی ملا۔ تاہم صوبائی حکومت کو قائم ہوئے دس ماہ ہوچکے ہیں لیکن وہ صوبہ میں امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ کچھ علاقوں میں تو حالات اب اس کے قابو سے باہر ہوچکے ہیں۔

سوات میں گزشتہ سال مئی کے ماہ میں صوبائی حکومت اور مقامی طالبان کے مابین ایک امن معاہدہ طے پایا گیا جس کے بعد شورش زدہ وادی میں تقریباً ایک ڈیڑھ ماہ تک کسی حد تک حالات بہتر رہے۔ لیکن یہ معاہدہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکا اور سوات میں کچھ عرصہ کے بعد ایک بار پھر بھرپور فوجی کارروائیوں کا نئے سرے سے آغاز کیا گیا جو تاحال جاری ہے جس میں اب تک ہزاروں عام شہری اپنی جانیں گنواچکے ہیں۔

 جس مشکل حالت کے دوران میں باجوڑ سے اپنے خاندان سمیت پشاور پہنچاہوں وہ میں بیان نہیں کرسکتا۔ میں اور میرے بچوں نے موت اتنے قریب سے دیکھا ہے کہ اب بھی جب میں اسے یاد کرتا ہوں تو خوف زدہ ہوجاتا ہوں۔
خان گل
امن معاہدہ ٹوٹنے کے بعد شروع ہونے والی لڑائی میں عام لوگوں کی ہلاکت میں اس لحاظ سے بھی اضافہ ہوا کیونکہ شہریوں کو دونوں طرف سے مارا جارہا ہے، طالبان بھی انہیں نشانہ بن ارہے اور سکیورٹی فورسز بھی۔

فوجی آپریشن میں شدت آنے کی وجہ سے بالائی سوات کے تقریباً تمام علاقوں سے لوگ بہت بڑے پیمانے پر بےگھر ہوچکے ہیں۔ ان کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہے۔ سوات کے سرد موسم میں گھر بار چھوڑنے والے یہ پناگزین صدر مقام مینگورہ اور آس پاس میں واقع علاقوں میں اس وقت انتہائی مشکل میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ پناہ گزین حکومت کی دس ماہ کی کارکردگی سے انتہائی نالاں اور مایوس نظرآتے ہیں۔

اوڈی گرام مہاجر کیمپ میں مقیم ایک شخص باچا سید کا کہنا ہے کہ عوام نے قوم پرست جماعت عوامی نشینل پارٹی کو اس مقصد کے تحت ووٹ دیا تھا کہ وہ سوات میں امن قائم کرے گی لیکن امن کی بجائے انہوں نے لوگوں کو اپنے ہی ملک میں بے گھر کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جب خود اپنے لوگوں کو مار رہی ہو تو گلہ کس سے کیا جائے۔ ان کے بقول ’قصور ہمارا ہی ہے کیونکہ اگر ہم ان کو ووٹ نہ دیتے تو شاید آج ہم کسی مہاجر کیمپ میں زندگی نہیں گزار رہے ہوتے۔‘

مٹہ سے مینگورہ منتقل ہونے والے ایک شخص جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ سوات میں دوبارہ آپریشن شروع ہونے کی وجہ سے لوگوں کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق ایک ماہ قبل ہم نے بچوں اور عورتوں سمیت مٹہ سے ہجرت کی اور آج کل رشتہ داراوں کے ہاں رہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوات سے منتخب ہونے والے تمام وزراء، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی پہلے ہی طالبان کی طرف سے حملوں کی وجہ سے پشاور، اسلام آباد اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں منتقل ہوچکے ہیں۔

 سوات کے علاوہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ آٹھ ماہ سے فوجی آپریشن جاری ہے جس کی وجہ سے تقریباً تین لاکھ افراد نقل مکانی کرکے مختلف علاقوں میں پناہ لے چکے ہیں۔ باجوڑ کے متاثرین کےلیے دیر، مردان ، نوشہرہ اور پشاور میں مختلف مقامات پر مہاجر کیمپ بنائے گئے ہیں جہاں وہ کئی قسم کے مسائل سے دوچار ہیں۔
’جب ہمارے نمائندے ہی سوات میں نہیں ہیں تو ہمارے مسائل کس طرح حل ہونگے، کون ہمارا حال پوچھے گا، کسے کیا پتہ کہ ہم مہاجر کیپموں میں کس قسم کے مسائل سے دوچار ہیں۔‘

سوات کے علاوہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ آٹھ ماہ سے فوجی آپریشن جاری ہے جس کی وجہ سے تقریباً تین لاکھ افراد نقل مکانی کرکے مختلف علاقوں میں پناہ لے چکے ہیں۔ باجوڑ کے متاثرین کےلیے دیر، مردان ، نوشہرہ اور پشاور میں مختلف مقامات پر مہاجر کیمپ بنائے گئے ہیں جہاں وہ کئی قسم کے مسائل سے دوچار ہیں۔

پشاور کے کچا گڑھی کیمپ میں اس وقت باجوڑ کے تقریباً پندرہ ہزار متاثرین مقیم ہیں۔ کیمپ میں رہنے والے افراد حکمرانوں کی پالیسیوں سے اتنے مایوس ہوئے ہیں کہ وہ اس پر بات کرنے تک کو تیار نہیں۔

ان سے جب حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر بات کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ’ کس حکومت اور کس لیڈر کی بات کرتے ہوجس کی وجہ سے ہم بے گھر ہوئے، ہمارے گھر تباہ ہوئے، ہمارے بچوں کو اس سردی کے موسم میں پانی میں راتیں گزانا پڑیں، جن کی وجہ سے ہمارے بہن بھائی ہم سے جدا ہوئے۔‘

کیمپ میں مقیم باجوڑ کے لوئی سم کے ایک باشندے خان گل نے آبدیدہ آنکھوں سے کہا: ’جس مشکل حالت کے دوران میں باجوڑ سے اپنے خاندان سمیت پشاور پہنچاہوں وہ میں بیان نہیں کرسکتا۔ میں اور میرے بچوں نے موت اتنے قریب سے دیکھا ہے کہ اب بھی جب میں اسے یاد کرتا ہوں تو خوف زدہ ہوجاتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے بعد ملک میں ایک تبدیلی کے بعد عوام کو توقع تھی کہ نئی حکومت اپنی پالیسوں میں تبدیلی لائی گی اور قبائلی علاقوں میں جاری شورش کا خاتمہ ہوگا لیکن کیا پتہ تھا کہ نہ تو لڑائی اور آپریشن میں کمی ہوگی بلکہ اس کا سارا نزلہ بھی عوام پر ہی گرے گا۔

ان کے بقول ’ کچا گڑھی کیمپ میں پڑے ہوئے ہمیں تین ماہ ہونے کو ہے لیکن آج تک ہمارا کوئی ایم این اے یا سنیٹر یا کوئی اور حکومتی نمائندہ ہمارا حال تک پوچھنے نہیں آئے، ہم اس حکومت سے کس طرح خیر کی توقع کرسکتے۔‘

باجوڑ ایجنسی سے نقل مکانیباجوڑ کے مہاجر
باجوڑ سے آنے والے خواتین اور بچے
نقل مکانی پر مجبور پاکستانیبے گھر پاکستانی
لڑائی کی وجہ سے نقل مکانی کی زندگی پر مجبور
گھر سے بےگھر
باجوڑ سے ہجرت کرنے والے کیمپوں میں
سوات، شدید لڑائی
سوات:سخت سردی میں شدید لڑائی
سوات سے ہجرت
گزشتہ چند دنوں میں 30 ہزار افراد بے گھر
’آپریشن نرم گرم‘
سوات میں فوج کا آپریشن راہ حق
سواتفوجی کارروائی پر
سوات میں شہریوں کا احتجاجی مظاہرہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد