سوات: سردی میں شدید لڑائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کے مابین شدید جھڑپوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کی وجہ سے وادی کے بالائی علاقوں سے سخت سردی کے باوجود ہزاروں لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سوات کے بالائی علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان گزشتہ چار دنوں سے مسلسل جھڑپیں ہو رہی ہیں جس میں دونوں طرف سے بھاری ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے گن شپ ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے کی مدد سے تحصیل مٹہ، کبل، کوزہ بانڈئی، براہ بانڈئی، منگلا ور، علی گرامہ، چارباغ اور شکر درہ کے علاقوں میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی ہے۔ ادھر مینگورہ کے علاقے شمزئی میں بھی عسکریت پسندوں نے ایک پولیس چوکی پر حملہ کیا ہے جس میں ہلاکتوں کی مصدقہ اطلاع نہیں ملی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلح طالبان نے گزشتہ رات سے چوکی کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوجی کاروائیوں میں شدت آنے کی وجہ سے جنگ زدہ علاقوں سے گزشتہ چار دنوں سے نقل مکانی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اب تک ہزاروں لوگوں نے محفوظ مقامات پر پناہ لے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالائی سوات کے تمام تحصیلوں میں آپریشن کی وجہ سے کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے وادی کے تمام اہم سڑکیں بند ہیں۔ مٹہ کے ایک باشندے اعجاز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں شدید گولہ باری اور شیلنگ کی وجہ سے لوگ بے سرو سامانی کے عالم میں گھر بار چھوڑ کر محفوظ علاقوں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔
چارباغ سے مینگورہ پہنچنے والے ایک اور شخص شوکت علی نے بتایا کہ وہ چودہ کلومیٹر کا فاصلہ دو دنوں میں طے کرکے صدر مقام پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خواتین اور بچوں سمیت اس سخت سردی کے موسم میں ایک رات دریا کے کنارے گزاری ہے۔ ان کے مطابق چارباغ میں پچھلے چار دنوں سے ہر طرف سے شدید گولہ باری اور بمباری ہو رہی ہے اور علاقے میں شاہد ہی کوئی گھر ہوگا جو سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا نشانہ نہ بنا ہوں۔ ادھر سوات کے ضلعی رابطہ افسر شوکت یوسف زئی کا کہنا ہے کہ حکومت نے نقل کانی کرنے والے افراد کےلیے کانجو، سید شریف اور مینگورہ کے علاقوں میں پانچ کیمپ قائم کردیئے ہیں جہاں انہیں خوراک، کمبل اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا تمام کیمپ سرکاری سکولوں میں عارضی طورپر قائم کئے گئے ہیں۔ سوات میں گزشتہ نو دنوں سے جاری جھڑپوں کے دوران اسی سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی بتائی جاتی ہے۔ تاہم سوات میڈیا سینٹر کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں سوات:آپریشن میں درجنوں ہلاک 01 February, 2009 | پاکستان سوات: مارٹرگولے سے چار ہلاک27 January, 2009 | پاکستان بہشتِ مرحوم کی یاد میں27 January, 2009 | پاکستان ’نظامِ عدل آرڈیننس میں ترامیم‘26 January, 2009 | پاکستان طالبان کومطلوبہ افراد کی فہرست25 January, 2009 | پاکستان سوات:سکولوں پر سکیورٹی فورسز24 January, 2009 | پاکستان سکولوں پرحملوں کےخلاف مظاہرے24 January, 2009 | پاکستان ’روز وہی لاشوں کا کاروبار‘23 January, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||