BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 January, 2009, 12:08 GMT 17:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نظامِ عدل آرڈیننس میں ترامیم‘

ایک اہم تجویز یہ ہے کہ شرعی عدالت میں سول مقدمات کے فیصلہ چھ مہینے کے اندر اور فوجداری کے چار ماہ میں کیئے جائیں گے
صوبہ سرحد کے شدت پسندی سے بری طرح متاثرہ ضلع سوات میں حالات پر قابو پانے کے لیے عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت جہاں طاقت کے ’درست‘ استعمال پر زور دے رہی ہے وہیں وہ ’نظام عدل آرڈیننس‘ میں مزید ترامیم کے ذریعے مقامی شکایات دور کرنے کی کوشش میں بھی مصروف ہے۔

لیکن کیا یہ مجوزہ ترامیم کسی بہتری کا سبب بنیں گی؟ اس بارے میں متضاد رائے سامنے آئی ہیں۔ بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ترامیم شدت پسند اقلیت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے برابر قدم ہے جبکہ بعض کہتے ہیں کہ اگر اس سے بہتری لانا ممکن ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔

سرحد حکومت کا مجـوزہ شرعی نظام عدل آرڈینسن آج کل وفاقی حکومت کے زیر غور ہے۔ تاہم صوبائی حکومت دبے دبے الفاظ میں اس میں تاخیر کو ناقابل برداشت اور حالات کی سنگینی میں مزید اضافے کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔

سرحد حکومت ضلع سوات میں جاری دو سالہ فوجی کارروائی پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار گزشتہ دنوں کرچکی ہے جس کے بعد مقامی فوجی قیادت میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اس کی حکمت عملی میں بھی تبدیلیوں کے اشارے ہیں۔

لیکن اس ضلع میں امن کی خاطر فوجی کارروائی کی باگ دوڑ تو اس کے ہاتھ میں نہیں اور اس بابت وہ اپنے آپ کو بے بس پاتی ہے لیکن جو اس کی اپنی ذمہ داری ہے یعنی مسئلے کے حل کے لیئے سیاسی کوششیں اس نے جاری رکھی ہوئی ہیں۔

سرحد حکومت پرامید ہے کہ ’نظام عدل ریگولیشن‘ میں ترامیم سے شدت پسندوں کی جلد انصاف کی فراہمی سے متعلق شکایات دور ہوسکیں گی اور شدت پسندوں سے کارروائیاں جاری رکھنے کا ایک جواز چھین لیا جائے گا۔

نئے مجوزہ قانون کی تجاویز
مجوزہ قانون کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان میں اہم تجویز یہ ہے کہ شرعی عدالت میں سول مقدمات کے فیصلہ چھ مہینے کے اندر اور فوجداری کے چار ماہ میں کیئے جائیں گے۔ کسی بھی مقدمے سے قبل قاضی فریقین کو پندرہ دن کی مہلت دیگا تاکہ عدالت سے باہر مسئلے کا حل نکالا جاسکے۔ تاہم اگر ضروری سمجھا گیا تو قاضی اس میں مزید پندرہ دن کا اضافہ کرسکتا ہے۔

اس کوشش میں صوبائی حکومت کو کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی (ٹی این ایس ایم) کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس تنظیم کا موقف ہے کہ قانون کے نفاذ کے بعد وہ شدت پسندوں کو پرتشدد کارروائیاں روکنے پر مجبور کرنے میں حکومت کی مدد کرے گی۔

لیکن موجودہ حالات میں بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق شاید ایسا ممکن نہ ہو۔ موجودہ پرتشدد تحریک کے رہنما مولانا فضل اللہ کو ٹی این ایس ایم پہلے ہی تنظیم بدر کرچکی ہے۔ لہذا اس کا بظاہر ان پر کوئی زیادہ اثر و رسوخ باقی نہیں رہا ہے۔

پشاور کے ایک سینئر صحافی شاہد حمید کہتے ہیں کہ مولانا صوفی محمد کی رہائی بھی صوبائی حکومت کے ساتھ اسی امید کی بنیاد پر ممکن ہوئی تھی لیکن اسلام آباد میں گزشتہ دنوں صدر آصف علی زرداری کی صدارت میں اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے بظاہر لگتا ہے کہ یہ قانون اتنا جلد نافذ نہیں ہو پائے گا جس کی امید سرحد حکومت اور مولانا صوفی محمد کر رہے ہیں۔

’یہ ترامیم پہلی مرتبہ سامنے نہیں آ رہی ہیں۔ اس سے قبل بھی اسی قسم کی ترامیم نظام عدل آرڈیننس میں کی گئیں لیکن ان کا کوئی دور رس نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور اس علاقے میں بار بار تشدد دیکھا گیا۔ اس مرتبہ بھی امکان یہی ہے۔ یہ محض ایک نیا شرعی عدالتی نظام ہے نہ کہ مکمل شرعی نظام۔‘

مجوزہ قانون کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان میں اہم تجویز یہ ہے کہ شرعی عدالت میں سول مقدمات کے فیصلہ چھ مہینے کے اندر اور فوجداری کے چار ماہ میں کیئے جائیں گے۔ کسی بھی مقدمے سے قبل قاضی فریقین کو پندرہ دن کی مہلت دیگا تاکہ عدالت سے باہر مسئلے کا حل نکالا جاسکے۔ تاہم اگر ضروری سمجھا گیا تو قاضی اس میں مزید پندرہ دن کا اضافہ کرسکتا ہے۔

ضلع سوات میں ہائی کورٹ کا ایک شرعی اپیلیٹ بینچ بھی قائم کیا جارہا ہے جس کے فیصلوں کو حتمی تصور کیا جائے گا۔
صوبائی حکومت اس کے علاوہ شرعی عدالتوں کے لیے علاقہ قاضیوں کی تعداد بڑھا کر چھ جبکہ اضافی قاضی کی چورانوے کردی ہے۔ پولیس اور قاضیوں کی جانب سے مقدمات میں تاخیری حربے استعمال کرنے کے سدباب کی کوشش کی گئی ہے جس کے مطابق پولیس کے بروقت چالان جمع نہ کرنے کی صورت میں ذمہ داران سے جواب طلبی ہوگی۔


پاکستان میں انیس سو انہتر میں ضم ہونے سے قبل سوات، دیر اور چترال کی طرح ایک ریاست تھی۔ اس کے حکمراں اندورنی انتظامی معاملات میں خودمختار تھے اور وہاں کا قانونی نظام بھی مقامی تھا۔ مقامی آبادی کو اختیار تا کہ وہ اپنے مقدمات کا شریعت یا پھر مقامی روایات و رواج کے مطابق فیصلہ کروا لیں۔ اگرچہ ان عدالتوں کے بارے میں عوام کی رائے کچھ اچھی نہیں تھی تاہم جلد اور سستا طریقہ ہونے کی وجہ سے ان کے فیصلوں سے لوگ قدرے مطمین تھے اور آج بھی انہیں یاد کرتے ہیں۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دورے حکومت میں سوات، دیر اور چترال کے اضلاع پر مشتمل ملاکنڈ ڈویژن میں پاٹا ریگولیشن کے نام سے نیا عدالتی نظام متعارف کروایا تاہم اسے مقامی وکلاء کی جانب سے عدالتوں میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا موقف تھا کہ نیا قانون بنیادی انسانی حقوق کے متصادم ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے اسے کالعدم قرار دے دیا اور بعد میں سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی۔

ایسے میں نوئے کی دہائی کے آغاز میں مولانا صوفی محمد منظر عام پر نفاذ شریعت کا نعرے لگاتے نظر آئے۔ انہوں نے عدالتی فیصلے کی روشنی میں پیدا خلا کو شرعی نظام سے بھرنے کی مانگ کی۔ حکومت کی عدم دلچسپی کے پیش نظر تنظیم نے خود شریعت کا نفاذ شروع کر دیا۔ بعد میں معاملات ان کے ہاتھ سے بھی نکلے اور ان کی تحریک نے پرتشدد صورت اختیار کی۔

گورنر سرحد نے مئی انیس سو چورانوے میں شریعت آرڈیننس جاری کر دیا۔ تاہم یہ اقدام بھی ٹی این ایس ایم کو مطمئن نہیں کرسکا اور ان کا پرتشدد احتجاج جاری رہا۔ انہوں نے اہم سرکاری دفاتر اور ہوائی اڈے پر قبضے کر لیا۔ حکومت نے اسی سال دسمبر میں نظام شریعت آرڈیننس جاری رک دیا جس کے تحت علاقے میں سول اور فوجداری مقدمات کے لیئے قاضی کورٹس قائم کی جانی تھیں۔

مذہبی عناصر ان عدالتوں سے بھی مطمین نہ ہوئے سو سال دو ہزار ایک میں ان عدالتوں کو مزید اختیارات دینے اور اس علاقے کو ہائی اور سپریم کورٹس کے دائرہ اختیار سے باہر کرنے کے لیئے آواز اٹھانا شروع کر دی۔ شاہد حمید کہتے ہیں کہ مقامی مذہبی حلقے اپنے تمام تنازعات کا حل اپنے ضلع کی حد تک چاہتے ہیں اور ہائی و سپریم کورٹ کے چکروں سے بچنا چاہتے ہیں۔ آج کل زیر غور مجوزہ آرڈیننس میں قاضی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں اپیل کا حق دینے کی بات کی گئی ہے۔

لیکن گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے امریکہ میں حملوں نے صورتحال تبدیل کر دی۔ مولانا صوفی محمد افغانستان سے ہوتے ہوئے جیل میں بند ہوئے اور شریعت کا مطالبہ کچھ عرصے کے لیئے پس منظر میں چلا گیا۔

لیکن صوفی محمد کے داماد مولانا فضل اللہ نے ان کی کمی اپنے غیرقانونی ایف ایم چینل کے ذریعے پوری کرنے کی کوشش کی جو آج ایک پرتشدد مہم کی شکل میں جاری ہے۔ انہوں نے اپنی شرعی عدالتیں بھی قائم کر دیں اور سزائیں بھی دی جا رہی ہیں۔

تاہم شاید حمید کہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے قائم کی جانے والی شرعی عدالت کے قیام کی حد تک تو بات قابل عمل ہے لیکن اسلامی سزائیں دینے کے لیئے کافی سخت شرائط اسلام میں موجود ہیں جو پورا کرنا ان عدالتوں کے لیئے ایک مسئلہ ہوسکتا ہے۔

ایک ٹھینک ٹینک کے اہم رکن اور استاد خادم حسین ایک بڑے مسلے کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سترا پاٹا ریگولیشن میں بھی لوگوں کو اختیار تھا کہ وہ فیصلے سول عدالتوں، شریعت یا مقامی رسم و رواج کے مطابق جرگے کے تحت کرواسکتے تھے۔

یہ ترامیم نئی نہیں ہیں
 یہ ترامیم پہلی مرتبہ سامنے نہیں آ رہی ہیں۔ اس سے قبل بھی اسی قسم کی ترامیم نظام عدل آرڈیننس میں کی گئیں لیکن ان کا کوئی دور رس نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور اس علاقے میں بار بار تشدد دیکھا گیا۔ اس مرتبہ بھی امکان یہی ہے۔ یہ محض ایک نیا شرعی عدالتی نظام ہے نہ کہ مکمل شرعی نظام۔
تجزیہ نگار

’اگر آپ سوات میں مقدمات کی تاریخ دیکھیں تو پانچ فیصد کیس بھی شرعی عدالتوں میں نہیں گئے ہوں گے۔ اگر آپ سوات کے عوام سے دریافت کریں تو میرا نہیں خیال پندرہ سے بیس فیصد لوگ شرعی عدالت میں جانا پسند کریں گے۔ ان کی پہلی ترجیح جلد انصاف کی فراہمی ہے وہ چاہے جیسے بھی ہو۔ ایسے میں میرا نہیں خیال کہ حکومت طالبان اقلیت کے دباؤ میں ایسی تبدیلیاں لائے جس سے پوری وادی میں امن آجائے گا۔‘

مبصرین کے خیال میں جلد انصاف کا مطالبہ تو سارا پاکستان کر رہا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تبدیلی کے لیئے لوگ تشدد کی راہ اپنائیں۔ خادم حسین کے مطابق قانونی خلاء کو شدت پسندوں نے لوگوں کو اپنی جانب مبذول کروانے کے حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ’میرے خیال میں حکومت کو اکثریت کو جو ان کو ووٹ دیتی ہے ان کی بات ماننی چاہیے ناکہ ایک اقلیت کی۔‘

قانونی ماہرین کے خیال میں طلاق یا وراثت سے متعلق قوانین مختلف علاقوں میں مختلف ہوسکتے ہیں ۔ اس کی واضح مثال ماضی میں قبائلی علاقوں میں ایک جبکہ باقی تمام ملک میں دوسرا نظام قانون ہے۔ کئی ملزمان قانون سے بچنے کی خاطر قبائلی علاقوں میں روپوش ہو جاتے تھے۔

ماہرین کے خیال میں قانون کے اس دوغلے پن نے اب ان علاقوں میں شدت پسندوں کو اپنی متوازی حکومت قائم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ’مخصوص علاقوں میں محدود تجربات کبھی بھی قانون کی بالادستی کے لیئے معاون ثابت نہیں ہوئے۔ انہوں نے شدت پسندی اور انتہا پسندی کو فروغ ہی دیا ہے۔‘

اسی بارے میں
سوات: تشدد جاری، تین ہلاک
18 January, 2009 | پاکستان
سکول بند، اسمبلی کی تشویش
16 January, 2009 | پاکستان
سوات تشدد میں پانچ ہلاک
16 January, 2009 | صفحۂ اول
سوات: طالبان کی ’معافی‘
16 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد