BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 January, 2009, 22:11 GMT 03:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لڑکیوں کے سکول بند ہوگئے تو کیا ہوا!

سوات میں سکول کالج جانے والی لڑکیوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار سے گھٹ کر بیس ہزار رہ گئی ہے

صوبہ سرحد کی جنت نظیر وادی سوات میں حکومت اور سکیورٹی اداروں کو تو کافی پہلے ہی سے پسپائی کا سامنا ہے، لیکن آج اعتدال پسندوں، حقوق انسانی کے کارکنوں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی فی الحال ہار ماننی پڑ گئی ہے۔ ایسے میں لڑکیوں کی تعلیم کی بندش پر توحہ کس کام کی؟

جو اس بابت کچھ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں وہ ایسی باتیں کر رہے ہیں کہ حوصلہ بندھنے کے بجائے رہی سہی اُمید بھی جواب دے رہی ہے۔ سرحد حکومت کہتی ہے کہ سوات میں جب لوگوں کی جانیں محفوظ نہیں تو محض تعلیم کا کیا رونا روئیں۔ حالات کے قابو سے باہر ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا کہنا ہے کہ وہ فوجی کارروائی جیسا انتہائی اقدام بھی اٹھا رہی ہے، اب اس سے زیادہ وہ اور کیا کرسکتی ہے؟

ایسے میں سرحد حکومت کچھ زیادہ غلط نہیں کہہ رہی ہے۔ سکول موسم سرما کی تعطیلات کے لئے سوات میں ویسے ہی جمعہ سے بند ہو رہے تھے، اب غیرمعینہ مدت کے لیے ہوگئے تو کیا فرق پڑا۔

تین برس قبل اگر ضلع سوات میں ایک لاکھ بیس ہزار بچیاں سکول اور کالج جایا کرتی تھیں وہ آج محض بیس ہزار رہ گئی ہیں تو کیا ہوا۔ مولانا فضل اللہ اور مولانا شاہ دوران اگر غیرقانونی ایف ایم سٹیشن بدستور چلا رہے ہیں اور کبھی پولیو سے بچاؤں کی مہم اور کبھی تعلیم پر حملے کر رہے ہیں تو کیا ہوا۔

اگر ایک سو تیس سے زائد تعلیمی ادارے جن میں نوے فیصد لڑکیوں کے سکول اور کالج ہیں، تباہ کر دیئے گئے ہیں تو کیا ہوا۔ دو برسوں کی فوجی کارروائیوں کے باوجود بھی اگر آج سوات کے اکثر علاقے شدت پسندوں کے قبضے میں ہیں تو کوئی بڑی بات نہیں۔

شدت پسندوں کے دباؤ میں آکر خواتین کے بازاروں میں نکلنے پر مکمل پابندی عائد ہوگئی تو کیا ہوا۔ سوات کی صنعتوں میں کام کرنے والی سینکڑوں عورتوں کی اگر چھٹی کر دی گئی تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہزاروں لوگ گھر بار چھوڑ کر اپنے ہی ملک میں سرد موسم کے دوران کھلے آسمان تلے دن رات گزارنے پر مجبور ہوئے ہیں تو کیا ہوا۔

حکومتی رٹ یا عزم میں کمزوری سے یہ سب تو ہونا ہی تھا۔

سرکاری رٹ تو کئی برسوں قبل اس وقت ختم ہوگئی تھی جب مولانا فضل اللہ نے ایک ایف ایم ریڈیو کا آغاز کیا۔ پھر تو آہستہ آہستہ تنزلی ہی آئی ہے۔ اس صورتحال میں مزید ابتری قومی دھارے میں شامل مذہبی و سیاسی جماعتوں کی جاری خاموشی کی وجہ سے بھی آئی ہے۔ عورتوں کی تعلیم پر پابندی بس اس ساری دیگر گوں صورتحال کے مزید خراب ہونے کا ایک اشارہ ہے۔ تو صوبائی حکومت کے بقول جہاں لاکھ وہاں سوا لاکھ۔

جہاں تک تعلق ہے فوجی آپریشن کا تو خود حکمراں عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت نے گزشتہ دسمبر کابینہ کے ایک اجلاس میں اس کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا عام تاثر یہی ہے کہ شدت پسندوں کے اہم اہداف تو نہیں ختم ہو رہے عام انسان اپنے جان و مال سے ناکردہ گناہوں کی قیمت ادا کرتے جا رہے ہیں۔

اپنے آپ کو سیکولر اور اعتدال پسند جماعت کہلوانے والی اے این پی کو بھی اب واحد امید کی کرن شریعت ریگولیشن سے ہے۔ اسے امید ہے کہ اس سے امن آسکتا ہے۔ لیکن ناقدین کو شک ہے کہ اس سے انتہا پسندی مزید بڑھ سکتی ہے۔

سول سوسائٹی کے لیے پندرہ جنوری یقیناً ایک تاریک دن ثابت ہوا ہے۔ یہ لوگ جو پرامن طریقوں سے انسان کو اس کے حقوق دلوانے کے لیئے آوازیں اٹھاتے رہے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو بے بس اور ناکام پا رہے ہیں۔

اس وقت اگر کسی کے پاس سوات میں طاقت ہے تو وہ شدت پسند ہیں۔ ناجانے کیوں بچپن میں دیکھی ایک پشتو فلم کا نام ’ٹوپک زما قانون‘ (بندوق میرا قانون)
ذہن میں آ رہا ہے۔

طلبہ تعلیم سے محروم
شورش زدہ علاقوں میں لوگ تعلیم سے محروم
نقل مکانی پر مجبور سواتی لڑکالڑائی میں پھنسےلوگ
تین دنوں میں بارہ شہری ہلاک ہوگئے
سوات سے در بدر
’کراچی میں جہاز کی آواز سے بچے خوفزدہ‘
سواتغیر فعال ریاست
سوات میں طالبان کی متوازی حکومت:محقق
اسی بارے میں
سوات میں بائیس افراد ہلاک
06 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد