BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 January, 2009, 11:23 GMT 16:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکول بند، اسمبلی کی تشویش

پشاور کا ایک تباہ شدہ سکول
شدت پسندوں کے اعلان پر حکومت کو بھی تشویش ہے:شیری رحمان
قومی اسمبلی کے جمعہ کے اجلاس میں مختلف اراکین نے صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں شدت پسندوں کی جانب سے لڑکیوں کے سکولوں کی بندش کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات شیری رحمان نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر اور وزیر اعظم اس اعلان کی مذمت پہلے ہی کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت ان اعلانات کا نوٹس لے چکی ہے اور صوبائی شعبہ ہونے کے باوجود اس معاملے پر وفاقی حکومت کی سرحد حکومت کو بھرپور حمایت حاصل ہے۔

’ناقابل برداشت‘
 دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی جنگ ہے اور اس بارے میں اب کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں پر حملے ان کے لیے بھی قابل تشویش ہیں اور یہ اب برداشت نہیں کیئے جائیں گے
’ہم کوئی تشدد برادشت نہیں کرنا چاہتے اور نہ کریں گے، کسی عورت پر یا کسی شہری پر جو دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہے۔ ہم نے اس معاملے پر بھرپور اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور ایوان کو بھی آج اعتماد میں لیا ہے۔‘

اس سے قبل ایوان کے اندر مسلم لیگ (قاف) کے انجینر امیر مقام، شیخ وقاص اکرم، مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال اور ایاز امیر کی جانب سے نکتہ اعتراض پر سوات میں لڑکیوں کے سکولوں کی شدت پسندوں کی جانب سے بندش کے اعلان کا مسئلہ اٹھایا گیا۔ انہوں نے حکومتی کارکردگی پر تنقید کی اور اس کے اقدامات کو ناکافی قرار دیا۔

شیری رحمان نے جواب میں ایوان کو بتایا کہ شدت پسندوں کے اعلان پر حکومت کو بھی تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس بابت صوبائی حکومت کو موثر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ مشیر داخلہ رحمان ملک نے اس معاملے کو صوبائی مسئلہ قرار دیا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی جنگ ہے اور اس بارے میں اب کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں پر حملے ان کے لیے بھی قابل تشویش ہیں اور یہ برداشت نہیں کیئے جائیں گے۔

صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج آخری سہارا ہوتی ہیں اور اس کے بعد اللہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں فوج تعینات کی گئی ہے۔

میاں افتخار نے سکیورٹی ایجنسیوں کے صورتحال پرقابو پانے میں ناکامی کے بارے میں کہا کہ پچیس تیس سال سے ایک مسئلہ چلا آ رہا ہے جو اب عروج پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ماضی کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے جسے وہ بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے سکولوں کی بندش کا اعلان کیا ہے ان سے بات کے جائے گی اور مسئلے کا حل تلاش کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
سوات میں بائیس افراد ہلاک
06 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد