سوات: طالبان کی ’معافی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحریکِ طالبان سوات نے صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی اور بعض بااثر سیاسی اور غیر سیاسی شخصیات کے علاوہ باقی ان تمام ایسے افراد کو نشانہ نہ بنانے کا اعلان کیا ہے جن کو وہ مطلوب افراد قرار دیتے ہیں۔ یہ اعلان تحریکِ طالبان سوات کے سربراہ مولانا فضل اللہ نے جمعرات کو اپنے غیر قانونی ایف ایم چینل پر خطاب کے دوران کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان مسلم خان نے کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق سوات بھر میں انہیں ایک سو بیس کے لگ بھگ افراد مطوب ہیں جن میں صوبائی وزراء، موجودہ اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، کوزہ برہ بانڈہ، چہار باغ، منگلور اور دیگر علاقوں کے بعض بڑے بڑے خوانین شامل ہیں۔ یاد رہے کہ سوات میں پچھلے سال فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد درجنوں سیاسی کارکنوں، بااثر شخصیات ، دینی علماء اور معتبرین کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس وقت ایسی کئی با اثر شخصیات ہیں جنہیں طالبان نے مطلوب قرار دیا ہے اور وہ اس وقت اسلام آباد، پشاور اور ملک کے دیگر شہروں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں سوات میں تشدد جاری، پانچ ہلاک13 January, 2009 | پاکستان سوات، پی پی رکن سمیت چار قتل12 January, 2009 | پاکستان سوات:’موثر فوجی آپریشن کیا جائے‘12 January, 2009 | پاکستان سوات:پانچ حکومتی اہلکار قتل06 January, 2009 | پاکستان سوات سے لاشیں برآمد05 January, 2009 | پاکستان ’ٹارگٹ کلنگ‘، مزید لاشیں برآمد04 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||