’ٹارگٹ کلنگ‘، مزید لاشیں برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اتوار کی صبح دو سکیورٹی اہلکاروں کی لاشیں ملی تھیں جنہیں گلا کاٹ کر ہلاک کیا گیا۔ تازہ ترین واقعہ میں تحصیل مٹہ سے مزید تین نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تحصیل مٹہ میں لاشیں کالج چوک میں پڑی ہوئی تھیں، جن کے قریب سے ایک خط بھی ملا ہے جس میں لکھا گیا تھا کہ: ’ ہم نے بدلہ لے لیا ہے‘۔ تاحال کسی تنظیم نے اس تازہ واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی لاشوں کی شناخت ہوسکی ہے۔ آخری اطلاعات آنے تک لاشیں بازار میں پڑی ہوئی تھیں۔ پولیس کے مطابق اتوار کی صبح مینگورہ کے علاقوں گرین چوک اور سہراب خان چوک سے جو دو لاشیں ملی تھیں ان کے سر تن سے جدا تھے۔ ان دو ہلاک ہونے والوں کا تعلق فرنٹیئر کور اور پولیس سے بتایا جا رہا ہے۔ تازہ واقعے کی طرح ینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ان لاشوں کے نزدیک سے بھی ایک خط ملا تھا جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ جس کسی نے بھی ان لاشوں کو دن گیارہ بجے سے پہلے اٹھایا وہ اپنی ہلاکت کا خود ذمہ دار ہوگا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گیارہ بجے تک لاشیں بازار میں پڑی رہی تاہم بعد میں سکیورٹی اہلکاروں نے دونوں لاشیں اٹھا کر ہپستال منتقل کر دیں۔ صدر مقام مینگورہ اور آس پاس کے علاقوں میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جن میں عام شہری بشمول خواتین اور سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اب تک اس قسم کے واقعات میں تیس سے زائد افراد کو مارا جا چکا ہے۔ ابھی تک کسی تنظیم نے ان ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ ہفتے کو سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جمعہ کو ملنے والی لاشوں میں تین لاشیں ان کے ساتھیوں کی بھی تھیں جن میں دیولئی کے طالبان کمانڈر رفیع اللہ کی لاش بھی شامل تھی۔ مسلم خان کا کہنا تھا کہ رفیع اللہ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے سکیورٹی فورسز کی حراست میں تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب مقامی طالبان کسی کو ہلاک کرتے ہیں تو پہلے اس کو نوٹس جاری کرتے ہیں۔ دوسری طرف مینگورہ میں جاری ان واقعات پر عام شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مینگورہ میں سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے لیکن اس کے باوجود شہریوں پر حملوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ | اسی بارے میں باجوڑ، سوات تشدد چھ ہلاک01 January, 2009 | پاکستان سوات: رقاصہ سمیت4افراد ہلاک02 January, 2009 | پاکستان ’لال مسجد کا کچھ اسلحہ برآمد‘02 January, 2009 | پاکستان اوچ: بارودی سرنگ، دو ہلاک03 January, 2009 | پاکستان سوات میں مزید آٹھ افراد ہلاک03 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||