BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 January, 2009, 11:53 GMT 16:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات میں مزید آٹھ افراد ہلاک

سوات
سوات میں تشدد کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں نامعلوم افراد کی جانب سے عام شہریوں کو قتل کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور تازہ واقعات میں پولیس کو مختلف علاقوں سے مزید آٹھ لاشیں ملی ہیں۔

دوسری طرف قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فوجی کارروائی کی وجہ سے نیٹو فورسز کو سامان کی ترسیل معطل ہونے کے چار روز بعد دوبارہ بحال کردی گئی ہے۔

سوات پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں صدر مقام مینگورہ کے وسط میں واقع گرین چوک سے تین عام شہریوں کی لاشیں ملی ہیں جنہیں گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیاہے۔انکے بقول ہلاک کیے جانے والے افراد کی ہلاکت کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

مینگورہ کے نواحی علاقے اوڈی گرامہ سے بھی دو افراد کی لاشیں ملی ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق دونوں افراد کو گلا کاٹ کر ہلاک کیا گیا ہے۔مقتولین کا تعلق ننگولئی کے علاقےسے بتایا جاتا ہے۔

اسکے علاوہ شکردہ کے علاقے سے بھی تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے تاہم اسکی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ہسپتال کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ انکے پاس پانچ لاشیں لائی گئی ہیں۔ان تمام افراد کو گزشتہ شب ہلاک کیا گیا۔

سوات میں فوجی آپریشن کے جاری رہنے کے باوجود مختلف علاقوں بالخصوص صدر مقام مینگورہ سے نامعلوم افراد کی جانب سے ہلاک کیے جانے والے عام شہریوں کی لاشیں ملنا اب ایک معمول سا بن گیا ہے۔

جمعہ کو بھی پولیس کو ایک مشہور مقامی رقاصہ اور دو ایف سی اہلکاروں سمیت چار افراد کی لاشیں ملی تھیں۔ جبکہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے تین عام شہری زخمی بھی ہوئے۔ابھی تک کسی نے بھی ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

مقامی طالبان کے ترجمان مسلم خان سے جب ان واقعات کے متعلق رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کو ملنے والی لاشوں میں تین لاشیں ان کے ساتھیوں کی بھی تھیں جن میں دیولئی کے طالبان کمانڈر رفیع اللہ کی لاش بھی شامل تھی۔

مسلم خان کا کہنا تھا کہ رفیع اللہ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے سکیورٹی فورسز کی حراست میں تھے۔

انہوں نے کہا کہ جب مقامی طالبان کسی کو ہلاک کرتے ہیں تو پہلے اس کو نوٹس جاری کرتے ہیں۔

اس ضمن میں سکیورٹی فورسز کے موقف کے لیے ان سے رابطہ کرنے کی بارہا کوششیں کی گئیں لیکن اس میں کامیابی نہ ہو سکی۔

دریں اثناء ایک شہری نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ فوجی آپریشن مکمل طور پر ’ ناکام’ ہوگیا ہے اور بقول ان کے سوات میں اب عملاً طالبان کی ہی حکومت قائم ہے جو جسکو جب بھی چاہے قتل یا اغواء کرسکتے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ سکیورٹی فورسز کی گولہ باری میں طالبان کم اور عام شہری زیادہ مارے جاتے ہیں۔

دوسری طرف قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی جانب سےشروع کی گئی کارروائی کی وجہ سے افغانستان میں تعینات نیٹو فورسز کو معطل کی جانے والی سپلائی سنیچر کو دوبارہ بحال کردی گئی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں صبح گیارہ سے چار بجے تک کرفیو میں نرمی کی وجہ سے نیٹو فورسز کو سامان لیجانے والی درجنوں گاڑیوں کا ایک قافلہ افغانستان کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

خیر ایجنسی میں چار روز قبل سکیورٹی فورسز نے امن و امان اور پاک افغان شاہراہ کو محفوظ بنانے کے لیے کارروائی شروع کی تھی جو پولٹیکل ایجنٹ طارق حیات کےدعویٰ کے مطابق کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

اسی بارے میں
باجوڑ، سوات تشدد چھ ہلاک
01 January, 2009 | پاکستان
پشاور پولیس اور امن و امان
23 December, 2008 | پاکستان
صوبہ سرحد میں راکٹ حملے
23 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد