BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 January, 2009, 09:25 GMT 14:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: رقاصہ سمیت4افراد ہلاک

سوات
عینی شاہدین کے بقول شبانہ کی لاش کے پاس سی ڈی فلمیں اور دیگر کیسٹیں بھی رکھی گئی تھیں
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں پولیس کو ایک مشہور مقامی رقاصہ اور دو ایف سی اہلکاروں سمیت چار افراد کی لاشیں ملی ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے تین عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں جمعہ کی صبح صدر مقام مینگورہ کے گرین چوک میں سوات کی ایک مشہور رقاصہ شبانہ کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی ہے۔

ان کے بقول تقریباً تیس سالہ شبانہ کو نامعلوم مسلح افراد نے گزشتہ شب کو بنڑ کے علاقے میں واقع اپنے گھر سے نکال کر ہلاک کر دیا تھا۔

عینی شاہدین کے بقول شبانہ کی لاش کے پاس سی ڈی فلمیں اور دیگر کیسٹیں بھی رکھی گئی تھیں۔

مینگورہ ہی کے وڈی گرام کے علاقے سے دو ایف سی اہلکاروں کی سرکٹی لاشیں بھی ملی ہیں۔ان دو اہلکاروں کو گزشتہ روز نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کیا تھا۔

اس کے علاوہ پولیس کے مطابق ایک اور مقامی شخص کو مینگورہ کے گوگ درہ کے مقام پر گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے عالم گنج اور تحصیل مٹہ کے چپریال کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک خاتون سمیت تین عام شہری زخمی ہوگئے ہیں۔

سرکاری سطح پر اس واقعہ کی تصدیق نہیں ہو سکی البتہ ہسپتال ذرائع نےبی بی سی کو بتایا کہ تینوں افراد طبی امداد کے لیے ان کے پاس لائے گئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے مینگورہ میں نیو روڈ پر واقع ایک ہوٹل میں گھس کر ٹیلی ویژن سیٹ اور کرسیوں کو توڑ ڈالا ہے۔

لوگوں کو شکایت ہے کہ سوات میں صورتحال حکومت کے کنٹرول سے نکلتا جا رہا ہے اور دن دبدن مسلح طالبان کی کارروائیاں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ان کے بقول عام شہریوں اور خواتین کو قتل کرنا اب ایک معمول سا بن گیا ہے۔ جمعرات کو بھی چار عام شہریوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔

دوسری طرف پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں مبینہ عسکریت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف جاری آپریشن کے دوران پہلی مرتبہ کرفیو میں صبح گیارہ سے تین بجے تک نرمی کی گئی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق مقامی انتظامیہ نے پاک افغان شاہراہ کو کچھ دیر کے لیے کھولنے کے بعد دوبارہ بند کر دیا ہے۔حکام کے بقول آپریشن کے دوران جمعہ کو تحصیل جمرود کے علاقے علی مسجد میں مبینہ عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کے الزام میں دو مقامی افراد کے گھروں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ لنڈی کوتل میں بھی سکیورٹی فورسز نے مقامی شدت پسند تنظیم لشکرِ اسلام کے دفتر پر گولہ باری کرنے کے بعد قبضہ کر لیا ہے۔

مبصرین کے مطابق مبینہ عسکریت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف گزشتہ چند دنوں سے جاری آپریشن کے دوران کسی عسکریت پسند یا جرائم پیشہ شخص کو ہلاک اور نہ ہی گرفتار کیا گیا ہے بلکہ صرف ان افراد کو گرفتار یا ان کےگھروں کو مسمار کیا گیا ہے جن پر محض یہ الزام ہے کہ انہوں ان عناصر کو مبینہ طور پر پناہ دی تھی۔

اسی بارے میں
پشاور پولیس اور امن و امان
23 December, 2008 | پاکستان
صوبہ سرحد میں راکٹ حملے
23 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد