شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
| | گزشتہ سال فوجی آپریشن کے دوران متعدد افراد ہلاک اور گرفتار ہوئے تھے |
اسلام آباد پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تھانہ آبپارہ کے مال خانے سے چوری ہونے والے اسلحے کا کچھ حصہ برآمد کرکے اس میں ملوث چارملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔ ایس ایس پی اسلام آباد احمد لطیف نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کی تفتتیش کرنے والی ٹیم نے کانسٹیبل ظہیر الدین بابر کو گرفتار کرلیا اور اُن کی نشاندہی پر دیگر ملزمان بادشاہ حسن، عابد رحمن اور سعید محمود کو بھی گرفتار کر لیا۔ اس پریس کانفرنس کے دوران نہ تو پولیس نے ملزمان کو میڈیا کے سامنے پیش کیا اور نہ ہی وہ اسلحہ دکھایا گیا جو پولیس نے ملزمان کے قبضے سے برآمد کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان سے برآمد ہونے والے اسلحہ میں دس بندوقیں اور دوہزار سے زائد گولیاں شامل ہیں۔ پولیس کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق ملزمان نے دوران تفتیش یہ انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے یہ اسحلہ قبائلی علاقوں میں فروخت کیا ہے۔ ایس ایس پی نے کہا کہ ملزم ظہیر الدین بابر صبح کے وقت مال خانے سے اسلحہ چوری کرکے رات کے وقت اس کو تھانے کے باہر منتقل کرتا تھا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ ملزم کبھی بھی تھانے میں تعینات نہیں رہا اور مال خانے کی چابی تھانے کے محرر کے پاس ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ سنہ دو ہزار سات میں لال مسجد میں پناہ لینے والے شدت پسندوں کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران ں برآمد کیے جانے والے اسلحے میں لگ بھگ 80 کلاشنِکوف اور پستول اور دس سے پندرہ ہینڈ گرینیڈ، راکٹ لانچرز، پانچ ہزار کے قریب راؤنڈ اور مشین گنیں شامل تھیں۔ اتنی بڑی تعداد میں اس اسلحے کی چوری کا انکشاف اُس وقت ہوا جب وزارت داخلہ کے حکم پر اس اسلحہ کی انسپیکشن کے احکامات جاری کیے گئے۔ اس سلسلے میں تھانے کے ایس ایچ او نعیم اقبال سمیت دس پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے نو پولیس اہلکارجسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں جن کو پانچ جنوری کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ |