BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 January, 2009, 08:11 GMT 13:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات:پانچ حکومتی اہلکار قتل

طالبان ترجمان مسلم خان
حکومت ہمارے ساتھیوں کو عقوبت خانوں میں قتل کر رہی ہے: طالبان ترجمان مسلم خان
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کو منگل کو بھی پانچ حکومتی اہلکاروں سمیت چھ افراد کی لاشیں ملی ہیں جبکہ تحصیل مٹہ میں سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

ایک حکومتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ رات مسلح طالبان نے تحصیل مٹہ کے کالج چوک میں ان پانچ اہلکاروں کوگولیاں مار کر قتل کردیا جن کو کچھ عرصے قبل انہوں نےاغواء کیا تھا۔ان میں سے ایک اہلکار زندہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

ان کےمطابق ہلاک ہونے والوں میں فرنٹیئر کور کے دو، پولیس کا ایک اہلکار، ایک سویلین بٹ مین اور ایک فوجی کلرک شامل ہیں۔

طالبان ترجمان مسلم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔انہوں نے الزام لگایا کہ سکیورٹی فورسز نے ان کے گرفتار شدہ ساتھیوں کو اپنے عقوبت خانوں اور جیلوں میں ہلاک کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور اس سلسلے میں گزشتہ روز ان کے چار گرفتار ساتھیوں کو قتل کرکے انکی لاشیں گرین چوک اور اوڈی گرام میں پھینک دی گئی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپنے ان ساتھیوں کے بدلے میں انہوں نے بھی گزشتہ تین دنوں سے سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم مسلم خان کی اس دعویٰ کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ ان کے ساتھیوں کو حراست کے دوران ہلاک کیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف حکام کے مطابق سوات کے صدر مقام مینگورہ میں’ ٹارگٹ کلنگ‘ کی بڑھتی ہوئی واراداتوں کے بعد پہلی مرتبہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے شہر کا گشت کیا ہے ۔ اس دوران گرین چوک پر سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں ایک مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہوگیا ہے جسکی لاش منگل کی صبح جائے وقوعہ سے ملی ہے۔

آخری اطلاعات کے مطابق منگل کو سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کے درمیان تحصیل مٹہ کے بازار میں جھڑپیں جاری تھیں تاہم اس میں کسی قسم کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مٹہ کا بازار مکمل طور پر بند ہوگیا ہے۔

سوات کے مختلف علاقوں سےگزشتہ کچھ عرصے سے تقریباً ہر روز لاشیں ملتی ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔لیکن کچھ دنوں سے طالبان اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی لاشیں ملنا بھی شروع ہوگئی ہیں۔

اسی بارے میں
باجوڑ، سوات تشدد چھ ہلاک
01 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد