BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 December, 2008, 17:06 GMT 22:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بونیر حملہ، طالبان کا انتقام

بونیر دھماکہ
شل بانڈی گاؤں کے مسلح افراد نےچھ مسلح طالبان کو ہلاک کیا تھا
صوبہ دارالحکومت پشاور سےگاڑی میں تقریباً ڈھائی گھنٹے کا فاصلہ طے کرنے کے بعد گزشتہ دنوں خودکش حملے کا نشان بننے والے ضلع بونیر کے گاؤں شل بانڈئی میں جونہی ہی داخل ہوئے تو مقامی افراد کاندھوں پر کلاشنکوفیں لٹکائے ہوئے نظر آئے اور ہر اجنبی کی تلاشی لی جا رہی تھی۔

ایک مقامی شخص جب ہماری طرف بڑھا تو اپنے گاؤں کے ایک رہائشی کو ہمارے ہمراہ دیکھ کر اس نے انتہائی لاچاری اور بے بسی کے ساتھ کہا’ میر ویس خان، گاؤں ویران ہوگیا ہے۔،

ضلع بونیر کے دس ہزار سے زائد آبادی پر مشتمل شل بانڈئی گزشتہ تقریباً پانچ ماہ سے طالبان کے نشانہ پر ہے کیونکہ اسی گاؤں کے درجنوں مسلح افراد نے لشکر کشی کرتے ہوئے سامنے کے پہاڑ میں چھ مسلح طالبان کو قتل کرکے طالبان کی دشمنی مول لی تھی۔

شل بانڈئی کے لوگوں نےان چھ طالبان کی ہلاکت کی قیمت تین دن قبل اس وقت ادا کی جب ایک مبینہ خودکش بمبار نے قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے موقع پر ایک پولنگ سٹیشن کو نشانہ بنایا جس میں بیالیس افراد جن میں سے زیادہ تر بچے تھے ہلاک ہوئے۔

جس گاؤں کے بچوں نے خودکش بمبار کو مہمان سمجھ کر نالی میں گری ہوئی اسکی گاڑی کو نکالنے میں مدد کی تھی آج اسی گاؤں میں خوف و دہشت کا یہ عالم ہے کہ ہمدردی کے لیے آنے والے مہمانوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

اس گاؤں میں داخل ہوا تو کئی حجروں میں متاثرہ خاندانوں کو فاتحہ خوانی کرتے ہوئے پایا۔گاؤں کے نوجوانوں کے ہاتھ میں کلاشنکوفیں تھیں جوگاؤں میں داخل ہونے والے ہر اجنبی شخص اورگاڑی کو دیکھتے ہی الرٹ ہوکر ان سے پوچھ گچھ شروع کر دیتے ہیں۔

لوگ خودکش حملے میں تباہ ہونے والے مکان کا ملبہ اٹھا رہے تھے۔ یہاں پر دسویں جماعت کا ایک طالبعلم ملا جس کے ہاتھ میں بستہ کی بجائے اب کلاشنکوف تھا۔

جب ان سے کلاشنکوف اٹھانے کے بارے میں سوال کیا تو اس کا کہنا تھا

News image
’بس مجبوری ہے‘
 ’بس مجبوری ہے، خودکش حملہ آوروں کو روکا تو نہیں جا سکتا مگر پھر بھی کوشش تو کی جا سکتی ہے۔میں دسویں جماعت کا طالبعلم ہوں اور سامنے ہمارا سکول ہے جس سے خودکش حملے میں نقصان پہنچا ہے اور اب بند ہے۔،
دسویں جماعت کے طالبعلم
’بس مجبوری ہے، خودکش حملہ آوروں کے خلاف اٹھایا ہے ، اسے روکا تو نہیں جا سکتا مگر پھر بھی کوشش تو کی جا سکتی ہے۔میں دسویں جماعت کا طالبعلم ہوں اور سامنے ہمارا سکول ہے جس سے خودکش حملے میں نقصان پہنچا ہے اور اب بند ہے۔،

یہاں پر گاؤں کی ویلفیئر کمیٹی کے سربراہ فخر عالم سے ملاقات ہوئی جنہوں نے طالبان کےساتھ اپنی مخاصمت کی پوری کہانی بیان کی۔ان کا کہنا تھا کہ چھ طالبان کو ہلاک کرنے کے بعد ان کا گاؤں ممکنہ نشانہ بنا اور انہوں نے تین ماہ تک اپنی حفاظت کےلیے پچاس پچاس مسلح رضاکاروں سےگاؤں کی حفاظت کرائی۔

انہوں نےمزید بتایا کہ سوات ان کے علاقے سے سڑک کے راستے تقریباً باؤن کلومیٹر دور واقع ہے تاہم سامنے کی پہاڑی کے اس پارگوکن درہ ہے جس سے قدرے قریب پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گاؤں کے لوگ اب بھی طالبان کا اپنے علاقے میں داخل روکنے کے لیے پر عزم ہیں۔

فخرِ عالم نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کوگاؤں کے بچوں نےاس وقت دیکھا تھا جب اس کی سوزوکی کار جس کا اسلا م آباد کا نمبر تھا ایک نالی میں جا گری، بچوں نے اسے باہر نکالنے میں مدد کی۔

جن بچوں نے اسے دیکھا ہے انہوں نے بتایا کہ گاڑی پر بونیر سے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے والے جماعت اسلامی کے امیدوار بخت جہان خان کا پوسٹر چسپاں تھا۔

بچوں کے بقول مبینہ خود کش بمبار نے کلین شیو کیا تھا اور اس کے سر پر جو پی کیپ ٹوپی تھی اس پر بھی بخت جہان خان کی تصویر کا سٹکر لگا ہوا تھا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ شل بانڈہ طالبان کے نشانہ پر ہے ضلعی انتظامیہ نےصرف دو پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا تھا اور بقول ان کے اب گاؤں سے باہر جو چوکی بنائی گئی ہے اس میں موجود پولیس اہلکاروں کی حفاظت ہم ہی کر رہے ہیں۔

ان کے بقول جب انہوں نے چند ماہ قبل چھ طالبان کو لشکر کشی کرکے مارا تو پشاور میں مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے میڈیا کے ذریعے اعلان کیا کہ اس گاؤں کو پچاس لاکھ روپے اور ہر شخص کو کلاشنکوف دیا جائے گا۔

News image
کلاشنکوف نہیں کیڈٹ کالج
ہمیں پیسے اور کلاشنکوف نہیں بلکہ اس کے بدلے میں سکول، کیڈٹ کالج یا یونیورسٹی بناکر دی جائے مگر اس پر ابھی تک حکومت خاموش ہے۔
بونیر کے رہائشیوں کا رحمان ملک کو جواب
مگر فخر عالم کے بقول انہوں نے یہ حکومتی پیشکش یہ کہہ کر رد کردیا کہ’ ہمیں پیسے اور کلاشنکوف نہیں بلکہ اس کے بدلے میں سکول، کیڈٹ کالج یا یونیورسٹی بناکر دی جائے مگر اس پر ابھی تک حکومت خاموش ہے۔

بونیر کے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ضلع بونیر میں طالبان اپنا اثر و نفوذ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ شل بانڈئی سے تقریباً سات کلومیٹر دور حصار تنگی میں طالبان کا ایک چھوٹا مرکز بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض مقامی مذہبی عناصر بھی طالبان کی مدد کررہے ہیں۔ان کے مطابق’ ایک دفعہ صدر مقام ڈگر میں مسجد کے پیش امام مولانا شامیر جنکی امامت میں ضلعی رابطہ آفسر بھی نماز پڑھا کرتے تھے کے گھر پر اتفاقاً چھاپہ مارا گیا تو وہاں سے تقریباً دو سو ترپن کلوگرام بارود برآمد ہوا۔اس چھاپے میں طالبان کی مبینہ مدد کرنے والے کئی مطلوب افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔،

پولیس اہلکار نے کہا کہ علاقے میں بڑھتی ہوئی طالبانائزیشن کو روکنے کے لیے سات لاکھ کی آبادی کے لیے صرف پانچ سو پچاس پولیس اہلکار ہیں جن میں سے کئی کو شورش زدہ سوات میں تعینات کیا گیا ہے جبکہ پچاس کے قریب اہلکار خوف کے مارے نوکریاں چھوڑ چکے ہیں۔

پولیس اہلکار مستعفی
طالبان کا خوف، پولیس اہلکاروں کے استعفے
مردے کی بحرمتی
مردے کی حرمت بھی باقی نہیں رہی
طالباناورکزئی، بدلتے حالات
اورکزئی: بیت اللہ کی عوامی حمایت متاثر
اسی بارے میں
بچا کھچا امن غارت ہونے کا دن
08 December, 2008 | پاکستان
’مردے کی بھی حرمت نہیں رہی‘
16 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد