BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 December, 2008, 15:58 GMT 20:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مردے کی بھی حرمت نہیں رہی‘

پختونوں میں سر کاٹنے کی روایت نہیں ملتی
انسانی زندگی تو ویسے ہی گزشتہ کئی برسوں سے قبائلی علاقوں اور سوات میں کافی ارزاں ہوچکی ہے۔ لیکن اب جو کچھ سوات میں ہوا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی کسی کو پناہ نہیں مل سکتی۔ زندگی کی تو اہمیت پہلے ہی ختم ہوچکی تھی اب مردہ کی عزت بھی باقی نہیں رہی۔

مذہبی اور سیاسی مبصرین کے مطابق اس طرح کے رویے کی اجازت نہ تو اسلام اور نہ ہی پختون روایات دیتی ہیں۔

صوبہ سرحد کے ضلع سوات کی تحصیل مٹہ میں منڈال ڈاگ علاقے میں مقامی عسکریت پسندوں نے پیر سمیع اللہ کی لاش قبر سے نکال کر گوالیرئی چوک میں لٹکا دی تھی۔ دن بھرچوک پر لاش لٹکانے کے بعد شام کو عسکریت پسند اسے ایک نامعلوم مقام پر لے گئے اور دفنا دیا۔ اس پیر کے دو ساتھیوں کو بھی ذبح کر کے ان کی لاشوں کو بھی بجلی کے کھمبوں سے لٹکا دیا گیا تھا۔

اس انتہائی افسوسناک سزا کی وجہ بظاہر چھبیس سالہ پیر سمیع اللہ کی جانب سے مقامی عسکریت پسندوں کی مخالفت، ان سے مسلکی اختلافات اور ان کے خلاف لشکر کی تشکیل تھی۔

عسکریت پسندوں کا یہ رویہ یقیناً ان کی مخالفت کرنے والوں کو ایک تلخ اور خطرناک پیغام دینا تھا۔

 ’آپ اس مجرم کے ساتھ کتنا ظلم کرتے ہیں۔ اسے کتنی سخت تکلیف پہنچاتے ہیں۔ وہ تڑپ تڑپ کر مرتا ہے۔ ہمارا تو بہت آسان طریقہ کار ہے۔ چھری گردن پر اور سانس باہر۔‘

لیکن بعض لوگ یہاں سوال یہ اٹھاتے ہیں کہ وہ حکومت جو ان لشکروں کی تشکیل پر ان قبائل کو کمر پر تھپکی دے رہی تھی وہ اس وقت کہاں تھی جب یہ سارا انتہائی افسوسناک عمل کیا جا رہا تھا۔

لاشیں پورا پورا دن کھمبوں سے لٹکی رہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہی تو عسکریت پسند دیدہ دلیر ہوں گے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں یہ کارروائی کرنے والے اسلام پسند ہو ہی نہیں سکتے۔ دنیا کے کسی دین میں اس بات کی اجازت نہیں کہ مردے کی بےحرمتی کی جائے۔ پھر کیسے اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے والے اخلاق کی اتنی پست منزل کو چھو سکتے ہیں؟

مفتی منیب الرحمان جوکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ ہیں کہتے ہیں کہ اس طرح کی بےحرمتی کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ ’پیغمبر اسلام نے فرمایا ہے کہ مردے کی اتنی ہی تعزیم کی جائے جتنی کہ زندہ کی کی جاتی ہے۔ جس چیز سے زندہ انسان کو تکلیف اور اذیت پہنچتی ہے وہی چیز مردے کے لیئے بھی باعث تکلیف ہے۔ ناصرف یہ اسلام کہ بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے۔ بربریت ہے۔‘

تاہم قبائلی علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ گلے کاٹنے کی روایت اس علاقے میں آباد پختونوں کا طرہ امتیاز کبھی رہا ہی نہیں۔ بعض لوگوں کے مطابق یہ القاعدہ اور اس سے جڑے عربوں، چیچنوں اور ازبکوں کا ہتھیار تھا جو اب وہاں عام ہوگیا ہے۔

گردن کاٹنے کی روایت غیرملکیوں نے ڈالی ہے

سابق پاکستانی سفارت کار ایاز وزیر کہتے ہیں کہ یہ ان عناصر کے علاوہ دیگر ممالک کی ایجنسیاں بھی ہوسکتی ہیں جو اس علاقے میں امن خراب کرنے پر تلی ہیں۔ ’یہ معلوم نہیں کہ یہ کہاں کا رواج کہاں کا قانون ہے۔‘

اس واقعے سے کابل میں انیس سو چھانوے میں طالبان کی جانب سے سابق صدر نجیب اللہ کو لٹکائے جانے کا واقع ذہنوں میں تازہ ہوگیا ہے۔ تاہم قبائلی علاقوں میں یہ اس طرح کا پہلا واقع نہیں۔ اس سے قبل دسمبر دو ہزار پانچ میں بھی شمالی وزیرستان میں مقامی شدت پسندوں نے جرائم پیشہ گروہ کے لوگوں کو ہلاک کرکے کھمبوں سے لٹکا دیا تھا۔

ایاز وزیر ڈاکٹر نجیب کی لاش کو لٹکانے کے وقت شمالی افغان شہر مزار شریف میں تعینات تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جب طالبان سے اس رویے کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں نہیں معلوم یہ کن لوگوں کی کارروائی تھی۔

’طالبان کے تمام سرکردہ رہنماؤں نے کہا تھا کہ انہوں نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔ جنگی حالات میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں تو یہاں سوات میں بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے۔‘

قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں چند برس قبل ایک سفر کے دوران مقامی طالبان میں شامل ایک نوجوان سے گفتگو کے دوران گلے کاٹنے کی ان کی سزا پر بات ہو رہی تھی۔ اس بیس بائیس سالہ لڑکے نے الٹا سوال کیا کہ آپ اپنے آپ کو تہذیب یافتہ کہنے والے کیا کسی کو پھانسی نہیں دیتے۔

’آپ اس مجرم کے ساتھ کتنا ظلم کرتے ہیں۔ اسے کتنی سخت تکلیف پہنچاتے ہیں۔ وہ تڑپ تڑپ کر مرتا ہے۔ ہمارا تو بہت آسان طریقہ کار ہے۔ چھری گردن پر اور سانس باہر۔‘

مفتی منیب الرحمان اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ اسلام میں کسی بےقصور کا گلہ کاٹنے یا مردے کی بےحرمتی کی کوئی روایت ملتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے امریکہ کو تو نہیں لیکن ملت اسلام کو نقصان پہنچے گا۔

عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں روزانہ درجنوں افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔ کبھی حکومت اور کبھی عسکریت پسندوں کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔ لیکن پہلے پہل گولی کی زبان میں بولی جانے والی بات اب خنجر اور کھمبوں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

ملا وکیلطالبان سے مذاکرات؟
’سعودی عرب کی مدد سے طالبان سے مذاکرات‘
طالبان طالبان کا مطالبہ
’فوجی بریفنگ یک طرفہ، ہمیں بھی موقع دیا جائے‘
طالبان ’تصویر کادوسرا رخ ‘
طالبان کی پارلیمان کو بریفنگ کا حامی کون
پولیس اہلکار مستعفی
طالبان کا خوف، پولیس اہلکاروں کے استعفے
طالباناورکزئی، بدلتے حالات
اورکزئی: بیت اللہ کی عوامی حمایت متاثر
وہ دن دور نہیں ۔ ۔؟
جب بچا کھچا امن اور بھی غارت ہو جائے گا۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد