BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 November, 2008, 10:32 GMT 15:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اورکزئی: بیت اللہ کی عوامی حمایت متاثر

حکیم اللہ
طالبان کمانڈر حکیم اللہ ماموں زئی کے علاقے ارغنجہ پہنچے تو ان کے ہمراہ اورکزئی کے چند مقامی طالبان بھی تھے لیکن ان کی تعداد انتہائی کم تھی

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی کے کچھ علاقوں میں بظاہر بیت اللہ گروپ کی ’تحریک طالبان‘ کا کنٹرول دکھائی دیتا ہے لیکن حالیہ چند واقعات سے ان کی حمایت عام لوگوں میں متاثر بھی ہوئی ہے۔

دیگر قبائلی ایجنسیوں کے مقابلے میں اورکزئی ایجنسی کا شمار آج بھی قدرے پرامن علاقوں میں ہوتا ہے۔ تاہم کچھ عرصے سے اس ایجنسی میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافے سے یہاں امن وامان کی صورتحال تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے۔

تین دن قبل میں طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود کی خصوصی دعوت پر پشاور کے صحافیوں کے ایک گروپ کے ہمراہ اورکزئی ایجنسی روانہ ہوا تو شاہو خیل سے لیکر غلجو تک تقریباً تیس کلومیٹر کے اس فاصلے پر کوئی سکیورٹی اہلکار نظر نہیں آیا۔

شاہو خیل چیک پوسٹ جہاں سے اورکزئی کی حدود شروع ہوتی ہے وہاں چیک پوسٹ پر صرف دو خاصہ دار اہلکار دکھائی دیے لیکن وہ بھی سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے۔

ہم سب یہی سمجھ رہے تھے کہ شاید مقامی انتظامیہ ہمیں شاہو خیل چیک پوسٹ سے آگے جانے کی اجازت نہیں دیگی لیکن ہمیں کسی نے نہیں روکا بلکہ چیک پوسٹ کا پھاٹک پہلے ہی سے کھلا ہوا تھا۔

دو بڑے ڈویژنوں اپر اور لوئر ڈویژن اور چار تحصیلوں پر مشتمل اورکزئی ایجنسی میں طالبان کا ظہور کوئی زیادہ پرانا نہیں۔ تقریباً ایک سال قبل بیت اللہ گروپ کے طالبان نے اپر اورکزئی ایجنسی کے چند علاقوں میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔

 دوسری ایجنسیوں کی طرح اورکزئی میں بھی طالبان نے سب سے پہلے جرائم پشیہ اور اغواء کار گروہوں کے خلاف کارروائیاں کیں جو عام طورپر عسکریت پسندوں کا مقامی لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک پرانا طریقہ کار رہا ہے۔
دوسری ایجنسیوں کی طرح اورکزئی میں بھی طالبان نے سب سے پہلے جرائم پیشہ اور اغواء کار گروہوں کے خلاف کارروائیاں کیں جو عام طورپر عسکریت پسندوں کا مقامی لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک پرانا طریقہ کار رہا ہے۔ ان کارروائیوں کو مقامی لوگوں نے کافی سراہا کیونکہ اس سے قبل لوگ جرائم پیشہ اور اغواءکار گروہوں سے سخت تنگ تھے۔

لیکن آج سے کوئی چھ ماہ قبل علاقے میں حالات اچانک اس وقت تبدیل ہوئے جب اورکزئی ایجنسی سے ملحق صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں چند طالبان جنگجوؤں کی گرفتاری کے بعد شدت پسندوں نے دوابہ پولیس سٹیشن کا محاصرہ کیا۔ اس محاصرے کے بعد فوج طلب کرلی گئی اور وہاں آپریشن شروع کیا گیا۔

فوج عسکریت پسندوں کا تعاقب کرتے اورکزئی کے حدود تک پہنچ گئی جس سے قبائل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ یہ کارروائیاں ایجنسی کے اندر بھی شروع کی جاسکتی ہیں، لہٰذا انہوں نے درپردہ عسکریت پسندوں کی مخالفت شروع کردی۔

اس دوران طالبان نے ڈبوری کے علاقے میں آباد سو کے قریب شیعہ خاندانوں کو بھی علاقے سے نکال دیا۔ یہ شیعہ خاندان علی خیل قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ شیعہ قبائل سنیوں کے علاقوں میں آباد ہیں۔ ایسے لوگوں کو وہاں ’ہمسایہ‘ کہا جاتا ہے جس کی جان و مال کی حفاظت کے ذمہ دار مقامی قبائل ہوتے ہیں۔

شیعوں کی بیدخلی پر سنی علی خیل نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور غیرمقامی طالبان کو علاقے سے نکالنے اور ان کے خلاف لشکر تشکیل دینے کے لئے جرگے شروع کیے۔

ستمبر میں ایسے ہی ایک جرگہ پر خدی زئی کے علاقے میں نامعلوم خودکش حملہ کیاگیا جس میں علی خیل قبیلے کے سو سے زائد مشران اور قبائل ہلاک ہوگئے۔ اگرچہ اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم اس کا الزام بیت اللہ گروپ پر لگایا جاتا رہا۔ لیکن دوسری طرف بیت اللہ گروپ اس حملے کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔

شدت پسندوں اور علی قبیلے کے آپس میں ٹھن جانے سے ایک مقامی طالبان کمانڈر محمد نبی حنفی عرف نبی ملا بھی بیت اللہ گروپ سے الگ ہوگیا اور اب وہ درپردہ حکومت سے مل گیا ہے۔

اس ’باغی‘ کمانڈر کا تعلق بھی علی خیل سے بتایا جاتا ہے۔ بیت اللہ گروپ نے اس کمانڈر کے خلاف ایک پمفلٹ بھی جاری کیا ہے جس میں اس کے سر کی قیمت پانچ لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس باغی کمانڈر کے ایک اور ساتھی مولانا طیب بھی چند دن پہلے ایک نامعلوم قاتلانہ حملے میں مارے گئے۔ اس قتل کی ذمہ داری بھی ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

اورکزئی ایجنسی میں پہلے دن ہمیں ہر طرف صرف وزیرستان سے تعلق رکھنے والے محسود قبیلے کے جنگجو دکھائی دیے۔ تاہم دوسرے دن جب طالبان کمانڈر حکیم اللہ صحافیوں سے ملاقات کےلیے ماموں زئی کے علاقے ارغنجہ پہنچے تو ان کے ہمراہ اورکزئی کے چند مقامی طالبان بھی تھے لیکن ان کی تعداد انتہائی کم تھی۔ علاقے کا سارا انتظام بھی محسود طالبان کے ہاتھوں میں ہے۔اس کے علاوہ کرم ایجنسی کے طالبان کی بھی ایک گاڑی نظر آئی۔

ہم جدھر بھی گئے لوگوں سے ملاقاتیں کیں لیکن کسی نے طالبان کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ ہمیں لوگوں کے چہروں اور باتوں سے بظاہر محسوس ہوا کہ وہ طالبان سے خوف زدہ ہیں۔

لوئر اورکزئی میں بھی شدت پسندوں کے کئی گروپ سرگرم عمل ہیں۔ یہاں بھی فیروزخیل قبیلے نے عسکریت پسندوں کے خلاف لشکر تشکیل دیا ہوا ہے جبکہ قبائل اور طالبان کے مابین لڑائی کےایک دو واقعات بھی ہوئے ہیں۔

اس علاقے میں درہ آدم خیل کے طالبان بھی سرگرم عمل رہے ہیں۔ یہ علاقہ خیبر ایجنسی کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں انصار الاسلام اور لشکر اسلام کے شدت پسند بھی وقتاً فوقتاً آتے رہے ہیں۔

اورکزئی ایجنسی کل اٹھارہ چھوٹے بڑے قبیلوں پر مشتمل ہے جن میں آٹھ قبیلے اپر اورکزئی ایجنسی میں جبکہ دیگر قبائل لوئر اوکزئی میں آباد ہیں۔ ان میں تین بڑے قبیلے اہل تشیع کے ہیں جو لوئر اورکزئی میں رہ رہے ہیں۔

اٹھارہ قبیلوں میں علی خیل سب سے بڑا قبیلہ سمجھا جاتا ہے اور اس قبیلے کا اثر رسوخ بھی دیگر قبائل کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہ واحد ایجنسی ہے جس کی سرحدیں افغانستان سے نہیں ملتی۔

حکومت کا کردار
ٹرکوں کا اغواء، طالبان کی سیاست
ٹارگٹ وزیرستان
امریکی میزائل حملے اور طالبان کی مقبولیت
ملا وکیلطالبان سے مذاکرات؟
’سعودی عرب کی مدد سے طالبان سے مذاکرات‘
طالبان کا خوف
ایم کیو ایم کہتی ہے کہ طالبان کراچی پہنچ چکے
طالبان سے بات چیت
مذاکرات سے مسائل حل ہوتے نظر نہیں آ رہے
طالبان(فائل فوٹو)’قبائلی رپورٹنگ‘
’طالبان صرف ایک بار پیار سے تنبیہ کرتے ہیں‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد