BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 November, 2008, 15:21 GMT 20:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حملے میں’دو قبائلی سردار ہلاک‘

 باجوڑ طالبان(فائل فوٹو)
لڑائی میں دونوں طرف سے بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے(فائل فوٹو)
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق قبائلی لشکر اور طالبان کے درمیان جھڑپ میں کئی اہم قبائلی سردار ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ طالبان نے لشکر کے پچیس ارکان کو قبضہ میں لینے کا دعوٰی کیا ہے۔

ادھر تحریک طالبان پاکستان نے حکومت کے ساتھ ہر قسم کی امن بات چیت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لیکن باجوڑ ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ شفیر اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ قبائلی لشکر اور طالبان کے مابین ہونی والی جھڑپ میں چار طالبان اور دو قبائلی مشران ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جھڑپ میں دو قبائلی رہنما ملک فضل معبود اور ملک جندر ہلاک جبکہ چار دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فائرنگ میں چار طالبان جنگجوؤں کو بھی مارا گیا ہے۔ سرکاری اہلکار نے بتایا کہ لڑائی اب بند ہو گئی ہے تاہم دونوں جانب سے فریقین بدستور مورچہ زن ہیں۔

باجوڑ ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اتوار کو طالبان کے ایک اہم مرکز تحصیل وڑہ ماموند میں پیش آیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سینکڑوں افراد پر مشتمل قبائلی لشکر اوریہ زئی کے علاقے میں طالبان کے گھروں کو جلا رہا تھا کہ اس دوران بھاری ہتھیاروں سے مسلح عسکریت پسندوں نے لشکر پر حملہ کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ لڑائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی جس میں دونوں طرف سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

ادھر تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے دعوٰی کیا ہے کہ لڑائی میں قبائلی لشکر کے سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پچیس کو حراست میں لیا گیا ہے۔ تاہم باجوڑ ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

مولوی عمر نے کہا کہ طالبان نے اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے سے حل کرنے کی بار بار کوشش کی لیکن لشکر کے رہنما حکومت کے کہنے پر ان کو ختم کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ آئندہ اگر کسی نے طالبان کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی کوشش کی تو اس کا یہی انجام ہوگا۔

طالبان ترجمان نے اعلان کیا کہ ان کی تنظیم آئندہ حکومت سے کسی قسم کے امن مذاکرات نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق حکومت پارلیمان میں تو امن مزاکرات اور جرگہ کی بات تو کرتی ہے لیکن دوسری طرف عام لوگوں کو ان کے خلاف اکسایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس ماہ کے شروع میں بھی باجوڑ ایجنسی کے علاقے سالارزئی میں قبائلی لشکر پر مبینہ خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 19 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے میں طالبان مخالف لشکر کے سربراہ فضل کریم بھی مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں
لوئی سم پر کنٹرول کا دعویٰ
25 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد