BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 December, 2008, 08:02 GMT 13:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بونیر: بم دھماکے میں تینتیس ہلاک

 پاکستان میں ایک حالیہ دھماکے کی تصویر
پاکستان میں ایک حالیہ دھماکے کی تصویر
صوبہ سرحد کے ضلع بونیر میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک انتخابی مرکز کے سامنے ہونے والے کار بم دھماکے میں کم از کم تینتیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

دھماکے سے قریبی عمارتیں گرگئیں جس کے ملبے تلے کئی افراد کے دب جانے کی اطلاعات بھی ہیں اور ہلاکتوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی صبح بونیر کے صدر مقام ڈگر سے تقریبا سات کلومیٹر دور شل بانڈئی کے مقام پر ایک انتخابی مرکز کے سامنے اس وقت پیش آیا جب وہاں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے اٹھائیس میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ جاری تھی۔

تھانہ ڈگر کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ خیز مواد ایک گاڑی میں رکھا گیا تھا جو انتخابی مرکز کے سامنے بنے ہوئے سیاسی جماعتوں کے کیمپوں کے قریب کھڑی کی گئی تھی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس سے وہاں قائم تمام کمیپس گرگئے جبکہ کئی دکانیں بھی زمین بوس ہوگئیں ہیں۔

 بونیر مالاکنڈ ڈویژن کا ایک پہاڑی ضلع ہے جس کی سرحدیں سوات سے ملتی ہے۔ تقریبا چار ماہ قبل بونیر میں مقامی لوگوں نے لشکر تشکیل دیکر چھ مسلح طالبان کو سرعام گولیاں مارکر قتل کیا تھا۔ سوات کے مقامی طالبان نے بعد میں لشکر کے اہم رکن کو ضلع دیر میں گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔

جائے وقوع پر موجود مقامی صحافی شیرین زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ملبے تلے کئی لوگ دبے ہوئے ہیں جن کے نکالنے کا کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر طرف افرتفری اور چیخ و پکار ہے اور لوگ لاشیں نکال رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کے وقت انتخابی مرکز اور اس کے سامنے بنےہوئے سیاسی جماعتوں کے کیمپوں کے قریب بڑی تعداد میں ووٹر اور عام لوگ موجود تھے۔

مقامی تھانے کے ایس ایچ او نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کی جگہ سے اب تک تینتیس افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو ڈگر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد شل بانڈئی اور امنور کے سکولوں میں پولنگ بند کردی گئی تاہم تحصیل عشیری، تحصیل گریزی اور تحصیل امیزی میں پولنگ جاری رہی۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو فون کر کے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ واضح رہے کہ بونیر مالاکنڈ ڈویژن کا ایک پہاڑی ضلع ہے جس کی سرحدیں سوات سے ملتی ہے۔ تقریبا چار ماہ قبل بونیر میں مقامی لوگوں نے لشکر تشکیل دیکر چھ مسلح طالبان کو سرعام گولیاں مارکر قتل کیا تھا۔ سوات کے مقامی طالبان نے بعد میں لشکر کے اہم رکن کو ضلع دیر میں گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔

اسفند یار ولیطالبان کا ’اعتراف‘
’ولی باغ اور ہوتی کے گھر پر حملہ ہم نے کیا‘
پولیس اہلکار مستعفی
طالبان کا خوف، پولیس اہلکاروں کے استعفے
مردے کی بحرمتی
مردے کی حرمت بھی باقی نہیں رہی
طالباناورکزئی، بدلتے حالات
اورکزئی: بیت اللہ کی عوامی حمایت متاثر
مسلم خانطالبان ترجمان
مسلم خان: پیپلزپارٹی سے طالبان تک
اسی بارے میں
بچا کھچا امن غارت ہونے کا دن
08 December, 2008 | پاکستان
’مردے کی بھی حرمت نہیں رہی‘
16 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد