بونیر: بم دھماکے میں تینتیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع بونیر میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک انتخابی مرکز کے سامنے ہونے والے کار بم دھماکے میں کم از کم تینتیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ دھماکے سے قریبی عمارتیں گرگئیں جس کے ملبے تلے کئی افراد کے دب جانے کی اطلاعات بھی ہیں اور ہلاکتوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی صبح بونیر کے صدر مقام ڈگر سے تقریبا سات کلومیٹر دور شل بانڈئی کے مقام پر ایک انتخابی مرکز کے سامنے اس وقت پیش آیا جب وہاں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے اٹھائیس میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ جاری تھی۔ تھانہ ڈگر کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ خیز مواد ایک گاڑی میں رکھا گیا تھا جو انتخابی مرکز کے سامنے بنے ہوئے سیاسی جماعتوں کے کیمپوں کے قریب کھڑی کی گئی تھی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس سے وہاں قائم تمام کمیپس گرگئے جبکہ کئی دکانیں بھی زمین بوس ہوگئیں ہیں۔ جائے وقوع پر موجود مقامی صحافی شیرین زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ملبے تلے کئی لوگ دبے ہوئے ہیں جن کے نکالنے کا کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر طرف افرتفری اور چیخ و پکار ہے اور لوگ لاشیں نکال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کے وقت انتخابی مرکز اور اس کے سامنے بنےہوئے سیاسی جماعتوں کے کیمپوں کے قریب بڑی تعداد میں ووٹر اور عام لوگ موجود تھے۔ مقامی تھانے کے ایس ایچ او نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کی جگہ سے اب تک تینتیس افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو ڈگر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد شل بانڈئی اور امنور کے سکولوں میں پولنگ بند کردی گئی تاہم تحصیل عشیری، تحصیل گریزی اور تحصیل امیزی میں پولنگ جاری رہی۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو فون کر کے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ واضح رہے کہ بونیر مالاکنڈ ڈویژن کا ایک پہاڑی ضلع ہے جس کی سرحدیں سوات سے ملتی ہے۔ تقریبا چار ماہ قبل بونیر میں مقامی لوگوں نے لشکر تشکیل دیکر چھ مسلح طالبان کو سرعام گولیاں مارکر قتل کیا تھا۔ سوات کے مقامی طالبان نے بعد میں لشکر کے اہم رکن کو ضلع دیر میں گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔ |
اسی بارے میں طالبان کا خوف، پولیس اہلکار مستعفی08 November, 2008 | پاکستان حملے میں’دو قبائلی سردار ہلاک‘16 November, 2008 | پاکستان بچا کھچا امن غارت ہونے کا دن 08 December, 2008 | پاکستان ’مردے کی بھی حرمت نہیں رہی‘16 December, 2008 | پاکستان طالبان مخالف لشکر سربراہ ہلاک14 December, 2008 | پاکستان نیٹو کنٹینر پر حملے کے ذمہ داری26 December, 2008 | پاکستان طالبات پر پابندی، طالبان کی لاتعلقی26 December, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||