BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 December, 2008, 09:34 GMT 14:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبات پر پابندی، طالبان کی لاتعلقی

سوات
مینگورہ سے خوازہ خیلہ اور تحصیل مٹہ تک نافذ کردہ کرفیو چوتھے روز بھی برقرار رہا
تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی قیادت نےگزشتہ روز ضلع سوات کے طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی کے اعلان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلہ کو واپس لینے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

طالبان ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ سوات میں لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی کا فیصلہ وہاں کی مقامی قیادت نے کیا ہے لہذا تحریکِ طالبان کی مرکزی قیادت کا اس سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ طالبان کی مرکزی قیادت نے سوات کے طالبان رہنماؤں سے رابطہ کیا ہے تاکہ انہیں یہ فیصلہ واپس لینے پر آمادہ کیا جا سکے۔ا ن کے بقول تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنانا طالبان کی جنگی حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے لیکن صرف ان سکولوں اور مقامات پر حملے کیے جاتے ہیں جنہیں سکیورٹی فورسز فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔

گزشتہ روز طالبان کی طرف سے لڑکیوں کے سکولوں پر پندرہ جنوری کے بعد پابندی کے اعلان کے بعد جمعہ کو صدر مقام مینگورہ میں تمام سکول کھلے رہے اور لڑکیوں کو سکول جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

ادھر سوات میں ہی دو مختلف واقعات میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ بیشتر علاقوں میں گزشتہ چار روز سے جاری کرفیو بدستور برقرار ہے۔سوات میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تحصیل خوازہ خیلہ کے علاقے چہارباغ میں دو مقامی افراد کی لاشیں ملی ہیں جنہیں گزشتہ شب نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

چہار باغ ہی میں لوگوں کے مطابق ایک شخص مبینہ طور سکیورٹی فورسز کی جانب سے داغے گئے گولے کا نشانہ بنا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گن شپ ہیلی کاپٹروں نے جمعہ کی دوپہر کو چہارباغ کے بعض علاقوں پر گولہ باری ہے جس میں ابھی تک کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

سوات کے صدر مقام مینگورہ سے خوازہ خیلہ اور تحصیل مٹہ تک نافذ کردہ کرفیو چوتھے روز بھی برقرار رہا جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ادھر صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے گنج گیٹ کے علاقے میں سی ڈی فروخت کر نے والی بعض دکانوں کو جمعہ کی صبح دھماکہ کا نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں پانچ دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

اسی بارے میں
پشاور پولیس اور امن و امان
23 December, 2008 | پاکستان
صوبہ سرحد میں راکٹ حملے
23 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد