BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 January, 2009, 22:39 GMT 03:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات:’موثر فوجی آپریشن کیا جائے‘

اسلام آباد میں مظاہرہ
’علاقے میں صورتحال حکومتی دعوے کے بالکل برعکس ہے‘
اسلام آباد کی سول سوسائٹی نے سوات میں مقامی طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کی مسلسل ناکامی پراحتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں امن قائم کرنے کے لیے سنجیدگی سے موثر فوجی کارروائی کی جائے ۔

سوموار کو اسلام آباد کی سول سوسائٹی کے اراکین نے آبپارہ چوک سے پریس کلب تک سوات میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور فوجی آپریشن کی ناکامی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

اس موقع پر سول سوسائٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سوات میں صرف فوج کی موجودگی نہیں چاہیے بلکہ وہاں امن و امان قائم کرنے کے لیے حکومت سنجیدگی سے فوجی کارروائی کرے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سول سوسائٹی کے رکن خادم حسین نے کہا کہ سوات میں نومبر دو ہزار سات میں سوات میں فوجی کارروائی شروع کرتے وقت اعلان کیا گیا تھا کہ دو ہفتوں کے اندر علاقے سے شدت پسندوں خاتمہ کر دیا جائے گا۔ تاہم اب علاقے میں صورتحال حکومتی دعوے کے بالکل برعکس ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج نے سوات میں امن قائم کرنے کی بجائے اسے عملی طور پر مقامی طالبان کے حوالے کر دیا ہے۔ ان کے مطابق سوات میں حالات یہ ہیں کہ لوگوں کو سرعام ذبح اورگولیوں سے ہلاک کیا جا رہا ہے اور لاکھوں لوگ مقامی طالبان کی شدت پسند کارروائیوں کی وجہ سے علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔

خادم حسین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سوات میں موجود فوج کو مقامی طالبان کے خلاف بھرپور کاروائی کے لیے استعمال کیا جائے اور ایک واضح ٹائم فریم دیا جائے کہ علاقے میں امن و امان قائم کرنے کے لیے کتنا عرصہ درکار ہو گا۔

مظاہرے میں شامل احسان سوات میں امن و امان کی ابتر صورحال کی وجہ سے چند روز پہلے اہلخانہ کے ساتھ نقل مکانی کر کے اسلام آباد آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سوات میں میں مقامی طالبان نے دھمکی دی ہے کہ پندرہ جنوری تک بچیوں کے تمام سکول بند کر دیے جائیں گے جبکہ علاقے میں پہلے ہی بچوں کے ڈیڑھ سو سکول تباہ ہو چکے ہیں اور ایک ہزار بند پڑے ہیں۔

سول سوسائٹی کے اراکین نے آبپارہ چوک سے پریس کلب تک مارچ کیا

احسان کے مطابق سوات میں پچاس ہزار مسلح سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں بڑوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ تو اپنی جگہ لیکن بچوں کے سکول بند ہونے پر ان کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے جبکہ طالبان کی جانب سے بچیوں کے سکول بند کرنے کی مسلسل دھمکیوں کے باوجود حکومت کی طرف سے بھی کوئی حوصلہ افزاء بیان نہیں آیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مقامی طالبان روزانہ معصوم لوگوں کو ہلاک اور سکولوں کو بم دھماکوں سے تباہ کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے علاقے میں فوج کا کردار مشکوک ہو گیا ہے اور سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ فوج علاقے میں ہمارے تحفظ کے لیے ہے یا عسکریت پسندی کو فروغ دینے کے لیے موجود ہے ۔

واضح رہے کہ صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں مقامی طالبان کے خلاف ایک سال سے زائد عرصے سے جاری فوجی آپریشن کے دوران ہی طالبان نے بعض علاقوں پر قبضہ کر کے مبینہ طور پر متوازی حکومت قائم کرلی ہے جبکہ غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق علاقے سے تقریباً تین لاکھ لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں
سوات سے لاشیں برآمد
05 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد