BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 January, 2009, 09:29 GMT 14:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات سے لاشیں برآمد

سوات فائل
سکیورٹی فورسز کی طرف سے پندرہ دن کے آپریشن کے بعد پہلی بار کرفیو اٹھا لیا گیا
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ دو مزید افراد کی لاشیں ملی ہیں جنہیں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اس قسم کے واقعات میں تیس سے زائد افراد کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔

سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح صدر مقام مینگورہ کے مصروف علاقوں گرین اور سہراب خان چوکوں میں دو نامعلوم افراد کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں جنہیں گولیاں ماری گئی ہیں۔

پولیس نے دونوں لاشیں سیدو شریف ہپستال منتقل کرکے وہاں شناخت کےلیے رکھ دی ہے۔ گزشتہ روز بھی مینگورہ شہر اور تحصیل مٹہ سے دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد کی لاشیں ملی تھیں جن میں دو کے سرقلم کئے گئے تھے۔

سوات میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے سر قلم کر کے ان کی لاشیں دن دہاڑے چوکوں اور چوراہوں پر رکھنے اور لٹکانے کا سلسلہ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے جس میں مقامی ذرائع کے مطابق تیس سے زائد افراد کو مارا جاچکا ہے۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ سوات میں گزشتہ دو ماہ کے دوران مجموعی طورپر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ڈھائی سو سے زائد افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔

ادھر تحصیل مٹہ کے علاقے شکردرہ میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے پندرہ دن کے آپریشن کے بعد پہلی بار کرفیو اٹھالیا گیا ہے۔

سوات میڈیا سنٹر کے ترجمان کے مطابق آپریشن کے بعد شکر درہ کو شدت پسندوں سے صاف کرکے وہاں حکومت کی عمل داری بحال کردی گئی ہے۔

اسی بارے میں
باجوڑ، سوات تشدد چھ ہلاک
01 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد