BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 January, 2009, 11:32 GMT 16:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات:سکولوں پر حملہ، پیر ہلاک

ایک تباہ شدہ سکول(فائل فوٹو)
نجی تعلیمی اداروں نے بھی کہا ہے کہ فروری کے اوائل میں سردیوں کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد سکول نہیں کھلیں گے
صوبہ سرحد میں تعلیمی اداروں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ واقعات میں ضلع سوات اور بنوں میں دو مزید سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب نامعلوم افراد نے مینگورہ کی نواح میں واقع لڑکوں کے ہائی سکول کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے بقول دھماکے کے نتیجے میں سکول کے سات کمرے اور ایک ہال مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

ضلع بنوں میں بھی لڑکیوں کے ایک ہائی سکول کو گزشتہ شب تقریباً بارہ بجے دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا ہے جس میں صرف ایک ہی کمرہ تباہ ہوا ہے۔ بنوں کے ضلعی پولیس آفیسر عالم خان شنواری نے واقعہ کی تصدیق کی اور کہا کہ آج سکول کھلا رہا۔

صوبے کے مختلف علاقوں میں تعلیمی اداروں کو کئی سالوں سے نشانہ بنایا جارہا ہے تاہم سب سے زیادہ سکول ضلع سوات میں تباہ کیے گئے ہیں جن کی تعداد ایک سو چالیس کے قریب بتائی جاتی ہے۔

سوات میں طالبان نے پندرہ جنوری کے بعد لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگانے کا جو اعلان کیا تھا اس کے بعد نجی تعلیمی اداروں نے بھی کہا ہے کہ فروری کے اوائل میں سردیوں کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد سکول نہیں کھلیں گے۔

پیر کی ہلاکت
پشاور کی نواح میں واقع بڈھ بیر کے علاقے سے پولیس کو ایک پیر کی لاش ملی ہے جنہیں گلا کاٹ کر قتل کر دیا گیا ہے۔

ضلع نوشہرہ کے تھانہ پبی کے ایس ایچ او رشید مروت نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر رفیع اللہ کو جمعہ کو تارو جبہ کے علاقے سید گلاب آباد میں واقع اپنے گھر سے نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ان کی سربریدہ لاش سنیچر کی صبح پشاور کی نواح میں بڈھ بیر کے علاقے سے ملی ہے۔

ان کے بقول لاش کے پاس سے ایک خط بھی ملا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پیر رفیع اللہ مبینہ طور پر تعویذ گنڈے کے کاروبار سے منسلک تھے اور انہیں دھمکی دی گئی تھی کہ وہ یہ کاروبار ترک کر دیں۔ان کےمطابق خط میں یہ نہیں لکھا گیا ہے کہ انہیں کس تنظیم یا گروپ نے قتل کیا ہے۔

اس واقعہ کے بعد پیر رفیع اللہ کے درجنوں مریدوں نے احتجاجاً جی ٹی روڈ کو بند کر دیا تاہم مذاکرات کے بعد اسے کھول دیا گیا۔

یاد رہے کہ صوبہ سرحد میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کے دوران پیروں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ بھی کافی عرصے سےجاری ہے۔ اس سے قبل سوات میں بھی طالبان نے پیر سمیع اللہ کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش قبر سے نکال کر کھمبے پر لٹکا دی تھی۔

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں مقامی شدت پسند تنظیم لشکرِ اسلام پیری مریدی پر یقین رکھنے والی مقامی تنظیم انصار السلام کے ساتھ گزشتہ کئی سالوں سے برسرِ پیکار ہے جس کے دوران سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
سوات تشدد میں پانچ ہلاک
16 January, 2009 | صفحۂ اول
سوات: طالبان کی ’معافی‘
16 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد