’روز وہی لاشوں کا کاروبار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عام دنوں میں کسی بھی رپورٹر کے لیے حاضری لگانے کےلیے سب سے بڑی خبر وہ سمجھی جاتی ہے جس میں زیادہ ہلاکتیں ہوتی ہیں، جب کوئی بڑا بم دھماکہ یا خودکش حملہ ہوتا ہے یا جب سکیورٹی فورسز کوئی بڑی کارروائی کرتی ہیں کیونکہ ان سب صورتوں میں اس کی خبر زیادہ نمایاں طور پر لگ جاتی ہے۔ روزانہ ہی وہی بم دھماکے، خودکش حملے، سربریدہ لاشوں کے ملنے اور لٹکانے کے واقعات، سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، گلے کاٹنا ، لاشوں کو سڑک کے کنارے پھینکنا اور طالبان کے دعوے وغیرہ اور ان واقعات میں کمی نہ ہونا بلکہ روز بروز اضافہ ہونا۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ اگر ان علاقوں سے اب دو تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملتی ہے تو اس پر کوئی توجہ بھی نہیں دیتا کیونکہ جب روز ہی پانچ سے دس افراد یا زیادہ مارے جاتے ہوں اور ایک دن کی بات نہ ہوں بلکہ یہ سلسلہ مہینوں پر محیط ہوں تو ایسے میں دو تین افراد کی ہلاکت کو کون اہمیت دے گا۔ قبائلی علاقوں اور سوات میں تشدد کے واقعات میں گزشتہ دو سالوں کے دوران جس حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اگر اس کا موجودہ حالات میں جائزہ لیا جائے تو اسے تشدد کی انتہا کہا جا سکتا ہے۔ صبح اٹھتے ہی ٹیلی ویژن لگاتے ہیں تو ناشتے سے پہلے ہی قبائلی علاقوں میں رات کے وقت پیش آنے والے کسی نہ کسی واقعہ کی اطلاع مل جاتی ہے۔ اگر کہیں کچھ بھی نہ ہو تو سوات میں تو ضرور کسی نے کسی علاقے سے دو تین لاشیں ملی ہوتی ہیں، کوئی سکول جلا ہوتا ہے، سکیورٹی فورسز نے بمباری کی ہوتی ہے یا طالبان نے ایک دو سکیورٹی اہلکاروں کے سر قلم کیے ہوتے ہیں۔
پھر جونہی دفتر کی طرف جانے لگتے ہیں تو راستے ہی میں ٹیلی فون کالز آنے شروع ہوجاتے ہیں۔ کوئی مہمند ایجنسی سے فون کر رہا ہے تو کوئی خیبر، باجوڑ اور ہنگو سے ڈائل کر رہا ہے۔ اس دوران طالبان کے ترجمان مولوی عمر یا مسلم خان بھی فون ملانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں ہے کیونکہ وہ بھی رات کے وقت کیے گئے اپنے حملوں کے بارے میں میڈیا کو بتانا چاہتے ہیں۔ غرض ان تمام ٹیلی فون کالز میں آپ کو کہیں سے بھی کوئی اچھی خبر نہیں ملے گی۔ ہر طرف سے ایک ہی بات دہرائی جائے گی ’مہمند ایجنسی میں ساٹھ عسکریت پسند مارے گئے، باجوڑ میں سکاؤٹس قلعے پر راکٹ داغے گئے ہیں جس میں پانچ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، ہنگو میں تیس افراد مارے گئے، سوات میں طالبان نے دو لاشوں کو لٹکایا اور دھمکی دی ہے کہ اگر کسی نے ان کو شام تک اتارا تو ان کا انجام بھی ایسا ہوگا، ہم دو سکیورٹی اہلکاروں کی سرقلم کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ‘۔ دفتر میں ایک کہانی بھیجتے ہیں تو کسی اور علاقے سے کسی بڑے واقعہ کی اطلاع ملتی ہے۔ اس پر کام مکمل کر کے ای میل کرتے ہیں تو اس دوران ان دو کہانیوں میں ہی کسی ایک میں ہونے والی ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس طرح صبح سے لے کر شام تک روزانہ ہلاکتیں، خودکش حملے، دھماکے اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ایک معمول بن گیا ہے۔ ان واقعات کا سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو اس وقت سامنے آتا ہے جب آپ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ بمباری میں معصوم شہری نشانہ بن رہے ہیں، ناکردہ گناہوں کی پاداش میں لوگ گھر بار چھوڑ رہے ہیں اور اپنے ہی ملک میں مہاجر بننے پر مجبور ہیں، ان کے کاروبار تباہ ہو رہے ہیں، معصوم اور ننھی منی بچیوں پر سکولوں کے دورازے بند کر کے انہیں زبردستی پستی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے لیکن حکومت یا سکیورٹی ادارے یا انتظامیہ اس کا نوٹس بھی نہیں لے رہے ہیں۔ یہ بھی متعین نہ ہو کہ آخر یہ تشدد کس چیز کے نام پر کیا جارہا ہے، خون کی اس ندی میں کب تک اور مزید لوگ مارے جائیں گے، یہ تشدد کب تک جاری رہے گا اور اس کا انجام کیا ہوا؟ ایسے حالات میں رپورٹر ذہنی تناؤ کا شکار نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟ |
اسی بارے میں سکولوں کی تباہی، سلسلہ جاری21 January, 2009 | پاکستان سوات: 261 سکولوں میں تعلیم نہیں22 January, 2009 | پاکستان فیکٹری پر شیلنگ، چار ہلاک22 January, 2009 | پاکستان طالبان کمانڈروں کی ہلاکت کا دعویٰ22 January, 2009 | پاکستان سوات: مارٹرگولہ گرنے سے ہلاکتیں23 January, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||